راجیہ سبھا سکرٹریٹ نے خالی سیٹوں کے حوالہ سے حکام کو مطلع کیا ،الیکشن کمیشن آف انڈیا جلد ہی نوٹیفکیشن جاری کرے گا
سرینگر/// جموں و کشمیر میں راجیہ سبھا کی چار نشستوں کیلئے انتخابات اگلے سال جنوری میں ہونے کی امید ہے جب ایوان بالا کی کچھ خالی سیٹوں کو دیگر ریاستوںیا مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں بھی پْر کی جائیں گی۔ اس ضمن میں راجیہ سبھا سکرٹریٹ نے خالی سیٹوں کے حوالہ سے حکام کو مطلع کیا ہے جبکہ الیکشن کمیشن آف انڈیا ان کیلئے جلد ہی نوٹیفکیشن جاری کرے گا۔سی این آئی کے مطابق جموں و کشمیر سے راجیہ سبھا کی چاروں سیٹیں فروری 2021 سے خالی ہیں کیونکہ قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں تاخیر ہوئی تھی۔ تاہم ماہ ستمبر اکتوبر میں ہونے والے اسمبلی انتخابات اور نئے ایوان کی جگہ کے ساتھ،راجیہ سبھا کی نشستوں کیلئے ایک نوٹیفکیشن اکتوبر کے وسط میں جاری ہونے کی امید تھی۔90 ممبران پر مشتمل ایوان میں88 ممبر اسمبلی ہیں جن میں دو سیٹیں خالی ہیں جبکہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بڈگام سیٹ سے استعفیٰ دے دیا اور گاندربل کو برقرار رکھا اور نگروٹا سے بی جے پی ممبر اسمبلی دیویندر سنگھ رانا کی موت ہوگئی۔ذرائع نے بتایا کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا، جو راجیہ سبھا کے انتخابات کے انعقاد کیلئے ذمہ دار ہے، عام طور پر اگر زیادہ ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں انتخابات ہونے ہیں تو ان کو جوڑ کر مشق کرتا ہے۔ چونکہ مزید ریاستوں/UT میں کچھ سیٹیں ہونگی جموں و کشمیر کی چار راجیہ سبھا سیٹوں کیلئے انتخابات ان کے ساتھ جوڑے جا رہے ہیں اور اب جنوری کے مہینے میں ہونے کی امید ہے۔ذرائع نے بتایا کہ ممبر اسمبلی حلف لینے کے فوراً بعد ووٹ ڈالنے کے اہل ہو جاتے ہیں۔راجیہ سبھا انتخابات کے معاملے میں، خالی آسامیوں کو راجیہ سبھا سکریٹریٹ کے ذریعہ مطلع کیا جاتا ہے جو پہلے ہی ہوچکا ہے جبکہ ووٹنگ کے لئے نوٹیفکیشن الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ذریعہ جاری کیا جاتا ہے۔ نیشنل کانفرنس، کانگریس اور آزاد امیدواروں کا اتحاد راجیہ سبھا کی چار میں سے تین سیٹیں جیت سکتا ہے جبکہ بی جے پی ایک سیٹ پر محفوظ رہے گی جو بڑی پارٹیاں قانون ساز اسمبلی میں حاصل کرتی ہیں۔










