پرویز مانوس
رخشندہ رشید وادی کی معروف شاعرہ ہیں اور گزشتہ چالیس برس سے لکھ رہی ہیں، آج اُن کا دوسرا شعری مجموعہ “سکوتِ شب” منظرِ عام پر آیا ہے جو کہ دو سو صفحات پر مشتمل ہے، اسے الحیات پرنٹروگرافرس نے شائع کیا ہے اور اس کی قیمت تیس سو پچاس روپے رکھی گئی ہے، کتاب کا انتساب اپنے مجازی خُدا پروفیسر ڈاکٹر عبدلرشید صاحب کے نام کیا گیا ہے جو کہ حق بھی بنتا ہے، کتاب کا سرورق دیدہ زیب ہے اور کاغذ بھی معیاری استمعال یوا ہے اس سے قبل اُن کا ایک شعری مجموعہ “صدف” کے عنوان سے سنہ دو ہزار ایک میں منظر عام پر آکر داد و تحسین حاصل کر چکا ہے، تییس سال کا وقفہ اُن کی زندگی کا کافی قیمتی اور اہم وقت تھا جو بچوں کے مستقبل کو سنوارنا اور ساتھ میں اپنے سرکاری پیشہ سے انصاف بھی کرنا ایک خاتون کے لئے کافی مشکل ہے اس دوران اُن کے سر سے مجازی خُدا کا سائہ اُٹھ جانا جس سے اُن کا ٹوٹ جانا لازمی ہے لیکن اس کے باوجود انہوں نے اپنے اندر کے حوصلہ کو مجتمع کیا اور اپنے بکھرے ہوئے کلام کو از سرے نو ترتیب دے کر یہ مجموعہ منظرِ عام پر لایا
اُن کے اس مجموعہ میں غزلوں کے ساتھ ساتھ آذاد نظمیں بھی شامل ہیں ،اس مضمون میں ہم صرف اُن کی نظموں پر بات کریں گے، رخشندہ رشید کی نظمیں ، جو ان کی کتاب” سکوتِ شب” میں شامل ہے، اردو ادب کی جدید شعری روایت میں ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔ ان کی نظمیں زندگی کے تلخ حقائق، اندرونی کرب، خوابوں کے بکھرنے، فطرت کی خاموشی، اور انسانی جذبات کی پیچیدگیوں کی عکاسی کرتی ہیں۔ یہ شاعری محض خیالی یا رومانی تخیلات تک محدود نہیں بلکہ ایک سماجی، روحانی، اوہے۔فسیاتی گہرائی میں ڈوبی ہوئی ہے۔ ان نظموں کا مجموعہ قاری کو ایک ایسا تجربہ فراہم کرتا ہے جو اسے نہ صرف سوچنے بلکہ محسوس کرنے پر بھی مجبور کرتا ہے۔
وجودی کرب اور انسانی بے بسی
رخشندہ رشید کی شاعری میں وجودی کرب کا عنصر بہت نمایاں ہے۔ نظم اَن سُنی آواز میں شاعرہ ایک ایسی آواز کی بات کرتی ہیں جو “بے معنی” ہے اور جسے کوئی سننے والا نہیں۔ یہ انسانی زندگی کی بے بسی اور سماجی بے حسی کی تصویر کشی ہے، جہاں اپنے آنگن میں موجود لوگ بھی ایک دوسرے کی فریادوں کو سننے سے قاصر ہیں۔ نظم میں فطرت کے استعارے، جیسے سمندر، طوفان، اور سائیں سائیں کرتی ہوا، انسانی جذبات کی شدت کو بڑھا دیتے ہیں۔ شاعرہ اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ موجودہ دنیا میں انسانی رشتے اور احساسات کس قدر بے وقعت ہو چکے ہیں۔
جدائی اور تنہائی کا المیہ
رخشندہ کی شاعری میں جدائی اور تنہائی بار بار موضوع بنتے ہیں۔ نظم الوداع میں “خزاں میں جھلس گئی آہیں” اور “سانسیں بکھر گئی” جیسے اشعار انسانی زندگی کی بے مائیگی اور جدائی کے المیے کو آشکار کرتے ہیں۔ نظم تنہائی میں شاعرہ شور و غل کی بھیڑ میں بھی ایک گہری تنہائی کا احساس دلانے میں کامیاب ہیں۔ “نظریں دور دور تک” اور “خموشی کا پہاڑ” جیسے استعارے ایک ایسی داخلی کیفیت کی تصویر پیش کرتے ہیں جس میں انسان خود اپنے وجود کے معنی تلاش کرنے میں ناکام رہتا ہے۔یہاں میں اُن کی یہ نظم شامل کرنا چاہوں گا۔

“الوداع”
خزاں میں جھلس گئی آہیں
سحر کے آخری تارے کو
الوداع کہتے کہتے !
