وانی گام، تیلہ گام، بہرم پورہ، دارگام، ہرہند پورہ، خیرآباد، چندر سیرہ سمیت کئی علاقوں میں بجلی غائب
سرینگر// رمضانْ المبارک کے مقدس مہینے میں بھی شمالی کشمیر کے پٹن کے کئی دیہات بجلی جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہیں، جس کے باعث عوام کو سحری اور افطاری میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔وائس آف انڈیا کے مطابق وانی گام، تیلہ گام، بہرام پورہ، دارگام، ہرہند پورہ، خیرآباد، چندر سیر ہ اور دیگر ملحقہ دیہات میں گزشتہ کئی دنوں سے بجلی کی عدم دستیابی نے عوام کی پریشانی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق ان علاقوں میں بجلی کی آنکھ مچولی کوئی نئی بات نہیں، لیکن رمضان کے مقدس مہینے میں مکمل بلیک آؤٹ نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ مقامی لوگوں نے کہا، “ہماری روزمرہ کی زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ سحری اور افطاری کے وقت ہمیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پہلے ہم موم بتی، لالٹین اور گیس لائٹ استعمال کر کے گزارا کر لیتے تھے، لیکن اب ہم بجلی کے محتاج ہو چکے ہیں۔ نہ بچوں کی پڑھائی ممکن ہو رہی ہے، نہ ہی گھریلو کام کاج آسانی سے ہو پا رہے ہیں۔ہم نے جب محکمہ بجلی (PDD) سے رابطہ کیا تو انہوں نے اعتراف کیا کہ لوڈ شیڈنگ کی اصل وجہ “تاپر گرڈ اسٹیشن پر زیادہ دباؤ” ہے۔ ان کے مطابق، “یہ گرڈ اسٹیشن اتنا زیادہ بوجھ برداشت نہیں کر سکتا، جس کے نتیجے میں بجلی کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے۔علاقے کے لوگوں نے حکومت اور متعلقہ محکموں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مسئلے کا فوری حل نکالیں تاکہ رمضانْ المبارک کے مقدس مہینے میں انہیں کم از کم بنیادی سہولتوں سے محروم نہ رکھا جائے۔ مقامی باشندوں نے مطالبہ کیا ہے کہ یا تو متاثرہ علاقوں کو کسی دوسرے گرڈ سے جوڑا جائے یا تاپر گرڈ اسٹیشن کو جدید تقاضوں کے مطابق اپ گریڈ کیا جائے تاکہ عوام کو اس مشکلات سے نجات مل سکے۔










