حکومت 2011ء کے بعد پیدا ہونے والے بچوں کو 2016 تک شامل کر ے گی
جموں//وزیر برائے خوراک، شہری رسدات و اَمور صارفین ستیش کمار شرما نے آج کہا کہ محکمہ نے ان گھروں اور اہل مستفید اَفراد کو کو شامل کرنے کے لئے مسلسل کوششیں کی ہیں اور پبلک ڈِسٹری بیوشن سسٹم ( پی ڈِی ایس ) کے تحت رہ گئے اہل مستحقین اور کنبوں کو شامل کرنے کے لئے مستقل احکامات جار ی کئے گئے ہیں۔وزیر موصوف ایوان میں آج رُکن اسمبلی چودھری محمد اکرم کے ایک سوال کا جوا ب دے رہے تھے۔اُنہوں نے ایوان کو بتایا کہ مستحقین کی نشاندہی کے لئے شمولیت اور اخراج کے اصول طے کئے گئے ہیں جو این ایف ایس اے کے تحت گروپ کی تبدیلی کی بنیادہیں۔وزیر نے مزید بتایا کہ حکومت نے 2011 کے بعد پیدا ہونے والے بچوں کو 2016 ء تک شامل کرنے کا حکم دیا ہے۔اُنہوں نے مزید کہا، ’’اگرمرکزی خوراک اور عوامی تقسیم کاری محکمہ کی طرف سے تفویض کردہ اہداف باقی رہ جائیں، تو سال 2016 ء کے بعد پیدا ہونے والے بچوں کو بھی شامل کرنے پر غور کیا جائے گا۔‘‘اِس کے علاوہ وزیر نے کہا کہ راشن کارڈوں کی تقسیم کو روکا گیا ہے تاکہ پی ڈی ایس کے تحت کنبوںبالخصوص اے اے وائی گھروں کی کوریج کے لئے تفویض کردہ اہداف پر عمل کیا جا سکے جن کی الاؤنس فی گھر 35 کلوگرام ہے۔اُنہوں نے کہا کہ نئے راشن کارڈز جاری کر کے راشن کارڈوں کی بائی فرکیشن کا عمل نئے گھروں کے لئے اضافی اناج کی فراہمی کے مطالبات پیدا کرے گاجس سے خوراک، شہری رسدات و اَمورِ صارفین محکمہ کے تحت چلنے والی دیگر سکیموں اور ان سکیموں میں بوجھ بڑھ جائے گا جہاں پبلک ڈسٹری بیوشن سسٹم ڈیٹا بیس کا استعمال کیا جاتا ہے اور گھریلو حقوق کی اِکائی ہے۔وزیر موصوف نے کہا کہ محکمہ موجودہ فریم ورک کے مطابق نئے فیئر پرائس شاپس کھولنے پر غور کر رہا ہے جو جموں و کشمیر کے ٹارگٹیڈ پبلک ڈسٹری بیوشن سسٹم (کنٹرول) کا حصہ ہے۔اُنہوںنے مزید بتایا کہ نئے فیئر پرائس شاپس کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے منتخب ارکان کو بھی شامل کرنا ضروری ہے جس کے لئے موجودہ فریم ورک پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔اِس موقعہ پر رُکن اسمبلی معراج ملک نے ضمنی سوال اُٹھا یا۔










