جموں// وزیربرائے صحت و طبی تعلیم سکینہ اِیتو نے ایوان کو مطلع کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران دو ماہر ڈاکٹر اور پانچ میڈیکل اَفسران (ایم اوز) کو سی ایچ سی بنی اور پی ایچ سی بنی میں تعینات کئے گئے ہیں۔اُنہوں نے کہا،’’ایک کنسلٹنٹ، چھ میڈیکل اَفسران و ڈینٹل سرجن، 84 پیرا میڈکس اس وقت بنی میں موجود ہیں۔اِس کے علاوہ ایک سپیشلسٹ، 10 آیوش میڈیکل اَفسران اور نیشنل ہیلتھ مشن (این ایچ ایم )کے تحت 87 پیرامیڈکس بھی بنی کے مختلف صحت کے اداروں میں تعینات ہیں جن کی تعداد189 ہے۔‘‘وزیر موصوفہ ایوان میں آج رُکن اسمبلی ڈاکٹر رمیشور سنگھ کے ایک سوال کا جواب دے رہی تھیں۔اُنہوں نے ایوان کو مزید بتایا کہ حال ہی میں حکومت کی جانب سے 365 میڈیکل اَفسران کی تقرری کی گئی ہے جنہیں جموں و کشمیر کے دُور دراز اور پسماندہ علاقوں میں تعینات کیا گیا ہے جن میں کٹھوعہ کے مختلف طبی اِداروں میں 13 ڈاکٹروں کی تعیناتی شامل ہے اور ایک ڈاکٹر بنی میں بھی تعینات کیا گیا ہے۔وزیرموصوفہ نے بتایا کہ مزید 181 میڈیکل اَفسران کی بھرتی کا عمل جاری ہے جبکہ 91 منتخب میڈیکل اَفسران کی ویٹ لسٹ تیار کی جا رہی ہے جنہیں جموں و کشمیر کے پسماندہ علاقوں میں تعینات کیا جائے گا۔وزیر صحت نے مزید کہا کہ جو ڈاکٹر اپنی تعیناتی کی جگہ پر حاضر نہیں ہوتے، انہیں شوکاز نوٹس جاری کیا جاتا ہے اور ان کے خلاف قواعد کے مطابق مناسب تادیبی کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔اِس موقعہ پر ارکان قانون ساز بلونت سنگھ منکوٹیہ اور معراج ملک نے اس معاملے پر ضمنی سوالات اُٹھائے۔










