ندی ،نالوں اورکوہلوںکو کوڑادان میں تبدیل کرنا خود غرض افراد کی کارستانیوں کا نتیجہ

جموں کشمیر کی 4200 آبگاہوں میں 800 کی تجدید6اضلاع انکسی بھی آبی ذخائر کی درستگی ندارد

سرینگر//جموں کشمیر کے6اضاع میں 84آبگاہوں اور آبی ذخائر کو تجدید کے لیے کسی کو تحفظ فراہم نہیں کیا گیا تاہم مجموعی طور پر ٹنل کے آر پار 4215آبگاہوں اور آبی ذخائر کے تذکرے کی وجہ سے عزت کی بات کرتے ہوئے کہا گیا ہے لیکن امسال نومبر تک صرف 84آبگاہوں میں آپ کو تحفظ فراہم نہیں کیا جاتا۔ یہ چونکا دینے والے اعداد شمار پیش کرتے ہیں۔وی او آئی کے مطابق ڈی جی جی آئی آئی رپورٹ کے مطابق 5اضلاع سرینگر، راجوری، پونچھ، کشتواڑ اور بانڈی پورہ میں بھی آبگاہ کو تجد کے لیے متعین نہیں گیا۔ تاہم ضلع رام بن میں اگرچہ 47آبی ذ خائر اور ضلع بارہمولہ میں 37آبگاہوں کی جگہ پر گئے ہیں لیکن کسی آبگاہ کی تعمیر نو نہیں کی گئی۔ مرکزی زیر انتظام خطہ میں سب سے زیادہ ریاسی ضلع میں 813آبی ذخائر کی ضلع کی طرف سے ابھی تک آپ کی ہی تجدید کی گئی ہے جبکہ ضلع کھٹوعہ میں 783آبی ذخائر میں سے 31اورضلع ڈوڈہ میں 722آبگاہوں سے 273آبیوں کی ہی تجدید عمل میں لائی گئی ہے۔ اعداد و شمار و شمار کے مطابق کولگام میں 116آبگاہوں میں 62.93 فیصد شرح کے ساتھ 71 جبکہ اننت ناگ میں منتخب 103 آبی ذخائر سے 71 اور جموں میں 250 منتخب آبگاہوں میں سے 72آبی ذخائر کی تعمیر نو نہیں کرتے۔ شوپیاں 20آبگاہوں میں کی گئی مگر امسال اکتوبر تک صرف 18 جبکہ بڈگام میں 11آبی ذکائر سے 8اور پلوامہ میں 50آبگاہوں میں سے 12کی تجدید کی اجازت نہیں اقتصادیات اور شماریات کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ضلع گاندربل میں 30.85 فیصد شرح کے ساتھ 94آبگاہوں میں جب سے سامبا میں 319آبی ذخائر میں 11.91 فیصد شرح کے ساتھ 38 آبی ذخائر کی تجدید کی گئی ہے۔