ہمیں بجلی نہیں، اندھیرے کے بل اداکرنے پڑتے ہیں

ہمیں بجلی نہیں، اندھیرے کے بل اداکرنے پڑتے ہیں

موسم سرما کے شروع ہوتے ہی وادی کنڈ میں بجلی کا بحران اورعوام پریشان

سرینگر///جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کے تحصیل دیوسر کے وادی کنڈ علاقے میں موسم سرما کے شروع ہوتے ہی بجلی کی آنکھ مچولی کا کھیل بھی شروع ہو گیا ہے۔ وادی کنڈ میں موسم سرما کی امد اور بجلی کی انکھ مچولی کا چولی دامن کا جیسا ساتھ ہے۔وائس آف انڈیا کے نمائندے امان ملک کے مطابق علاقہ کنڈ میں بجلی کی غیر اعلانیہ کٹوتی کی وجہ سے عام سارفین کے ساتھ ساتھ کاروباری اداروں اور طلبہ و طالبات کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے. اس حوالے سے لوگوں نے بات کرتے ہوئے کہاوادی کنڈ کے اکثر و بیشتر علاقہ کے لوگوں کو گھپ اندھیرے میں رہنا پڑتا ہیں۔ اس حوالے سے سیاسی وسماجی کارکن ایڈوکیٹ عبدا رحمان تانترے نے نمایندے امان ملک کو بتایا کہ محکمہ بجلی، سارفین سے ہر مہینے بجلی فیس وصول کرنے کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتا ہے لیکن وہی ابھی تک محکمہ بجلی کے نظام کو بہتر بنانے میں ناکام ہو کر رہ گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ابھی تک کنڈ علاقے میں موسم میں بہتری دیکھنے کو ملی ہے لیکن اس کے باوجود پورا علاقہ کے لوگ بجلی کے بحران سے دوچار ہو کر رہ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہاں بجلی کی کٹوتی کا کوئی مقرر وقت نہیں ہے اور محکمہ اپنی من مانی سے کام چلا رہا ہے۔ اس حوالے سے مقامی شہری غلام محمد نے کہا کہ یہاں کی غریب عوام کو روشنی کی نہیں بلکہ اندھیرے کی بلیں ہر مہینے پے باضابطہ طور پر ادا کرنی پڑتی ہیں جو یہاں کے لوگوں کے ساتھ سراسر نا انصافی اور ذاتی ہیں۔ غلام محمد نے مزید بات کرتے ہوئے کہا محکمہ پی ڈی ڈی کی کارکردگی پر ہم نالاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقے کنڈ میں کم وولٹیج اور غیر اعلانیہ کٹوتی نے صارفین کے مسائل میں مذید اضافہ کر دیا ہے۔ ادھر تحصیل دیوسر کے دیگر بالائی علاقہ جات برنل، لامڑ، چورٹ، گنڈپورہ، بیرگام، سوپٹ، ایڈگام، گنگ ڈار، اکہال اور دیوسر کے دیگر تمام علاقہ جات بجلی کے بحران سے دوچار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شام ہوتے ہی تحصیل ھذا میں گھپ اندھیرا چھا جاتا ہے اور صارفین کو ماہانہ بجلی بلوں کی ادائیگی میں محکمہ بجلی کوئی لیت ولعل نہیں کر رہے ہیں بلکہ بجلی سپلائی بحال رکھنے میں بخل سے کام لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں 24 گھنٹے بجلی کی فراہمی کی کوئی امید تو نہیں ہے لیکن کم از کم شیڈول کے مطابق ہی اگر بجلی فراہم کی جائے تاکہ ہمیں بھی سکون کی راحت نصیب ہو۔ بجلی کے اس بحران کو لے کر تمام لوگوں نے محکمہ بجلی اور پوری انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ پوری تحصیل میں شیڈول کے مطابق بجلی کی فراہمی اور نظام کو بہتر کرنے کی کوشش کریں۔