حکومت نے سرحد سمیت دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی ہے / نیتی آئند رائے
سرینگر // گزشتہ 3 سالوں میں ہند پاک سرحد پر 5 فوجی مارے گئے کی بات کرتے ہوئے امور داخلہ کے وزیر مملکت نیتی آ نند رائے نے کہا کہ حکومت نے ہند پاک سرحد سمیت دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی ہے اور حکومت کا نقطہ نظر دہشت گردی کے ماحولیاتی نظام کو ختم کرنا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سرحدوں پر چوبیس گھنٹے تسلط کو یقینی بناتے ہوئے دہشت گردوں کی دراندازی کو روکنے کیلئے سرحدی محافظ دستوں کا کثیر الجہتی طریقہ کار موجود ہے جس میں باقاعدہ گشت، سرنگ مخالف مشقیں، ناکے لگانا اور مشاہداتی چوکیوں کی نگرانی کرناشامل ہے ۔ سی این آئی کے مطابق امور داخلہ کے وزیر مملکت نیتی آ نند رائے نے کہا کہ گزشتہ تین سالوں میں ہندوستان پاکستان سرحد پر پانچ ہندوستانی فوجی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں انہوں نے کہا کہ سال 2021 میں چار فوجی ہلاک ہوئے، جبکہ ایک فوجی نے سال 2022 میں لائن آف کنٹرول کے ساتھ اپنی جان گنوائی۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے پاک بھارت سرحد سمیت دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی ہے اور حکومت کا نقطہ نظر دہشت گردی کے ماحولیاتی نظام کو ختم کرنا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت نے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن کے نتیجے میں سرحد پر دہشت گردی کی سرگرمیوں پر قابو پایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان اقدامات میں دہشت گردی سے متعلق تمام معاملات پر مرکز اور ریاستی سطح پر انٹیلی جنس اور سیکورٹی ایجنسیوں کے درمیان قریبی اور موثر تال میل شامل ہے۔انہوں نے کہا ’’ ملٹی ایجنسی سینٹر کو مضبوط بنانا اور اسے چوبیس گھنٹے بنیادوں پر کام کرنے کیلئے منظم کرنا تاکہ دہشت گردی سے متعلق تمام معاملات پر دیگر انٹیلی جنس ایجنسیوں اور ریاستوں کے ساتھ انٹیلی جنس کے حقیقی وقت میں تعاون اور اشتراک کیا جا سکے، اور ریاست اور ریاستوں کے درمیان معلومات کے بغیر کسی رکاوٹ کے بہاؤ کو یقینی بنایا جا سکے‘‘۔وزیر نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات سے نمٹنے کیلئے ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی طرف سے خصوصی دستوں کی تشکیل۔ اس طرح کے واقعات سے نمٹنے میں ریاستوں کی مدد کیلئے مرکزی مسلح پولیس فورس اور نیشنل سیکورٹی گارڈ کو بھی مختلف مقامات پر تعینات کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا’’قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) دہشت گردی سے متعلق معاملات کی تحقیقات کیلئے قائم کی گئی ہے۔ مرکزی ایجنسیوں نے انٹیلی جنس شیئرنگ اور دہشت گردی کے معاملات کی تحقیقات کے حوالے سے ریاستی فورسز کے لیے صلاحیت سازی کے پروگرام منعقد کیے ہیں۔ ‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سرحدوں پر چوبیس گھنٹے تسلط کو یقینی بناتے ہوئے دہشت گردوں کی دراندازی کو روکنے کے لیے سرحدی محافظ دستوں کا باقاعدہ گشت، سرنگ مخالف مشقیں، ناکے لگانا اور مشاہداتی چوکیوں کی نگرانی کرنا جیسا کثیر الجہتی طریقہ کار موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرحدی باڑ کی شکل میں فزیکل انفراسٹرکچر کو بین الاقوامی سرحد کے ساتھ کھڑا اور برقرار رکھا گیا ہے اور اندھیرے کے اوقات میں علاقے کو روشن کرنے کے لیے بارڈر فلڈ لائٹس لگائی گئی ہیں۔وزیر نے مزید کہا کہ کمزور سرحدی چوکیوں کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جاتا ہے اور اضافی افرادی قوت، نگرانی کے خصوصی آلات اور دیگر فورس ملٹی پلائرز کی تعیناتی کے ذریعے انہیں مضبوط بنایا جاتا ہے۔










