267 دیہات ہنوز کھلی جگہ پر پیشاب و پاخانہ سے پاک ندارد

267 دیہات ہنوز کھلی جگہ پر پیشاب و پاخانہ سے پاک ندارد

ٹھوس و رقیق فضلہ کو ٹھکانے لگانے کیلئے150 دیہی پنچایتیںبھی دائرے میں نہیں

سرینگر// سوچھ بھارت مشن کے تحت جموں کشمیر میں ہنوز267دیہی علاقوں کو ’کھلی جگہ پر پیشاب و پاخانہ سے پاک‘ سے قرار دیا جانا باقی ہے۔2 اکتوبر 2014 کو سوچھ بھارت مشن کو ایک قومی تحریک کے طور پر شروع کیا گیا۔ اس مہم کا مقصد 2 اکتوبر 2019 تک’صاف بھارت‘کے نظریہ کو حاصل کرنا تھا،تاہم جموں کشمیر کے کئی علاقوں میں ابھی بھی سوچھ بھارت مشن کے تما مقصد کو مکمل طور پر پائے تکمیل تک نہ پہنچانے کا انکشاف ہوا ہے۔ وائس آف انڈیا کے مطابق سرکاری دستاویزات کے مطابق ابھی بھی مجموعی طور پر272ایسے علاقے ہیں جن میںٹھوس فضلہ کو ٹھکانے لگانے جبکہ267علاقوں میں رقیق فضلہ کو ٹھکانے لگانے کا انتظام نہیں کیا گیا ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق جموں کشمیر میں6216دیہی علاقوں کو سوچھ بھارت مشن کے اندر لایا گیا ہے جن میں5949 علاقوں کو کھلی جگہ پر پیشاب و پاخانہ سے پاک قرار دیا گیا ہے جبکہ5949علاقوں میں رقیق فضلہ کو ٹھکانے لگانے کئے انتظامات ہے۔ اعداد شمار کے مطابق2اضلاع کو کھلی جگہ پیشاب و پا خانہ سے پاک قرار دیا گیا جبکہ ایک ضلع کوکھلی جگہ پر پیشاب و پاخانہ سے پاک کے علاوہ ٹھوس و رقیق فضلہ کو ٹھکانے لگانے کا اہل قرار دیا گیا۔ خطہ کے285بلاکوں میں سے198بلاکوں کوکھلی جگہ پر پیشاب و پاخانہ سے پاک اور182بلاکوں کو’ا? ڈی ایف پلس ماڈل قرار دیا گیا ہے۔ جموں کشمیر میں مجموعی طور پر3909دیہی پنچایتیں ہیں جن میں سے3666کوکھلی جگہ پر پیشاب و پاخانہ سے پاک اور3369کو کھلی جگہ پر پیشاب و پاخانہ سے پاکو فضلہ کو ٹھکانے کیلئے اہل پنچایتیں قرار دیا گیا۔تاہم150ایسی دیہی پنچایتیں موجود ہیں جو ابھی دائرے میں نہیں لائی گئی ہیں۔بڈگام،ڈوڈہ،جموں،کپوارہ،پونچھ،پلوامہ،راجوری،سرینگر،ادھمپور،کشتواڑ،رام بن،بانڈی پورہ،سامبا اور شوپیاں ایسے اضلاع ہے جہاں پر کوئی بھی گا?ں یا دیہات نہیں ہے جو ابھرتا ہوا گاوں ہے اورکھلی جگہوں میںپیشاب و پاخانہ سے پاک ہونے کے ساتھ ساتھ ٹھوس اور مائع فضلے کو بھی بہتر طریقے سے ٹھکانے لگانے کا انتظام کرتا ہے۔تاہم ریاسی اور کولگام میں 2،دو اورکھٹوعہ،بارہمولہ اور اننت ناگ میں ایسے تین تین علاقے موجود ہے جو کھلی جگہوں پر پیشاب اور پاخانہ سے پاک ہونے ساتھ ساتھ ٹھوس و رقیقی فضلہ وک ٹھکانے لگانے کی طاقت بھی رکھتے ہیں۔ کھلی جگہوں پر پیشاب اور پاخانہ سے پاک ہونے ساتھ ساتھ ٹھوس و رقیقی فضلہ وک ٹھکانے لگانے والے اضلاع میں کشتواڑ کے156علاقوں میں139کی نشاندہی کی گئی ہے تاہم صرف 42کی تصدیق کی جاچکی ہے جبکہ بارہمولہ ضلع میں518دیہاتوں میں سے499کی نشاندہی کی گئی مگر381کی تصدیق کی گئی ہے۔ دستیاب اعداد شمار کے مطابق راجوری کے365علاقوں میں اگرچہ363کی نشاندہی کی گئی مگر280کو ہی تصدیق کیا گیا اور ڈوڈہ کے394دیہاتوں میں358کی نشاندہی کرنے کے باوجود319کو ہی تصدیق کیا گیا۔ اننت ناگ میں349دیہاتوں میں34اور گاندربل کے129دیہاتوں میں سے21علاقوں کے علاوہ جموں کے758علاقوں میں سے63علاقوں کی تصدیق کرنا باقی ہے۔سامبا میں35،رام بن میں23،شوپیاں میں15،کپوارہ میں32،پلوامہ میں16،بانڈی پورہ میں7،بڈگام میں8،پونچھ میں6،کولگام میں35,کھٹوعہ میں31،ادھمپور میں33 علاقوں کی’آڈیا یف پلس ماڈل‘ علاقے کے طور پر تصدیق کرنا ابھی باقی ہے۔