جذب ہو امن ہی من میں
اشکوں کا کارواں
جیسے اٹک گئی دھڑکن
قدموں کی آہٹ سے
تپتی زمین پر
آوارہ قطروں کی طرح
تاریکیاں نگلنے لگی
آس بھری نگاہوں کو
شام ڈھلنے سے پہلے ہی
سانسیں بکھر گئی
فطرت کے استعارے اور ماحولیاتی شعور
رخشندہ رشید کی شاعری میں فطرت کے استعارے بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔ نظموں میں بارش، چاند، شبنم، اور دھرتی جیسے مظاہر بار بار سامنے آتے ہیں، جو شاعرہ کی تخلیقی حسّیت اور فطرت سے قربت کو ظاہر کرتے ہیں۔ نظم چاند میں چاند کو ایک ایسے ساتھی کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو ماضی کی یادوں کو دوبارہ زندہ کرتا ہے۔ “وہ تیری میری باتیں کیا، پھر سے دھرایا کرتے ہو” جیسے اشعار انسانی تجربات اور یادوں کے تسلسل کو چاند کے استعارے سے جوڑتے ہیں۔ نظم بارش میں بارش کو تجدید اور سکون کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے، جو شاعرہ کے روحانی تجربے کی عکاسی کرتا ہے۔
بکھرتے خواب اور تلخ حقیقتیں
رخشندہ رشید کی شاعری خوابوں اور حقیقت کے درمیان ایک کشمکش کو بھی نمایاں کرتی ہے۔ نظم وحشت میں شاعرہ کہتی ہیں، “پھر بکھر گئے وہ خواب سبھی”، جو انسانی خواہشات کے ناکامیاب ہونے اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والے کرب کو ظاہر کرتا ہے۔ اسی طرح، نظم بکھرے خواب میں خوابوں کے بکھرنے کو “ٹوٹے پھوٹے لمحوں” اور “تلخ حقیقت” کے روپ میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ شاعری ایک ایسی دنیا کی عکاسی کرتی ہے جہاں خواب ایک مختصر وقت کے لیے خوشی کا باعث بنتے ہیں لیکن پھر تلخ حقیقتوں کے سامنے دم توڑ دیتے ہیں۔
انسانی رشتے اور جذبات کی پیچیدگیاں
رخشندہ رشید کی نظمیں انسانی رشتوں اور جذبات کی پیچیدگیوں کو بھی گہرائی سے بیان کرتی ہیں۔ نظم آرزو میں محبت کی جستجو اور اس کے حصول کی ناکامی کا اظہار کیا گیا ہے۔ “دل ناداں یہ کیسی آرزو ہے؟” جیسے اشعار انسانی دل کی کمزوری اور غیر معقول خواہشات کو نمایاں کرتے ہیں۔ نظم قربیتیں میں شاعرہ دکھاتی ہیں کہ غم اور خوشی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ “جو ان تاریک راتوں کے سہارے ہم نے دیکھی ہیں” جیسے اشعار سے یہ واضح ہوتا ہے کہ غم ہی درحقیقت محبت کی زمین کو زرخیز بناتے ہیں۔
کشمیر اور اس کی تنہائیاں
رخشندہ رشید کی شاعری کشمیر کے اجتماعی دکھ اور اس کی تنہائیوں کو بھی بڑے دل گداز انداز میں بیان کرتی ہے۔ نظم “کشمیر اور تنہائیاں” میں شاعرہ موسیقار زوبن مہتا کی آمد کے تناظر میں اس بات کا نوحہ کرتی ہیں کہ کشمیر کی خوبصورتی اور تاریخ کو ایک سادہ موسیقی کے جشن میں قید کر دیا گیا ہے، جبکہ اس کے حقیقی زخم اور دکھ نظر انداز کر دیے گئے ہیں۔ “اس شہر کی گنگا میلی ہے، بہتے ہوئے خون کے قطروں سے” جیسے مصرعے کشمیر کی جدوجہد اور مظلومیت کی تصویر کشی کرتے ہیں۔یہاں میں آُن کی ایک اور نظم پیش کرنا چاہوں گا یاد رہے کہ یہ وہ وقت تھا جب کشمیر میں ہر طرف بارود کی بُو پھیلی ہوئی تھی
