سینچائی کا وقت قریب،انتظامیہ قبل از وقت پانی فراہمی کیلئے ٹھوس اقدام اٹھائیں
سرینگر / /وادی کشمیرکے دیہی علاقوں کی کوہلوں میں پانی رواں دواں ہوا کرتا تھا۔ اری گیشن کی کوہلیںصدیوں سے بہہ رہی ہیں لیکن عوام کی خود غرضی سے کوڑا دان میں تبدیل ہوئی ہیں ۔کشمیر پریس سروس کے موصولہ تفصیلات کے مطابق اری گیشن کے کوہلوں میںپانی کے بجائے گندگی کے ڈھیر ہیں جس سے مذکورہ کوہلیں کوڑا دان میں تبدیل ہوئی ہیں ۔بتایاجاتا ہے کہ مقامی لوگ ان کوہلوں میں بے لگام ہوکر کوڑا کرکٹ ڈالتے رہتے ہیں اور ان پر کوئی روک نہیں لگائی جاتی ہے اور گند گی جمع ہونے سے اس میں ایسی بدبو پھیلی ہوئی ہوتی ہے جس سے وبائی بیماریاں پھوٹ پڑنے کا خطرہ لاحق ہے ۔ سیزن کے بعد ان کوہلوں میں پانی ڈالنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہوتا ہے حالانکہ محکمہ ہذا کے لئے ضروری ہے کہ ان کوہلوں کی شان کو برقرار رکھنے کے لئے ان کی صفائی وستھرائی کا سلسلہ جاری رکھنا تھا ۔لیکن اس کی طرف توجہ دینے کی زحمت گوارا نہیں کی جاتی ہے ۔اس ضمن میں مختلف علاقوں سے مقامی لوگوں نے بتایا کہ کوہلوں میں گندگی جمع ہونے سے بدبو پھیلی ہوئی ہے جس سے راہگیروں ،دکانداروں اور خریداروں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور اس گندگی سے وبائی بیماریاں پھوٹ پڑنے کا خطرہ ہے ۔اس سلسلے میں انہوں نے ان افرادسے اپیل کی جو اس میں بے لگام ہوکر کوڑا کرکٹ ڈال رہے ہیں وہ اس سے اجتناب کریں اور انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس حوالے سے سنجیدہ نوٹس لیکر اس کی صفائی کا اہتمام کرے اور اس میں کوڑا کرکٹ ڈالنے والوں پر جرمانہ عائد کیا جائے تاکہ لوگوں کے مشکلات کاازالہ ہوسکے اور ان کوہلوں کی شان رفتہ بحال ہوسکے اور آنے والے دنوں میں زمینوں کی سینچائی کرنے میں زمینداروں کو کسی بھی پریشانی کا سامنا نہ کرناپڑے گا۔










