کے پی ڈِی سی ایل کا گھریلو صارفین کو سولر پینل اور پاور ایمنسٹی سکیمیں اَپنانے کا مشورہ

کے پی ڈِی سی ایل کا گھریلو صارفین کو سولر پینل اور پاور ایمنسٹی سکیمیں اَپنانے کا مشورہ

پی ایم سوریہ گھر کے تحت 3کلوواٹ تک کے پلانٹوں پر 60 فیصد سبسڈی،1.07 لاکھ صارفین نے سرچارج پر چھوٹ کا دعویٰ کیا

سری نگر//کشمیر پاور ڈِسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹڈ (کے پی ڈِی سی ایل) نے ایک بار پھر اَپنے گھریلو صارفین پر زور دیا ہے کہ وہ اس برس کے اوائل میں وزارتِ نئی اور قابل تجدید توانائی کے ذریعے شروع کی گئی پی ایم سوریہ گھر: مفت بجلی سکیم کے تحت گرڈ سے منسلک روف ٹاپ سولر (آر ٹی ایس) پلانٹوں کو اَپنائیں۔کشمیر پاور ڈِسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹڈ (کے پی ڈِی سی ایل) نے طویل عرصے سے بجلی کے بقایا جات رکھنے والے صارفین کو بھی مشورہ دیا ہے کہ وہ حکومت کی ایمنسٹی سکیم کے تحت فوری طور پر درخواست دیں تاکہ ایک بار یا قسطوں میں اصل رقم ادا کرنے کے بعد دیر سے ادائیگی سرچارج پر چھوٹ کا دعویٰ کیا جاسکے۔کے پی ڈی سی ایل کے ترجمان نے تفصیلات کا اشتراک کرتے ہوئے آج بتایا کہ وادی کشمیر میں 600.59 کلو واٹ کی مجموعی صلاحیت کے ساتھ 152 سولر روف ٹاپ پہلے ہی نصب ہیں جس میں سری نگر سرفہرست ہے۔ ترجمان نے اُمید ظاہر کی کہ زائد اَز1000 صارفین نے سولر پی وی وینڈرز کا اِنتخاب کیا ہے اور ہمیں اُمید ہے کہ آر ٹی ایس پلانٹوں کی تنصیب کے اعداد و شمار میں اِضافہ ہوگا۔کے پی ڈی سی ایل کو نیشنل پورٹل پر 3,116 رسمی درخواستیں موصول ہوئی ہیں اور سکیم کی مقبولیت سے یہ تعداد اوربڑھنے کا اِمکان ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ 119 مستفید صارفین کی مرکزی سبسڈی پہلے ہی ختم ہوچکی ہے اور 46 صارفین نے ڈی بی ٹی موڈ میں اپنے کھاتوں میں سبسڈی حاصل کی ہے۔اُنہوں نے کہا کہ3 کلو واٹ تک کی سولر روف ٹاپوں استفادہ کنندگان 94,800 روپے کی سبسڈی کے اہل ہیں جس سے پی ایم سوریہ گھر سکیم کو 1.59 لاکھ روپے کی پروجیکٹ لاگت کا 60 فیصد تک سبسڈی ملے گی۔ اُنہوں نے کہا کہ کے پی ڈی سی ایل تکنیکی ٹیموں کی جانب سے انسپکشن اور کمیشننگ رپورٹس جاری کرنے کے بعد وہ اہل ہو جاتے ہیں جو نامزد پورٹل پر اَپ لوڈ کی جاتی ہیں۔
پی ایم سوریہ گھر: مفت بجلی یوجنا کے تحت یو ٹی حکومت ایک کلو واٹ کے لئے 3000 روپے، 2 کلو واٹ کے لئے 6000 روپے اور 3 کلو واٹ کے پلانٹ کے لئے 9000 روپے کی اِضافی سبسڈی فراہم کر رہی ہے جس کے تحت 3 کلو واٹ تک کے پلانٹ کے لئے سبسڈی کی زیادہ سے زیادہ حد 85,800 روپے سے بڑھا کر 94,800 روپے کر دی گئی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت نے صوبہ کشمیر کے 44,000 مستحقین کے لئے سبسڈی کے مرکز ی حصے کے طور پر 27.07 کروڑ روپے کی منظوری دی ہے جو مالی برس 2025-26 ء اور 2026-27 ء میں31؍ مارچ 2027ء تک جاری رہے گی۔ ترجمان نے یو ٹی حکومت کی پاور ایمنسٹی سکیم کے فوائدکو اُجاگر کرتے ہوئے ایک بار پھر گھریلو صارفین پر زور دیا کہ وہ آگے آئیں اور اَپنے اوپننگ بیلنس کو طے کریں۔ اُنہوں نے کہا کہ 31 ؍مارچ 2025ء کے بعد پاور ایمنسٹی سکیم گھریلو صارفین کو دستیاب نہیں ہوگی۔اُنہوں نے کہا کہ َاب تک 1.07 لاکھ مستفیدین نے کے پی ڈِی سی ایل کو 156.38 کروڑ روپے کی اصل رقم ادا کرکے اَپنے دعوئوں کا تصفیہ کیا ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے تاخیر سے ادائیگی سرچارج کی وجہ سے 56 کروڑ روپے سے زیادہ کا دعویٰ ختم کر دیا ہے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ بجلی کے بہت زیادہ بقایا جات رکھنے والے بقیہ 43 ہزار گھریلو صارفین اس سکیم کے تحت فوائد حاصل کرنے کے لئے اپنے الیکٹرک سب ڈویژنوں سے رجوع کریں جو31؍ مارچ 2025ء کے بعد چھوٹ ختم ہوجائے گی۔