“کشمیر اور تنہائیاں”
(موسیقار زو بن مہتا کی کشمیر آمد پر )
ہم آنے والے آئے تھے
جو کر کے اپنا کام چلے
اس شہر کی گنگا میلی ہے
بہتے ہوئے خون کے قطروں سے
صدیاں گزریں اس شہر میں جب
شہنائی بجتی رہتی تھی
ہر روز اک دُلہن سنورتی تھی
ہر رات میں آنگن سجتے تھے
وہ بات نہیں اس مٹی میں
جب صحرا میں گُل کھلتے تھے
پر ہم انجانے کیا جانیں؟
جو ڈھولک لے کر آئے ہیں
اتہاس کے پنّوں پر لکھنے
خموشی ، سنانے اور خوف و خطر
کشمیر کی ایک اک چوٹی بھی
جھک جھک کے سسکتی رہتی ہے
ڈل جھیل کے کنول کھلتے ہیں
معصوم سوالوں کو لے کر
ہم کو سبز کے دامن میں
سب راگ بجانے بھول گئے
روحانی سکون اور اطمینان قلب
رخشندہ کی شاعری میں ایک گہری روحانی جہت بھی موجود ہے۔ نظم اطمینانِ قلب میں شاعرہ ایک ایسے سکون کا ذکر کرتی ہیں جو اندرونی تبدیلی اور خدا کے قریب ہونے سے حاصل ہوتا ہے۔ “شاید میری مٹی زرخیز ہونے لگی” جیسے مصرعے انسان کے اندرونی ارتقا اور زندگی کے معنی کو دریافت کرنے کے سفر کو بیان کرتے ہیں۔
اسلوب اور زبان
رخشندہ رشید کا اسلوب سادہ لیکن گہرا ہے۔ ان کی زبان میں جذبات کی شدت اور احساس کی گہرائی کا امتزاج موجود ہے۔ وہ اپنے خیالات کو بیان کرنے کے لیے استعاروں اور تشبیہوں کا خوبصورتی سے استعمال کرتی ہیں۔ ان کی نظموں میں موسیقیت بھی نمایاں ہے، جو قاری کو ایک وجدانی تجربہ فراہم کرتی ہے۔
جمالیاتی تناظر
رخشندہ کی شاعری جمالیاتی طور پر انتہائی متاثر کن ہے۔ ان کی نظموں میں فطرت کے استعارے، انسانی جذبات کی نزاکت، اور روحانی تجربے کا امتزاج قاری کو ایک گہرا تخلیقی تجربہ فراہم کرتا ہے۔ ان کی شاعری قاری کو زندگی کی مختلف جہات پر غور کرنے پر مجبور کرتی ہے، اور اسے ایک ایسی دنیا میں لے جاتی ہے جہاں خواب، حقیقت، اور جذبات ایک دوسرے میں مدغم ہو جاتے ہیں۔اُن کی ایک اور نظم حاضر ہے
قُربیتیں “
شبِ غم ہے
تو راحت ہے
یہی لمحے تو اپنے ہیں
سناٹوں میں جو گزرے ہیں
کہ راتیں خوف خوردہ ہی صحیح
بیدار ہیں لیکن
بہاروں میں نہ پائی تھیں
کبھی یہ قربتیں ایسی
جو ان تاریک راتوں کے
سہارے ہم نے دیکھی ہیں
جسے ہم فصل غم کہتے
اصل میں فصل گل ہے وہ
ٹپک جائیں تو کھیتی محبتوں کی
لہلہاتی ہے
