train

وادی کشمیر کے لیے وندے بھارت ٹرین سروس کا افتتاح ملتوی

رواں ماہ کے آخری ہفتے میں ممکنہ طور پر افتتاحی تقریب ہوگی ، افتتاح وزیر اعظم کے ہاتھو ںہوگا

سرینگر//سرینگر کٹرا ریل جس کا افتتاح ممکنہ طور پر 17فروری کو ہونے جارہا تھا کو فی الحال ملتوعی کردیا گیا ہے اور اب ریل خدمات کا افتتاح 22فروری کو ہونے جارہا ہے ۔ کٹرا سرینگر ریل کا افتتاح وزیر اعظم نریندر مودی کے ہاتھو ں کئے جانے کا پروگرام تھا ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق وادی کشمیر کے لیے وندے بھارت ٹرین سروس کا افتتاح ملتوی کر دیا گیا ہے، حکام نے اتوار کو بتایاکچھ انتظامی معاملات کی وجہ سے اس افتتاحی تقریب کو ملتی کیا گیا ہے اور اب اس کی تاریخ 22فروری ہوگی ۔ اس سے پہلے کی اطلاعات، جن کی حکام نے تصدیق نہیں کی تھی، کہا تھا کہ ادھم پور، سری نگر اور بارہمولہ کے درمیان وندے بھارت ٹرین سروس کا افتتاح 17 فروری کو وزیر اعظم نریندر مودی کریں گے۔حکام نے التوا کا اعلان کرتے ہوئے ٹرین سروس کے افتتاح کی کوئی باضابطہ تاریخ نہیں بتائی ہے۔ البتہ ذرائع نے بتایا کہ ریل کی شروعات ممکنہ طور پر 22فروری کو ہی ہوگی ۔ ادھم پور،سرینگر،بارہمولہ ریل لنک ہندوستانی ریلوے کے ذریعہ تعمیر کردہ اب تک کا سب سے مشکل ریلوے پروجیکٹ ہے۔یہ ٹیکنالوجی کے لحاظ سے دنیا کے سب سے مشکل ترین ریلوے منصوبوں میں سے ایک ہے۔ یہ ایک بہت بڑا انفراسٹرکچر پروجیکٹ ہے جسے ہندوستانی ریلوے نے بنایا ہے۔اس منصوبے میں 331 میٹر اونچے پائلن کے ساتھ ملک کا پہلا کیبل اسٹیڈ انجی کھڈ پل شامل ہے۔دنیا کا سب سے اونچا ریلوے پل، پیرس کے ایفل ٹاور سے بھی اونچا، چناب ریلوے پل دریا کے کنارے سے 359 میٹر بلند ہے۔ ادھم پور اور سری نگر کے درمیان ریلوے روٹ پر ایک درجن سے زیادہ سرنگیں ہیں۔خاص طور پر انتہائی موسمی حالات کے لیے تیار کی گئی، وندے بھارت ٹرین منفی 20 ڈگری سیلسیس درجہ حرارت پر چل سکتی ہے۔ٹرین میں جدید ترین سہولیات ہیں جن میں بجلی کے آؤٹ لیٹس، ریڈنگ لائٹس، سی سی ٹی وی کیمرے، خودکار دروازے، بائیو ویکیوم ٹوائلٹس، سینسر پر مبنی پانی کے نلکے اور مسافروں کی معلومات کے نظام سے لیس مکمل ایئر کنڈیشنڈ کوچز شامل ہیں۔کوچز میں رولر بلائنڈز کے ساتھ چوڑی کھڑکیاں اور سامان کے لیے اوور ہیڈ ریک ہیں۔ٹرین کے ڈرائیور کی ونڈشیلڈ میں ایک جدید ڈیفروسٹ سسٹم ہے جو نم اور زیادہ نمی والے موسمی حالات میں صاف بصارت کی اجازت دیتا ہے۔ادھم پور اور بارہمولہ کے درمیان 150 کلومیٹر کا فاصلہ ڈھائی گھنٹے میں طے کیا جائے گا۔ کٹرا میں ٹرینوں کی ابتدائی تبدیلی 15 اگست تک ختم کردی جائے گی جب جموں ریلوے اسٹیشن کو اپ گریڈ کیا جائے گا۔یو ایس بی آر ایل کا کمرشل ٹرائل مکمل ہو چکا ہے اور کشمیری عوام کا یہ 70 سالہ خواب اب صرف وزیر اعظم مودی کے ہاتھوں اس کے رسمی افتتاح کا انتظار کر رہا ہے۔