nasir aslam wani

ریاستی درجے کی بحالی ہماری اولین ترجیح// ناصر اسلم

جموں و کشمیر سے حقیقی محبت رکھنے والے 20 جولائی کو جنتر منتر پہنچے

سرینگر// وزیر اعلیٰ کے مشیر اور نیشنل کانفرنس کے سینئر رہنما ناصر اسلم وانی نے کہا ہے کہ پارٹی کا 20 جولائی کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر مجوزہ پروگرام ہر حال میں منعقد ہوگا، خواہ اس کے لیے اجازت ملے یا نہ ملے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ واقعی جموں و کشمیر سے محبت کرتے ہیں اور یہاں کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، وہ اس پروگرام میں ضرور شریک ہوں گے۔سری نگر میں نیشنل کانفرنس کے ہیڈکوارٹر ’’نوائے صبح‘‘ میں مرحوم ڈاکٹر شیخ مصطفیٰ کمال کی یاد میں منعقدہ تعزیتی اجتماع کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ناصر اسلم وانی نے کہا کہ پارٹی قیادت اور کارکنان پروگرام سے قبل نئی دہلی پہنچیں گے، جبکہ احتجاج کے شیڈول کی تفصیلات مناسب وقت پر جاری کی جائیں گی۔یو این ایس کے مطابق راہل گاندھی، پرینکا گاندھی سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو دعوت دیے جانے سے متعلق سوال پر وانی نے کہا کہ 20 جولائی کو خود واضح ہو جائے گا کہ کون جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ ریاست کے عوام کے درد کو سمجھتے ہیں اور ان کے حقوق کی حمایت کرتے ہیں، وہ جنتر منتر میں نیشنل کانفرنس کے ساتھ نظر آئیں گے۔ ناصر اسلم وانی نے کہا کہ جموں و کشمیر کی آئینی حیثیت اور عوام سے چھینی گئی آئینی ضمانتوں کی بحالی نیشنل کانفرنس کا بنیادی مقصد ہے، جبکہ ریاستی درجے کی بحالی اس مقصد کے حصول کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے ایک منتخب حکومت کے حق میں ووٹ دیا ہے، نہ کہ دوہری اقتدار کے نظام کے لیے۔اس موقع پر انہوں نے مرحوم ڈاکٹر شیخ مصطفیٰ کمال کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں ایک منکسرالمزاج رہنما، مدبر سیاست دان اور مذہبی علوم کے ماہر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر کمال کو جموں و کشمیر کی سیاسی تاریخ پر گہری دسترس حاصل تھی اور وہ پارٹی قیادت و کارکنان کی رہنمائی کرتے رہے۔ ان کے انتقال کو نیشنل کانفرنس کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیتے ہوئے وانی نے کہا کہ ان کی کمی کو پورا کرنا آسان نہیں ہوگا۔