ہند چین تنازعہ کا باعث دونوںممالک کی جانب سے الگ الگ نقشہ ۔ فوجی سربرا ہ جنرل انل چوہان

ہندوستان کو یہ مان کر ہی اپنی فوجی تیاریوں کو مضبوط کرنا چاہیے کہ چین مستقبل کی جنگ کے لیے پوری طرح سے تیار ہو سکتا ہے

سرینگر//چین اور ہندوستان لداخ میں سرحدی تنازعہ پر بات کرتے ہوئے فوجی سربراہ جنرل انل چوہان نے کہا ہے کہ یہ تنازع دونوں ممالک کے نقشوں کی الگ الگ سمجھ کی وجہ سے ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ کون سا صحیح ہے اور کون سا غلط ہے۔جنرل چوہان نے کہا ‘ہندوستان کو یہ مان کر ہی اپنی فوجی تیاریوں کو مضبوط کرنا چاہیے کہ چین مستقبل کی جنگ کے لیے پوری طرح سے تیار ہو سکتا ہے۔وائس آف انڈیا کے مطابق ہندوستان کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف (سی ڈی ایس) جنرل انل چوہان نے ہند۔-چین سرحد تنازع پر اہم بیان دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تنازع دونوں ممالک کے نقشوں کی الگ الگ سمجھ کی وجہ سے ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ کون سا صحیح ہے اور کون سا غلط۔ جنرل چوہان نے انڈیا انٹرنیشنل سینٹر (آئی آئی سی) میں ‘مستقبل کی جنگ اور ہندوستانی مسلح افواج’ کے موضوع پر ایک لیکچر کے دوران یہ باتیں کہیں۔جنرل انل چوہان سے جب نقشہ کے 1947 کے بعد سکڑنے اور خصوصی طور سے چین کے تعلق سے سوال پوچھا گیا تو انہوں نے کہا “اگر ہم 1950 میں چین کی حالت میں ہوتے اور ان کا نقشہ دیکھتے تو انہیں بھی یہ لگتا کہ ان کا نقشہ سکڑ رہا ہے۔ وہ اروناچل پردیش کا دعویٰ کرتے ہیں۔ یہ تنازع چلتا رہے گا۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ کون سا صحیح ہے اور کون سا غلط۔”۔ انہوں نے کہا کہ دونو ملکوں کے نظریات ایک دوسرے سے برعکس ہیں اس لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ کون صحیح ہے۔اس موقع پر چین اور پاکستان کی فوجی تیاریوں پر تبصرہ کرتے ہوئے جنرل انل چوہان نے کہا کہ کوئی بھی پیشہ ور فوج مستقبل کی جنگ کے لیے تیاری کر رہی ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ چین نے اپنی فوج کی تنظیم نو 9 سال پہلے ہی کر لی تھی۔ ہندوستان کو یہ مان کر ہی اپنی فوجی تیاریوں کو مضبوط کرنا چاہیے کہ چین مستقبل کی جنگ کے لیے پوری طرح سے تیار ہو سکتا ہے۔’اگنی پتھ’ منصوبہ پر بات کرتے ہوئے انل چوہان نے کہا کہ یہ ایک اچھا قدم ہے۔ اس منصوبہ میں کچھ تبدیلی کی جا سکتی ہے تاکہ اسے اور بھی موثر بنایا جا سکے۔