ایک پارٹی جس نے کبھی اپنا صدر مملکت اور وزیر اعظم مقرر کیا تھا اب تحصیلدار کی تقرریوں پر لڑ رہی ہے/ وحید پرہ
سرینگر// حکمران نیشنل کانفرنس پر تنقید کرتے ہوئے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے لیڈر اور ممبر اسمبلی پلوامہ وحید الرحمان پر ہ نے کہا کہ این سی نے ریاست کی بحالی کے بجائے افسران کے تبادلے کے اختیارات پر توجہ مرکوز کی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر میں ایک پارٹی جس نے کبھی اپنا صدر مملکت اور وزیر اعظم کا تقرر کیا تھا اب تحصیلدار کی تقرریوں پر لڑ رہی ہے۔ سی این آئی کے مطابق ایکس پر ایک پوسٹ میں ممبر اسمبلی پلوامہ وحید الرحمان پرہ نے لکھا ’’ این سی نے ریاست کی بحالی کے بجائے افسران کے تبادلے کے اختیارات پر توجہ مرکوز کی ہے ‘‘ ۔انہوں نے مزید لکھا ’’پارٹی اگست 2019 کے بعد نافذ کی گئی تبدیلیوں کی مزاحمت کرنے کے بجائے افسران کے تبادلے کے اختیارات پر توجہ مرکوز کر رہی ہے‘‘۔پرہ نے لکھا ’’ جموں و کشمیر میں ایک پارٹی جس نے کبھی اپنا صدر مملکت اور وزیر اعظم کا تقرر کیا تھا اب تحصیلدار کی تقرریوں پر لڑ رہی ہے، گول پوسٹ صرف شفٹ نہیں ہو رہے ہیں، وہ چٹان کی تہہ تک پہنچ چکے ہیں۔50ممبر اسمبلی متحد ہو گئے، 5 اگست کی مزاحمت کے لیے نہیں، بلکہ صرف 5 اگست کی علامات پر کے اے ایس کے ٹرانسفر کیلئے ؟۔ ‘‘ انہوں نے نیشنل کانفرنس پر جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے اور اسے معمول پر لانے کا الزام لگایا۔پرہ نے لکھا ’’ آپ نے 5 اگست کو ہتھیار ڈالنے اور معمول پر لانے سے شروع کیا، ان سے یہ توقع کی کہ وہ آپ کو سہولت فراہم کریں گے کیونکہ آپ نے انہیں سہولت فراہم کی ہے۔ اگر صرف آپ نے موقف اختیار کیا ہوتا، اپنا ایڈووکیٹ جنرل مقرر کیا ہوتا، پانچ ممبران اسمنلی کو نامزد کیا ہوتا، اور دفعہ 370 قرارداد و ریاست کی بحالی کیلئے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا جاتا، تبادلے آپ کے ہاتھوں میں ہوتے۔ ‘‘ انہوں نے مزید لکھا ’’آپ نے 13 جولائی (یوم شہدا کی چھٹی، جسے 2019 میں ختم کر دیا گیا تھا) کیلئے کھڑے ہونے سے انکار کر دیا تھا، اور وقف بل صرف خالی بیان بازی تھی، اب وہی کابینہ جس نے انہی بیوروکریٹس کو ایک ماہ کے اسمبلی اجلاس میں جواز فراہم کیا، ان کے بارے میں شکایت کر رہی ہے؟۔ ‘‘










