وزیر دیہی ترقی محکمہ 5؍ فروری کو کٹھوعہ سے’’ یاترا وین ‘‘ کو ہری جھنڈی دِکھا کر روانہ کریں گے
جموں// حکومت ہند پردھان منتری کرشی سینچائی یوجنا (ڈبلیو ڈِی سی۔پی ایم کے ایس وائی 2.0) کے واٹر شیڈ ڈیولپمنٹ جزو کے تحت دیرپا پانی کے اِنتظام کی سمت میں ایک اہم قدم اُٹھاتے ہوئے ایک ملک گیر بیداری مہم’’واٹر شیڈ یاترا‘‘ شروع کرنے کے لئے تیار ہے۔مرکزی وزیر برائے زراعت اور دیہی ترقی شیوراج سنگھ چوہان 5 ؍فروری کو قومی سطح پر اس مہم کا آغاز کریں گے اور اسے جموں و کشمیر سمیت پورے ہندوستان میںبذریعہ ورچیول موڈ نشر کیا جائے گا۔ اِس کے ساتھ ہی وزیر برائے زرعی پیداوار، دیہی ترقی و پنچایتی راج، اِمداد باہمی اور الیکشن ڈیپارٹمنٹ جاوید احمد ڈارجموں و کشمیر میں یاترا کا اِفتتاح ہیرا نگرکٹھوعہ سے کریں گے۔ایک جدید ترین’’واٹرشیڈ یاترا وین‘‘ جو کہ آگمن ٹیڈ رئیلٹی (اے آر) ٹولز اور ڈیجیٹل مظاہروں سے لیس ہے جو جموں و کشمیر میں 2,400 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرے گی ۔یہ مہم پانچ لاکھ سے زائد رہائشیوں کو اِستفساری ورکشاپوں، کمیونٹی سرگرمیوں اور بیداری مہمات کے ذریعے ہدف بنائے گی۔ یہ مہم یکم؍ مارچ 2025 ء تک جاری رہے گی اور جموں میں اِختتام پذیر ہوگی جہاں واٹر شیڈ تحفظ ،مٹی کی زرخیزی میں بہتری اور بارش کے پانی کو جمع کرنے کی جدید ترین طریقے پیش کئے جائیں گے۔ اِس مہم کا بنیادی مقصد ہندوستان کی تمام ریاستوں اور یوٹین ٹیریٹریوں میں پردھان منتری کرشی سینچائی یوجنا 2.0 (ڈبلیو ڈی سی۔پی ایم کے ایس وائی 2.0) کے واٹر شیڈ ڈیولپمنٹ جزو کے تحت عوامی شرکت کی حوصلہ اَفزائی کرنا اور واٹر شیڈ ڈیولپمنٹ کے بارے میں بیداری پیدا کرنا ہے۔چیف ایگزیکٹیو آفیسر( سی اِی او)آئی ڈبلیو ایم پی رجنیش کمار نے مہم کے وسیع تر وژن کو اُجاگر کیا ۔ اُنہوں نے کہا،’’واٹر شیڈ یاترا محض ایک بیداری مہم نہیں ہے بلکہ یہ ایک تحریک ہے جو کمیونٹیوںکو واٹر شیڈ ڈیولپمنٹ کے طریقوں کو اَپنانے اور پانی کے تحفظ و زرعی دیرپایت کے قومی اہداف میں اَپنا رول اَدا کرنے کی ترغیب دیتی ہے ۔‘‘اُنہوں نے وضاحت کی کہ یاترا اِس انداز میں ترتیب دی گئی ہے کہ یہ لہری اثر پیدا کرے تاکہ زیادہ سے زیادہ کمیونٹیوں کو واٹر شیڈ مینجمنٹ اَقدامات میں فعال طو رپر حصہ لینے کی ترغیب دی جاسکے۔اُنہوں نے مزید کہا،’’ہم مقامی آبادی بالخصوص نوجوانوں کو شامل کرکے ایک مضبوط نیٹ ورک بنانا چاہتے ہیں جو واٹر شیڈ ڈیولپمنٹ کے مقصد وابستہ اور اس کے لئے پُرعزم ہوں۔‘‘چیف ایگزیکٹیو آفیسرآئی ڈبلیو ایم پی رجنیش کمارنے مہم کے طویل مدتی اثرات پر زور دیتے ہوئے کہا، ’’ہمیں اُمید ہے کہ یہ اقدام پانی کی دستیابی، مٹی کی زرخیزی اور زرعی پیداوار میں نمایاں بہتری کا باعث بنے گا۔ بالآخر، یہ ہزاروں کسانوں اور دیہی گھرانوں کو فائدہ پہنچائے گا‘‘










