سی جے آئی سنجیو کھنہ نے جسٹس منموہن کو سپریم کورٹ کے جج کے عہدے کا حلف دلایا

چیف جسٹس آف انڈیا سنجیو کھنہ نے جمعرات کو دہلی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس منموہن کو سپریم کورٹ کے جج کے طور پر عہدے کا حلف دلایا۔ اس کے ساتھ ہی سپریم کورٹ کو ایک نیا جج مل گیا ہے۔ جسٹس منموہن اب تک دہلی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس تھے۔ 3 دسمبر کو صدرجمہوریہ نے ان کی تقرری کو منظوری دی تھی۔جسٹس منموہن 2008 سے دہلی ہائی کورٹ کے جج تھے۔ 29 نومبر کو سپریم کورٹ کالجیم نے ان کے نام کی سفارش مرکزی حکومت کو بھیجی تھی۔ اب تک سپریم کورٹ میں منظور شدہ 34 ججوں میں سے 2 عہدے خالی تھے۔ یہ عہدے جسٹس ہما کوہلی اور چیف جسٹس کے ریٹائر ہونے کے بعد خالی ہوئے تھے۔ جسٹس منموہن کی تقرری کے بعد سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد 33 ہو گئی ہے۔61 سال کے جسٹس منموہن جموں و کشمیر کے سابق گورنر اور سابق مرکزی وزیر جگموہن کے بیٹے ہیں۔ جسٹس منموہن کی پیدائش 17 دسمبر 1962 کو ہوئی تھی۔ انہوں نے دہلی کے ماڈرن اسکول سے پڑھائی کی۔ 1987 میں دہلی یونیورسٹی سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔
16 سال وکالت کی پریکٹس کرنے کے بعد 2003 میں دہلی ہائی کورٹ نے انہیں سینئر وکیل کا درجہ دیا۔ وکیل کے طور پر انہوں نے دابھول پاور، حیدرآباد نظام کے خزانہ مقدمہ سمیت کئی اہم کیس لڑے۔ 2008 میں وہ دہلی ہائی کورٹ کے جج بنے۔ 2009 میں وہ مستقل جج مقرر ہوئے۔ نومبر 2023 میں وہ دہلی ہائی کورٹ کے کارگذار چیف جسٹس بنائے گئے۔ اسی سال ستمبر میں وہ دہلی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بنے۔ دہلی ہائی کورٹ میں جج رہتے ہوئے جسٹس منموہن نے شہریوں کے حقوق کے تحفظ کو لے کر کئی پیغام دیئے۔ بدھ کو دہلی ہائی کورٹ میں منعقد الوداعیہ تقریب میں انہوں نے کہا “میں نے ہمیشہ یہ کوشش کی ہے کہ لوگوں کا عدالتی انصاف میں یقین بنا رہے۔ انصاف کے نظام کی کامیابی اسی بات میں ہے کہ اس پر لوگ کتنا اعتماد کرتے ہیں۔”