سرینگر / /جموں و کشمیر کے مفتی اعظم مفتی ناصر الاسلام نے اعلان کیا ہے کہ اس سال کے لیے لازمی صدق? الفطر (زکو? الفطر) 75 روپے فی شخص مقرر کیا گیا ہے۔کشمیر پریس سروس کے موصولہ بیان کے مطابق مفتی اعظم جموں و کشمیر مفتی ناصر الاسلام نے کہا ہے کہ عید الفطر کی نماز سے پہلے صدقہ فطر ادا کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے، بشمول مرد، خواتین، حتیٰ کہ شیر خوار بچے بھی ہیں ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ صدقہ عید کی نماز سے پہلے ادا کیا جائے تاکہ غریب اور محتاج لوگ بھیعید کی خوشیوں میں سکون کے ساتھ حصہ لے سکیں ۔انہوں نے کہا کہ صدقہ الفطر کی مقررہ رقم 1.75 کلو گرام فی کس گندم کے برابر ہے اور علمائے کرام اوراسلامی اسکالرز سے مشاورت کے بعد اس سال اس کی قیمت 75 روپے مقرر کی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہر فرد کو یہ رقم اپنی اور اپنے نابالغ بچوں کی طرف سے ادا کرنی چاہیے، جبکہ بالغ، مالی طور پر خود مختار بچے اپنے لیے ادائیگی کریں۔انہوں نے کہا کہ صدقہ الفطر روزے کو کسی بھی نقص سے پاک کرتا ہے اور ضرورت مندوں کو فائدہ پہنچاتا ہے۔ مفتی ناصر نے واضح کیا کہ عطیہ مستحق افراد جیسے یتیموں، غریبوں اور ضرورت مند مسافروں کو دیا جانا چاہیے اور اسے مسجد کے اخراجات، مذہبی تنظیموں یا سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔انہوں نے جموں و کشمیر کے لوگوں پر زور دیا کہ وہ اس ذمہ داری کو فوری طور پر پورا کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کا تعاون صحیح مستحقین تک پہنچ جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ مالدار ،صاحب ثروت افراد مقررہ رقم سے زیادہ ادا کریں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے بلکہ وہ بہتر ہے










