جموںوکشمیر میں گذشتہ کئی برسوں سے پیداشدہ مالی بحران میںکاروباری اور تجارتی سرگرمیوں میں کوئی بہتری دیکھنے کو نہیں ملتی ہے اور عام لوگ بدستور مالی بدحالی کی وجہ سے پریشان حال ہیں ۔اس سلسلے میں وادی کے مختلف علاقوں سے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد اورتاجروں نے جموں وکشمیر کی اقتصادی حالت اورتجارتی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ تجارت بے روزگاروں کیلئے ایک اہم وسیلہ ہے لیکن یہ کافی حد متاثر ہوئی اور ابھی ان حالات سے نکلنے کی کوئی راہ دکھائی نہیں دے رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ان حالات سے بیشتر شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ متاثر ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ بہت سے لوگوں اپنے کام کو وسعت دینے اورتاجروں نے اپنی تجارت وسیع کرنے کیلئے جو قرضہ بنکوں سے کمانے کیلئے لیاتھا ۔اس کا بنیادی مقصد ہی فوت ہوا اور یہ لوگ خسارے کے شکار ہوگئے ۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ حالات میں قدرے بہتری آئی ہے تو تاجروں کو یہ امید تھی کہ ان کے خسارے کی بھر پائی ہوجائے گی لیکن کاروباری سرگرمیاں دکانیں ،کاروباری ادارے کھلے رہنے کے باوجود بھی دم بہ خود ہوچکی ہے ۔کیونکہ لوگوں کے پاس خریدوفروخت کی سکت ہی باقی نہیں رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ تاجریا دوسرے لوگ اس خسارے کو سنبھال نہیں پارہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ تاجر عام قرضوں اور بنک لونز کی وجہ سے دب چکے ہیں ان حالات میں ان کا جینا محال بن گیا اور بنکوں کے قسطوں کی ادائیگی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ گورنر انتظامیہ کے دعوئوں کے باوجود بھی ان حالات کی طرف توجہ مبذول نہیں کی گئی جس کے نتیجے میں اقتصادی بدحالی اورتجارتی سرگرمیاں بدستور متاثر ہیں اور تاجر وکاروباری افراد کے ساتھ ساتھ عام لوگ بھی پریشان حال ہیں ۔اس سلسلے میں انہوں نے موجودہ عوامی حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بنک قرضوں پر جمع ہوئے سود کو معاف کیا جائے اور ان کی باز آباد کاری کیلئے ٹھوس لائحہ عمل ترتیب دیا جائے تاکہ وہ ایک بار پھر اپنے ٹانگوں پر کھڑا ہوسکیں گے اور خود روزگار کماسکیں گے اور تجارتی سرگرمیاں ایک بار پھر ماضی کی طرح بحال ہونگے ۔










