چندی گڑھ میں فوت ہوئے نوجوان کی میت

چندی گڑھ میں فوت ہوئے نوجوان کی میت

اپنے آبائی گھر پہنچانے کیلئے ہیلی کاپٹر فراہم نہ کرنا ، سراسر ناانصافی ۔ حق خان

سرینگر//پی ڈی پی لیڈر اور سابق وزیر عبدالحق خان نے چندی گڑھ میں ایک کشمیری سکالر کی موت اور اس کی میت مژھل پہنچانے کیلئے چاپر نہ دیئے جانے پر سخت برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شدید برفباری کے دران ایک نوجوان کی میت کو سٹریچر پر کاندھوں پر اُٹھاکر اپنے آبائی علاقہ پہنچانی پڑی ہے جس کی وجہ سے اس کے اہلخانہ اور رشتے داروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ حق خان نے کہا کہ یہ انتظامیہ اور موجودہ سرکار کی بے حسی نہیں تو اور کیا ہے کہ ایک نوجوان جس نے حال ہی میں ڈگر پوری کردی اور وادی سے باہر اس کی موت کے بعد جب میت گھر لے جانی تھی تو برفباری کے باوجود اس کے ورثا کو کوئی راحت نہیں پہنچائی گئی ۔ وی او آئی کے مطابق پی ڈی پی لیڈر عبدالحق خان نے کہاکہ نوجوان گوہر احمد میر کی المناک موت اور ان کے غمزدہ خاندان کو جس اذیت ناک صورتحال کا سامنا کرنا پڑا، یہ موجودہ انتظامیہ کی بے حسی اور ناکامی کا افسوسناک ثبوت ہے۔ شدید برفباری کے باعث ایک نوجوان کی میت لے جانے کے لیے ہیلی کاپٹر فراہم نہ کرنا اور اس کے اہلِ خانہ کو مجبور کرنا کہ وہ اسے اسٹریچر پر 30 کلومیٹر تک لے جائیں، محض غفلت نہیں بلکہ حکومتی ناکامی اور بنیادی انسانی ہمدردی سے عاری رویہ ہے۔انہوںنے کہا کہ منتخب حکومت کی سب سے بڑی ذمہ داری عوام کی خدمت اور ان کے مسائل کا بروقت حل نکالنا ہے، خاص طور پر ایسے مواقع پر جب وہ مشکل میں ہوں۔حق خان نے سوال کیا کہ اگر حکام وی آئی پیز کے لیے ہیلی کاپٹر کا انتظام کر سکتے ہیں، تو پھر ایک بے بس خاندان کے لیے ایسا کیوں ممکن نہ ہو سکا؟ شدید موسم کے باوجود ان کی فریاد کیوں نظر انداز کی گئی؟مژھل اور کپواڑہ کے عوام کو ان سوالوں کے جواب چاہئے۔ حکومت کو اپنی اس بے حسی اور ناکامی کا جواب دینا ہوگا۔ انہوںنے کہا کہ میں انتظامیہ سے مطالبہ کرتا ہوں کہ آئندہ ایسا کوئی واقعہ پیش نہ آئے۔ ایسے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ کوئی بھی خاندان اس طرح کی دل دہلا دینے والی صورتحال کا شکار نہ ہو۔ حکمرانی عوام کی خدمت کا نام ہے، نہ کہ انہیں بے سہارا چھوڑ دینے کا۔