بنی کے سی ایچ سی او رپی ایچ سی میں 189 طبی عملہ تعینات ۔ سکینہ اِیتو

بدھل اَموات کی تحقیقات جاری ہیں۔ سکینہ اِیتو

کہا، تمام 17 متوفیان کے نمونوں میں کلورفینا پاپیئر کی موجودگی پائی گئی

جموں//وزیر برائے صحت و طبی تعلیم سکینہ اِیتو نے کہا کہ راجوری کے بدھل علاقے میں بیماری اور اموات کی وجہ کسی بھی بیکٹیریل یا وائرل متعدی بیماری سے متعلق نہیں ہے۔وزیر موصوفہ ایوان میں آج رُکن اسمبلی جاوید اقبال چودھری کے ایک سوال کا جواب دے رہی تھیں۔اُنہوں نے کہا کہ طبی رِپورٹوں، لیبارٹری تحقیقات اور ماحولیاتی نمونے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ واقعہ کسی متعدی بیکٹیریل یا وائرل بیماری کی وجہ سے پیش نہیں آیا بلکہ پی جی آئی ایم ای آرچندی گڑھ کی تحقیقات میں ایلومینیم اور کیڈمیم کی موجودگی پائی گئی۔ سی ایس آئی آر۔آئی آئی ٹی آر لکھنؤ نے الڈیکارب سلفیٹ، ایسیٹامپرائیڈ ڈائیتھیل ڈائی تھائیو کاربامیٹ اور کلورفیناپائیر کی موجودگی کی تصدیق کی۔ ڈِی آر ڈِی ای۔ڈی آر ڈی اوگوالیار نے ستّو اور مکئی کی روٹی کے نمونوں سے کلورفیناپایئر اور ابرین پایا۔وزیرموصوفہ نے مزید بتایا کہ این ایف ایل، ایف ایس ایس اے آئی غازی آباد نے خوراک کے نمونوں میں کلورفیناپایئر اور کلورپائیروفوس کی تصدیق کی جبکہ سی ایف ایس ایل چندی گڑھ نے تمام 17 متوفیان کے ویسیرا (اندرونی اعضأ ) کے نمونوں میں کلورفیناپائیر کی موجودگی پائی۔اُنہوں نے ایوان کو آگاہ کیا کہ گورنمنٹ میڈیکل کالج (جی ایم سی) راجوری میں اَب تک 64 مریض داخل کئے گئے تھے جن میں سے 41 مریض صحتیاب وشفایاب ہو کر ڈسچارج کئے گئے ہیں، 17 مریضوں کو جی ایم سی جموں اور 1 مریض کو پی جی آئی چندی گڑھ ریفر کیا گیا ہے۔اُنہوں نے مزید بتایا کہ 6 مریض جی ایم سی راجوری میں جبکہ 11 مریض جی ایم سی اور ایس ایم جی ایس ہسپتال جموں میں وفات پاگئے۔وزیر صحت نے کہا کہ بدھل کے متاثرہ مریضوں کے علاج کے لئے آل انڈیا اِنسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنسز (اے آئی آئی ایم ایس) نئی دہلی اور پی جی آئی چندی گڑھ کے ماہرین کی جانب سے علاج کی ایک معیاری پالیسی اور ڈسچارج طریقہ کار مرتب کیا گیا ہے جس پر مکمل عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ ہسپتال میں داخلے کے دوران ڈسچارج اور فالو اَپ کے وقت ان ایس او پیز پر سختی سے عمل کیا جا رہا ہے۔اُنہوں نے جی ایم سی جموں میں داخل مریضوں کے حوالے سے کہا کہ راجوری سے ریفر کئے گئے تینوں مریضوں کے علاج کے دوران تمام معیاری آپریشنل پروٹوکولز اور ضوابط پر مکمل عمل درآمد کیا گیا۔ وزیر موصوفہ نے مزید کہا کہ 2 مریضوں کو علیحدہ طور پر آئسولیشن وارڈ میں رکھا گیا جبکہ ایک مریض جو پی جی آئی چندی گڑھ سے منتقل کیا گیا تھا، سر کرنل چوپڑا نرسنگ ہوم کے علیحدہ کمرے میں رکھا گیا۔ اِس کے علاوہ ایس ایم جی ایس ہسپتال جموں میں بدھل راجوری سے منتقل کئے گئے مریضوں کے لئے وارڈ 19 کو آئسولیشن روم میں تبدیل کیا گیاجہاں تمام ضروری احتیاطی تدابیر اَپنائی گئیں۔اُنہوں نے مزید کہا کہ بدھل ضلع راجوری کے جاں بحق افراد کے اہل خانہ کوضلع ترقیاتی کمشنر راجوری کی جانب سے 1 لاکھ روپے اور 50,000 روپے ریڈ کراس فنڈ میں سے بطور مالی مدد فراہم کئے گئے۔وزیر صحت نے ضمنی سوالات کا جواب دیتے ہوئے ایوان کو آگاہ کیا کہ 3,500 افراد کے نمونے معائینے کے لئے لئے گئے ہیں اور تحقیقات جاری ہیں۔اِس موقعہ پر ارکان قانون ساز ایم وائی تاریگامی اور چودھری محمد اکرم نے اِس معاملے میں ضمنی سوالات اُٹھائے۔