پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن کی من مانی وادی کشمیر میں عروج پر ترسیلی ہائی ٹینشن لائنوں کی مرمت شاخ تراشی رسیونگ اور گرڈ اسٹیشنوں کاجائزہ لینے کی آڑ میں نصف سے زیادہ وادی ہر دن بجلی کی فراہمی سے محروم رہتی ہے۔ جموںو کشمیر بالعموم اس وادی کشمیر بالخصوص بجلی کی عدم دستیابی کاپچھلے ایک دہائی سے عدم دستیابی کاسامناکررہی ہے او راس مدعت کے دوران بجلی فیس میں چا رسوگناہ اضافہ ہوا اور بجلی کی فراہمی میں سات سو فیصدی کی کمی واقع ہوئی ۔وادی کے تمام دس اضلاع سے تعلق رکھنے والے لوگ ا س بات کی مسلسل شکایت کرہے ہیں کہ بجلی کی دستیابی اب ان کے لئے وبالجان بن گئی ہے ۔عوامی کو حلقوں کے مطابق ایک نیا قانون یہاں بنایاگیا جس سے کٹوتی کانام دیاگیا اسکی کوئی جوازیت محکمہ کے پاس نہیں عوام صارفین او رکا رپوریشن کے درمیان ایگریمنٹ کی صورت میں ایک معاہدہ ہوتا ہے کہ کارپوریشن بجلی دیگی اور لوگ اس کی قیمت اد اکرینگے اور یہ قیمت رعایتی داموں پر ہوگا سرکار اس میں مداخلت کریگی ایسااس لئے کہ سرکار کے لئے عام انسان ٹیکس اد اکرتاہے او رسرکارکی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ہرایک شہری کو بنیادی سہولیا ت فراہم کرے کس لئے وہ وعدہ بند ہے ۔جموں وکشمیر کے پہلے وزیر اعظم جومہاراجہ دور میں حکومت کی سربراہی کرتے تھے ۔رام چند کاکہناتھاکہ جموںو کشمیر ایک ایسی جگہ ہے جہاں قدرت نے ا سے ایک ایسے خزانے سے مالامالا ہے کہ جوکسی ریاست ملک کے پاس نہیں وہ ہے پانی اور اگراس پانی کااستعمال کیاجائے توجموںو کشمیر میں ساٹھ ہزار میگاواٹ بجلی پید اہوگی ماہراقتصادیات کامانناہے کہ اگر وزیراعظم کے اس بیان کوصحیح ماناجائے تو ملک صرف دو برسوں کے اندرا ندر سکسٹرین اقتصادی او رمعاشی ملک بن کر سامنے آئے گا ۔کٹوتی کے نام پر جواستحصال وادی کے صارفین کے ساتھ کیاجارہا ہے اسکی مثال نہیں مل پارہی ہے ۔کارپوریشن اپنی حالت کوبہتربنانے بجلی کی فراہمی کویقینی بنانے میں ناکام ثابت ہوچکی ہے اور یہ کارپوریشن اپنی غیرمنصوبہ بندی کاالزام لوگوں پرلگا دینگے ْ۔اعداد شمار سے یہ صاف ظاہرہوتا ہے کہ وادی کشمیرمیں اب بھی پچاس فیصد بجلی نظام درست نہیں ہے ۔دور دراز اور پہاڑی علاقوں کی صورتحال انتہائی تباہ کن ہے گرمائی دارلخلافہ سرینگرکے علاقوں میں محکمہ پی ڈی ڈی کی کا رکردگی انتہائی ناقص ہے ترسیلی لائنیں درختوں ڈھونڈوں سے گزاری گئی ہے ڈاون ٹاون سرینگر میں ایک بجلی کے کھمبے پردس سے زیادہ کنبوںکوکنکشن فراہم کئے گئے ہے او رجس دن اس غلطی کی سزا سامنے آئے گی وہ لوگوں کوبگھتنی پڑے گی ۔پچھلے تین دہائیوںسے پی ڈی ڈی محکمہ بجلی کے نظام کودرست کرنے میں کامیاب ثابت نہیں ہوا زبانی جمع خرچ کے سواور کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی نومنتخب حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ پانچ سو میگاواٹ بجلی شمالی گرڈ سے خریدے گے۔










