جے کے پی ایس سی میں 181 میڈیکل اَفسرا ن کیلئے بھرتیوں کا عمل جاری
جموں//وزیر برائے صحت و طبی تعلیم سکینہ اِیتو نے آج کہا کہ رام نگر حلقہ میں ڈاکٹروں، پیرا میڈیکل سٹاف اور نان گزیٹیڈ عملے کی 252 منظور شدہ اَسامیوں میں سے 142پُر کی جاچکی ہے جبکہ مزید 101 ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل سٹاف کو قومی ہیلتھ مشن کے تحت تعینات کیا گیا ہے تاکہ دُور دراز علاقوں میں طبی سہولیات کو بہتر بنایا جا سکے۔وزیرموصوفہ ایوان میں آج رُکن اسمبلی ڈاکر سنیل بھرد واج کی طرف سے اُٹھائے گئے ایک سوال کا جواب دے رہی تھیں۔اُنہوں نے ایوان کو آگاہ کیا کہ 365 نئے تعینات شدہ میڈیکل اَفسران میں سے 17 کو اودھمپور میں تعینات ہے جبکہ جموںوکشمیر پبلک سروس کمیشن( جے کے پی ایس سی)میں 181 میڈیکل اَفسران کے اَسامیوں کے لئے اِنتخاب کا عمل ابھی بھی جاری ہے ۔اُنہوں نے مزید کہاکہ جیسے ہی اُن کے اِنتخاب کا عمل مکمل ہوگا، انہیں اُن طبی اداروں میں تعینات کیا جائے گا جہاں عملے کی شدید کمی ہے۔وزیر موصوفہ نے بتایا کہ 91 منتخب میڈیکل اَفسران کی تقرری کے ویٹنگ لسٹ پر بھی کام جاری ہے۔اُنہوں نے کہا کہ دائریکٹوریٹ آف فیملی ویلفیئر سے نان گزیٹیڈ ، پیرا میڈیکل زُمروں میں 292 اَسامیاں اور ڈائریکٹوریٹ آف ہیلتھ سروسز سے 290 نان گزیٹیڈ اور پیرا میڈیکل عملے کی اسامیاں جموں و کشمیر سروسز سلیکشن بورڈ کو بھیجی گئی ہیں تاکہ صحت شعبے کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔وزیر صحت نے رام نگر حلقے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ 51 طبی ادارے منظور شدہ ہیں جن میں سے 19 سرکاری عمارتوں میں، 29 کرائے کی عمارتوں میں اور 3 دیگر محکمانہ عمارتوں میں کام کر رہے ہیں۔اُنہوںنے کہا کہ 9 طبی اِداروں میں تعمیر و مرمت کا کام شروع کیا گیاجن میں سے 6 مکمل ہو چکے ہیں اور 3 پر کام جاری ہے۔ اِس کے علاوہ ای۔سنجیونی، ٹیلی۔ریڈیالوجی، ٹیلی۔مانس اور قومی صحت مشن سکیموں جیسے پردھان منتری ابھیم ( اے بی ایچ آئی ایم )اور پی ایم جے اے وائی۔صحت (پی ایم جے اے وائی۔ ایس اِی ایچ اے ٹی) کی عمل آوری سے صحت خدمات کو مزید مستحکم کیا جا رہا ہے۔وزیر موصوفہ نے مزید کہا کہ مرکزی وزارت صحت و خاندانی بہبود کی 2023 کی رپورٹ کے مطابق جموں و کشمیر میں 554 نان ٹریٹمنٹ پرائمری ہیلتھ سینٹروں ( این ٹی پی ایچ سیز) کے ساتھ ملک میں صحت کے اداروں کی تعداد کے لحاظ سے سرفہرست خطوں میں شامل ہے۔ اس وقت پرائمری، سیکنڈری اور ٹریشری سطح پر 4,200 سے زائد صحت کے ادارے کام کر رہے ہیں جنہیں آئی پی ایچ ایس۔2022 کے معیارات کے مطابق مزید مستحکم اور اَپ گریڈ کیا جائے گا۔