رخشندہ رشید کے شعری مجموعے “سکوتِ شب” میں امن و سکون کی جستجو ایک مرکزی موضوع کے طور پر ابھرتی ہے۔ ان کی شاعری کا کلام داخلی اور خارجی دونوں سطحوں پر ایک ایسی دنیا کی تلاش ہے جہاں سکون، امید، اور روحانی آسودگی موجود ہو۔ شاعرہ کے الفاظ میں کشمکش، درد، اور بکھرتی حقیقتوں کے درمیان ایک ایسی روشنی کی خواہش نظر آتی ہے جو تاریکیوں میں امید کا چراغ جلائے۔
امن کی خواہش اور اضطراب کی کیفیت
رخشندہ رشید کی نظموں میں داخلی اضطراب کو جس شدت سے بیان کیا گیا ہے، وہ امن کی شدید خواہش کا مظہر ہے۔ نظم “اطمینانِ قلب” میں شاعرہ اپنے اندر سکون کے ظہور کو محسوس کرتی ہیں، لیکن اس اطمینان کا تعلق ایک گہری تمنا اور انتظار سے ہے۔ وہ سوال کرتی ہیں:
“کیا وہ سچ سچ میرے اندر کی دنیا میں تشریف آور ہوئے؟”
یہ سوالات ایک ایسا روحانی مکالمہ ظاہر کرتے ہیں، جو شاعرہ کو امن اور سکون کے قریب لے جانے کی کوشش کرتا ہے۔
اسی طرح نظم “بارش” میں قدرت کے حسن کو امن کا استعارہ بنایا گیا ہے۔ بارش کی نرم پھوار شاعرہ کے دل کی کیفیت کو بدل دیتی ہے اور سکون کی خواہش کو بیدار کرتی ہے:
“سب بدل دیتا ہے، لمحوں میں / عالم دریا بھی اور موجیں بھی۔”
یہ ایک داخلی تبدیلی اور سکون کے حصول کا تجربہ ہے، جو فطرت کے ذریعے ممکن ہوتا ہے۔
سکون اور درد کا تعلق
رخشندہ رشید کی شاعری میں سکون کی تمنا اکثر درد اور جدوجہد کے پس منظر میں نظر آتی ہے۔ نظم “آدھ مری سانسیں” میں خاموشی اور بیگانگی کی گونج موجود ہے، جو اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ سکون کی تلاش کا سفر کبھی ختم نہیں ہوتا۔ شاعرہ اپنے اندر کی دنیا کا جائزہ لیتی ہیں اور سوچتی ہیں کہ آیا وہ واقعی زندہ ہیں یا محض ایک سایہ۔
یہ کیفیت نظم “تنہائی” میں بھی جھلکتی ہے، جہاں وہ کہتی ہیں:
“تنہا تنہا تھیں بھیڑ میں نظریں / دُور دُور تک کوئی چہرہ ہی نہ تھا۔”
یہ تنہائی اور شور کے درمیان سکون کی جستجو کو ظاہر کرتی ہے، جو شاید کسی خواب، کسی امید، یا کسی یاد کے ذریعے حاصل ہو سکتی ہے۔
امید کے استعارے
رخشندہ رشید کے ہاں امید کا استعارہ زیادہ تر قدرت کے مناظر یا داخلی جذبات کے ذریعے پیش کیا جاتا ہے۔ نظم “قربیتیں” میں راتوں کی تاریکی کو ایک مثبت انداز میں بیان کیا گیا ہے، جہاں یہ تاریک راتیں سکون اور قربت کی فصلوں کو پروان چڑھاتی ہیں:
“جسے ہم فصل غم کہتے / اصل میں فصل گل ہے وہ۔”
یہاں شاعرہ دکھ اور تکلیف کو ایک مثبت تبدیلی کی علامت کے طور پر دیکھتی ہیں، جو اندرونی سکون اور امن کا باعث بن سکتی ہے۔
نظم “چاند” میں چاند کی مسکراہٹ ایک گہری یاد اور سکون کی تصویر پیش کرتی ہے۔ شاعرہ ماضی کے خوشگوار لمحات کو یاد کرتی ہیں، اور ان یادوں کے ذریعے سکون پانے کی کوشش کرتی ہیں۔ ان کے الفاظ میں چاند کی روشنی ایک امید اور روشنی کی علامت بن جاتی ہے، جو دل کی کیفیت کو تسلی دیتی ہے۔ یہ نظم بھی ملاحظہ فرمائیں –
