کلکتہ : وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے کل رات 27 مارچ کوآکسفورڈ یونیورسٹی میں خطاب کے دوران ہنگامہ آرائی اوراحتجاج پر نہ صرف قابو پایا بلکہ انتہائی تحمل کے ساتھ ہر ایک سوال کا جواب دیا۔ممتا بنرجی پر رریپ کے مجرم کو معافی دینے کے الزام عائدکیاگیا۔ بائیں بازو کی اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا نے بعد میں کہا کہ اس کی برطانیہ شاخ کے ممبران نے احتجاج کیا تھا۔ممتا بنرجی جب خطاب کررہی تھیں تو اس وقت چند نوجوانوں نے احتجاج کرنا شروع کردیا۔اس دوران ممتا بنرجی ہرایک سوال کا جواب دینے کی کوشش کی،بعد میں سامعین نے مظاہرین کی حرکت پر ناراضگی ظاہرکرنا شروع کردیا توانہیں ہال سے نکلنا پڑا۔ممتا بنرجی آکسفورڈ کے کیلوگ کالج کے صدر نے ممتابنرجی سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ وہ چند نوجوانوں کے غیر اخلاقی رویہ پر معافی مانگتے ہیں۔سامعین میں طلبا کے علاوہ کئی پروفیسر اور صنعت کار موجود تھے ۔یہ صورت حال آکسفورڈ کیلئے بالکل نئی تھی مگر ہندوستانی سیاست کا تجربہ رکھنے والے کچھ لوگوں نے تبصرہ کیا کہ یہ سب کولکتہ میں انتخابی مہم کے معیار کے مطابق تھا۔مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ کو خواتین کو بااختیار بنانے کے بارے میں بات کرنے کیلئے مدعو کیا گیا تھا۔ انہوں نے 45 منٹ تک پراعتماد طریقے سے بات کی، بنیادی طور پر بغیر کسی نوٹ کے اپنی بات رکھی۔ پھر کالج کے ایک فیلو، بزنس مین کرن بلیموریا کے سوالات کا جواب دیا۔تاہم ممتا بنرجی کے خطاب میں انتخابی ریلی کا لہجہ اکیڈمک پریزنٹیشن سے زیادہ تھا۔ممتا بنرجی نے اپنے 14سالہ دور اقتدار کی کامیابی اور پالیسی کا ذکر کیا اور کہا کہ ان کی حکومت بغیر کسی تفریق کے ہر ایک شہری کے مفاد کیلئے کام کرتی ہے ۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ کیا آپ کلکتہ میں کیمپس قائم نہیں کر سکتے ؟۔انہوں نے کہا کہ میں آپ کو زمین دے سکتی ہوں۔ اور ہمارے پاس طلباء ہیں۔”ممتا بنرجی کی تقریر سننے کیلئے بڑی تعداد میں برطانیہ کے مختلف علاقے سے لوگ جمع ہوئے تھے ۔آکسفورڈ میں انہوں نے دنیا کی مشہور بوڈلیائی لائبریری کا معائنہ کیا۔انہوں نے آکسفورڈ کے ماہرین تعلیم کے ایک گروپ کے ساتھ آدھے گھنٹے کی نجی بات چیت بھی کی۔ممتا بنرجی کی تقریر کے بعد سامعین نے کہا کہ وہ چیف منسٹر کے صاف گو اور پراعتماد انداز کے ساتھ ساتھ تنقیدی یا لفظی سوالات سے نمٹنے کے طریقے سے بہت متاثر ہوئے ہیں۔ممتا بنرجی نے جان بوجھ کر پارٹی کے سیاسی نکات بات کرنے سے گریز کیاانہوں نے کہا کہ ملک سے باہر ہونے پر یہ نامناسب ہوگا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ اپنے ملک کا مستقبل کیسے دیکھتی ہیں، تو انہوں نے اس سوال کو مسترد کرتے ہوئے بلیموریا کو جواب دیاکہ میں بھی آپ کے ملک کو ترقی کرتا ہوا دیکھنا چاہتی ہوں۔










