سماج کے مفلوک الحال افراد اور مستحقین کی معاونت کے تئیں توجہ مبذول کرنا لازمی

سماج کے مفلوک الحال افراد اور مستحقین کی معاونت کے تئیں توجہ مبذول کرنا لازمی

ذاتی مفاد کے خاطر محتاجوں کے نام پر عطیات وچندہ جمع کرنے والوںسے خبرداررہنے کی ضرورت

سرینگر / /سماج میں مالی اعتبار سے لوگ برابر نہیں ہے بلکہ اس میں تفاوت رکھی گئی ہے اس تفاوت کو دور کرنے کے لئے صاحب افراد پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ان کی معاونت کرنے میں ایک دوسرے پر سبقت لیں تاہم معاونت کے وقت اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ وہ جس شخص کو آپ صدقہ دے رہے ہیں وہ مستحق ہے یا نہیں ۔ کشمیر پریس سروس کے ساتھ بات کرتے ہوئے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے حساس اور ذی عزت شہریوںنے بتایا کہ غریبوں کی امداد کرنا رضائے الٰہی کا ایک ذریعہ ہے کیونکہ ارشاد ربانی ہے جو محتاج ہیں ان کی معاونت کر واور صاحب ثروت افراد پر ان کا حق ہے آخرت میں ان کے متعلق ان سے پوچھ تاچھ ہوگی اور ماہ صیام کے ایام متبرکات میں اس اضافی ثواب ملتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس سے کسی بھی شخص کو اعتراض نہیں ہوسکتا ہے اور امداد کرنے کو بخل کرنے کی کوئی گنجائش بھی نہیں ہے کیونکہ امیروں کی دولت میں غریبوں کا حق شامل ہے ۔لیکن غریبی کے نام پر امیرزادے پیسے کمارہے ہیں ۔وہ قابل تشویش عمل ہے ۔انہوں نے کہا کہ اخبارات یا سوشل میڈیا کی مختلف ویب سائٹس پر آئے روز گردے کے مرض میں مبتلا مریض یا مریضہ کی قیمتی جان بچائیں کے اشتہارات معہ اکاونٹ نمبرسامنے آتے ہیں ۔بسا اوقات مریض کا اکاونٹ نمبر درج ہوتا اور بعض اوقات کسی گروپ یا کسی نام پر تنظیم کافون نمبر اور اکائونٹ نمبر ہوتا ہے جبکہ بستیوں سے گاڑیوں میں لائو ڈ اسپیکر لگاکر چند آدمی لوگوں سے امداد کی اپیل کرتے ہیں اور لوگ ثواب کی نیت سے ان کی امداد کرتے رہتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اب تک بہت سے انکشافات ہوئے کہ کئی خود غرض افراد اپنا گھر آباد کرنے کیلئے دوسروں کو مہرا بنا کر لوگوں سے پیسے حاصل کرتے ہیں اور تحقیقات بعد وہ فراڈ ہی ثابت ہوئے ۔انہوں نے کہا کہ امداد کرنا ہمارے لئے فرض عین ہے لیکن جو افراد قیمتی جان بچانے یا غریبوں کی امداد کرنے کیلئے لوگوں سے عطیات وصدقات طلب کرتے ہیں ان کے حوالے سے جانچ کرنے کی ضرورت ہے ۔ورنہ یہ غریبوں کا حق امیرزادے ہڑپ کرتے رہیں گے ۔انہوں نے کہا کہ گردوں یا کینسر یا دیگرمہلک امراض میں مبتلا مریضوں کے علاج ومعالجہ پر حقیقتاً لاکھوں روپے صرف ہوجاتے ہیں اور جو واقعی غریب اور مفلوک الحال ہوتے ہیں ان کا دوسرے سے مانگنا حق بنتا ہے لیکن ان کی ہمدردی میں جو لوگ اپنا کمیشن تلاش کرتے ہیں ان کی نیت پر ہی جزا و سزا ہوگی ۔البتہ جن لوگوں نے اس کو پیشہ بنا ہے وہ گناہ عظیم میں مبتلا ہوجاتے ہیں ۔اس سلسلے میں انہوں نے حکام ،عوام اور صاحب علم ،علماء ،دانشوروں اور ذی عزت شہریوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ امداد کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کریں البتہ حقیقی ضرورت مند وںکے حوالے سے تحقیقات کرنے کے بعد رضائے الٰہی کے خاطران کی امداد کی جائے اور جو لاچاروں کے نام پر یا کوئی غیر ضروری بہانہ بنا کر لوگوں کو امداد کے نام لوٹ رہا ہوگا ۔اس کو پولیس کے حوالے کردیا جائے یا عوامی سطح پر اس کی اس غیر مہذبانہ اور غیر الاسلامی اور غیراصولی حرکت پر اس کو سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی شخص اس طرح کی حرکت کرنے جرات نہ کرسکے ۔انہوں نے مزید کہا کہ تنظیموںیاسوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل کرنے والے ذمہ دا روں جوغریبوں،ناداروں ،یتیموں اوربیوائوں کے نام پر امداد کا مطالبہ کرتے ہیں کے بارے میں بھی بڑے پیمانے پر تحقیقات ہونی چاہئے کہ کیا وہ حقیقت پر مبنی مہم چلارہے ہیں یا غیر تسلیم شدہ ہونے کی صورت میں لوگوں سے پیسے جمع کرتے رہتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جو شخص یا تنظیم اس طرح اپیل کرے گا تو اس کیلئے جمع کرنے کے بعد حسابات عوام سامنے لانے اور مشتہر کرنا لازمی ہے تاکہ کوئی دھوکہ نہ کھائے ۔