قربان چاند”
تیرگی میں ڈوبی
صحرا کی شرمندگی دیکھ رہی تھی
جب چاند نے اپنا چہرہ ڈھک لیا
سارے کے سارے تارے
سحر کی آغوش میں سمٹ گئے
رات بھر آسمان
چاند کی قربانی دیکھ کر
سسک سسک کے
رورہا تھا
جدوجہد کے باوجود سکون کی جستجو
رخشندہ رشید کی نظموں میں جدوجہد اور سکون کی تمنا ایک ساتھ چلتی ہیں۔ نظم “بکھرے خواب” میں خوابوں کے بکھرنے اور حقیقت کی تلخی کے باوجود، شاعرہ ایک نئی صبح کا ذکر کرتی ہیں، جو ایک نئی امید کو ظاہر کرتی ہے۔
اسی طرح نظم “جدائی” میں زندگی کی تلخیوں کے باوجود امید کی روشنی موجود ہے:
“ابھی کچھ آس باقی ہے / کوئی تو ہم قدم ہی ہے۔”
یہ امید، جو دکھ اور جدائی کے بیچ پروان چڑھتی ہے، امن اور سکون کی تلاش کا ثبوت ہے۔
اجتماعی امن کی تمنا
رخشندہ رشید کی شاعری نہ صرف انفرادی بلکہ اجتماعی امن کی بھی بات کرتی ہے۔ نظم “کشمیر اور تنہائیاں” میں شاعرہ کشمیر کے درد کو بیان کرتے ہوئے ایک ایسی دنیا کی تمنا کرتی ہیں، جہاں خون کے دھبے مٹ جائیں اور شہنائی کی آوازیں دوبارہ گونجیں:
“صدیاں گزریں اس شہر میں جب / شہنائی بجتی رہتی تھی۔”
یہ امن کی ایک ایسی تصویر ہے، جو اجتماعی خوشی اور سکون کی علامت ہے۔
مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ رخشندہ رشید کی شاعری، خاص طور پر “سکوتِ شب”, انسانی دل کے اندر امن اور سکون کی خواہش کو بیان کرتی ہے۔ ان کی نظمیں امید، یاد، اور فطرت کے مختلف پہلوؤں کے ذریعے سکون کی جستجو کو اجاگر کرتی ہیں۔ ان کے کلام میں امن کی تلاش ایک سفر کی طرح ہے، جو نہ صرف انفرادی زندگی بلکہ اجتماعی معاشرتی حالات کو بھی شامل کرتا ہے۔ ان نظموں میں موجود گہرے جذبات اور استعارے قاری کو سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ سکون اور امن کس طرح ہماری زندگیوں کا بنیادی حصہ ہیں، اور ہم انہیں کیسے تلاش کر سکتے ہیں-
مجھے یہ کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں کہ “سکوتِ شب” میں شامل نظمیں ان کی تخلیقی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ان کی نظمیں قاری کو زندگی کے مختلف پہلوؤں، جیسے محبت، جدائی، فطرت، اور انسانی تجربات کی گہرائی کو سمجھنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔ ان کی شاعری محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک ایسا تجربہ ہے جو دل و دماغ دونوں کو متاثر کرتا ہے۔ یہ مجموعہ اردو ادب میں ایک قیمتی اضافہ ہے اور مستقبل میں بھی اپنی معنویت اور تاثیر برقرار رکھے گا۔ساتھ ہی قاری مستقبل میں اُن سے بہتر لکھنے کی توقع رکھیں گے _ ،،
آزاد بستی ویسٹ سرینگر
9419463487










