اشیائے خورد ونو ش میں ملاوٹ اورمیوہ جات کو انجکشن لگاکروقت سے پہلے تیار کرنے کا معاملہ

اشیائے خورد ونو ش میں ملاوٹ اورمیوہ جات کو انجکشن لگاکروقت سے پہلے تیار کرنے کا معاملہ

انسانی جانوں کیلئے خطرناک، مہلک بیماریاں پھوٹ پڑنے کا نتیجہ / ماہرین طب کا احتیاط برتنے پرزور

سرینگر / / بہترصحت کیلئے اشیائے خورد ونوش اور میوہ جات کا اپنی قدرتی حالت میں ہونا ناگزیر ہے۔ اگر اچھی اور صاف ستھری غذائیں انسان کو فراہم ہوں تو صحت مند ہونے کی امید کی جاسکتی ہے لیکن آج کل غذائی اجناس میں ملاوٹ اور میوہ جات میں انجکشن لگانے کا مسئلہ جس طرح خطرناک شکل اختیار کررہا ہے یہ بڑا ہی تشویشناک امر ہے۔ اشیائے خوردنی میں شاید ہی کوئی چیز ہو جو ملاوٹ سے پاک ہو، اشیائے خورد ونوش کے پیک ڈبوں پر لیبل اصلی کا چسپاں ہوتا ہے، لیکن اندر سے ان اشیائے مختلف کمیکلز کی ملاوٹ دیکھنے کو ملتی ہے ۔گذشتہ سال کی طرح امسال بھی سوشل میڈیا پر تربوزوں اورخربوزوں میں انجکشن لگانے کے انکشافات کے بعد ماہرین طب ان میوہ جات کے کھانے سے اجتناب کرنے کی عوام سے مشورہ دیتے ہیں ۔انہوں نے واضح کرتے ہوئے کہا کہ جو میوہ جات وقت سے پہلے بازاروں میں آجائیں گے وہ مضر صحت ہے ۔انہوں نے کہا کہ میوہ جات کے پختہ ہونے اور قابل ذائقہ و مفید ہونے کیلئے وقت مقرر ہے لیکن جب اس سے پہلے ہی وہ بازاروں میں دستیاب ہوگا تو یہ باعث حیرت ہے ۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ وادی کے مختلف علاقوں سے مختلف اسپتالوں میں تعینات ڈاکٹر وں نے میوہ جات کو کھانے سے پرہیز کرنے کی ہدایت کی ۔انہوں نے کہا کہ میوہ جات انسانی جان کیلئے مفید ہوتے ہیں ان میں مختلف قسم کے وٹامن موجود ہوتے ہیں جو انسان کو مقوی بنانے میں مدد کرتے ہیں لیکن جب یہی میوہ جات یا سبزیاں ایسے انجکشن زدہ ہوں تو ان کا کھانا انسانی جانوں کے لئے باعث خطرہ ہے ۔چونکہ گذشتہ سال میوہ جات یا سبزیوں کا کاروبار کرنے والے کاروباریوں نے اعتراض جتاتے ہوئے کہا تھاکہ ڈاکٹروں کی ان ہدایات کے بعد ان کاروبار متاثر ہوچکا ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پراس حوالے سے سال رواں کے دوران جو افواہیں پھیلائی جارہی ہیں وہ حقیقت سے بعید ہے ۔ان کے بقول متعلقہ کسانوں کے ساتھ بات کی گئی تو انہوں نے اپنی کھیتوں کے فوٹو ارسال کئے اور کہا کہ آج ان کے فصل تیار ہیں لیکن یہاں کی عوام اس بات سے بہ خوبی واقف ہے کہ یہاں کے میوہ جات پر رنگ دوائی چھڑا کر ان کو وقت سے پہلے ہی تیار کیا جاتا ہے جو ہر اعتبار مضر ثابت ہوتے ہیں ۔ مضر صحت اشیاء کھانے پینے کی چیزوں میں مل کر انسان کے جسم میں پہنچ رہی ہیں اور صحت کو گلارہی ہیں اور اس ملاوٹی اشیاء کے سبب ڈپریشن، بلڈپریشر،ذیابطیس جیسی بیماریوں کا بڑھنا اس کا بین ثبوت ہے ۔اس ضمن میں سماج کے حساس لوگوں نے حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کشمیر پریس سروس سے کہا کہ غذا ئی اجناس میں ملاوٹ کرنا انسانی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ ہے ۔انہوں نے کہا کہ حد تو یہ ہے کہ باہر سے برآمد ہونے والی سبزیوں یامیوہ جات کو پختہ کرنے کیلئے انجیکنشنز یا پاوڈر کا استعمال کیا جارہا ہے جو انسانی صحت کیلئے خطرہ ثابت ہوتے ہیں ۔حالانکہ ڈاکٹر صحت مند رہنے کیلئے میوے بشمول آم ،تربوزے ،سنترے ،کیلے وغیرہ لینے کا مشورہ دیتے ہیں لیکن جب ان کی پختگی کی اصلیت سامنے آتی ہے تو اس سے صحتیابی ممکن نہیں ہے بلکہ اس سے مہلک بیماریاں پھوٹ کا خطرہ رہتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پہلے پہل یہاں سبزیاں اگائی جاتی تھیں اور ان کا ذائقہ ایسا ہوتا تھا کہ لوگ صحت مند زندگی گذارتے تھے اور لطف اندوز ہوجاتے تھے لیکن اب ان سبزیوں میں بھی کھاد یا دیگر کمیکلز ڈالے جاتے ہیںجس سے وہ زہر ثابت ہوتے ہیں ۔اسی طرح ادویات میں بھی ملاوٹ نے انسانی صحت کو برباد کردیا ہے اور ایسی بیماریاں سامنے آتی ہیں کہ لوگ دھنگ رہ جاتے ہیں ۔ مجموعی طور اشیائے خوردنی ،سبزیوں اور میوہ جات جو انسان کی ضرورت بھی اور صحت مندی کیلئے لازمی بھی ہیں اور ان کے بغیر انسان کا جینا ،کھانا پینا گویا ہر چیز محال ہے لیکن ملاوٹ یہ چیزیں انسان کیلئے جان لیوا ہی ثابت ہوتی ہیں ۔اس سلسلے میں انہوں نے سرکار سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اشیائے خوردنی ،سبزیوں اور میوہ جات کو خالص رکھنے کیلئے سنجیدہ نوعیت کے اقدام اٹھائے جائیں اور ملاوٹ کرنے والی کمپنیوں،ڈیلروں ،گرورس کے خلاف تادیبی کاروائی عمل میں لائی جائے تاکہ انسانوں قیمتی زندگیاں محفوظ رہ سکیں اور صحت مند زندگی گذار سکیں گے ۔