انسانی حقوق کا دن ہمیں اس بات پر غور کرنے کا موقع فراہم کراتا ہے کہ انسان ہونے کا مطلب کیا ہے

اور نوع انسانی کے بنیادی وقار میں اضافہ کرنے میں ہمارا رول کیا ہے: صدر جمہوریہ دروپدی مرمو

سرینگر//صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے کہا کہ انسانی حقوق کا دن ہمیں اس بات پر غور کرنے کا موقع فراہم کراتا ہے کہ انسان ہونے کا مطلب کیا ہے اور نوع انسانی کے بنیادی وقار میں اضافہ کرنے میں ہمارا رول کیا ہے۔ہمارے حقوق، ہماری ساجھا ذمہ داری ہیں۔ وائس آف انڈیا کے مطابق صدرجمہوریہ دروپدی مرمو نے کہا کہ انسانی حقوق کے عالم گیر اعلامئے میں ایسے حقوق اور آزادی کی وضاحت کی گئی ہے جن کا ہر ایک انسان مستحق ہے۔ یہ حقوق غیر منقسم ہیں اور ان کا انحصار پوری طرح اس حقیقت پر ہے کہ ہر ایک انسان کا تعلق نسل انسانی سے ہی چاہے وہ کسی بھی علاقے، صنف، قومیت، مذہب، زبان اور دیگر فرقے سے تعلق رکھتا ہو۔ اس اعلامئے کے بعد عالمی برادری نے رسمی طور پر بنیادی انسانی وقار کو تسلیم کیا۔ حالانکہ یہ صدیوں سے ہماری روحانی روایات کا حصہ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ عالمگیر اعلامئے کے آرٹیکل 1 میں کہا گیا ہے ’’تمام انسان آزاد اور یکساں وقار اور حقوق لیکر پیدا ہوتے ہیں‘‘۔ دروپدی مرمو نے کہا کہ مساوات انسانی حقوق کی روح ہے۔ انسانی وقار کے مکمل احترام کے لئے غیر جانبداری پہلی شرط ہے۔ لیکن دنیا متعدد تعصبات سے بھری ہے جو کہ شخصی صلاحیت کو پوری طرح بروئے کار لانے میں رکاوٹ بنتے ہیں اور اس طرح مجموعی طور پر یہ معاشرے کے مفاد میں نہیں ہیں۔ انسانی حقوق کا دن ہمارے لئے ایک بہترین موقع ہے کہ ہم اجتماعی طور پر گور کریں اور ایسے تعصبات پر قابو پانے کے طریقے تلاش کریں جو نوع انسانی کی ترقی میں محض رکاوٹ بنتے ہیں۔صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے کہا کہ اس دن دنیا کو ’ایک صحت مند ماحول اور آب و ہوا کے انصاف کے حق‘ پر بھی بات چیت کرنی چاہئے۔ قدرت میں گراوٹ آنے سے آب و ہوا میں ناقابل تغیر تبدیلیاں ہورہی ہیں اور اب اس کے نقصان دہ اثر کو دیکھ رہے ہیں۔ دنیا کو اس تلخ حقیقت کا احساس ہوتا ہے لیکن ابھی فیصلہ کن تبدیلی کرنے کے لئے عزم نہیں کیا گیا ہے۔ ہم پر ہمارے بچوں کا یہ قرض ہے کہ ہم صنعت کاری کے خراب ترین اثرات سے قدر کو بچائیں۔ وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔ انہیں اس بات سے خوشی ہوئی کہ بھارت نے ملک میں اور حال ہی میں منعقدہ عالمی ماحولیاتی کانفرنس میں پہل قدمی کی ہے۔ جس کے کرہ ارض کی صحت کی بحالی میں دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ خصوصی طور پر بین الاقوامی شمسی اتحاد میں بھارت کی قیادت اور گرین انرجی کو فروغ دینے کے لئے کئے اقدامات قابل تعریف ہیں۔