’نکاسی آب نیٹ ورک بیرون ریاستی کمپنیوں کو دینے کی تیاری‘

’نکاسی آب نیٹ ورک بیرون ریاستی کمپنیوں کو دینے کی تیاری‘

تعمیرات کاروں نے خزانہ عامرہ پر200کروڈ روپے ا بوجھ بڑانے کیا انکاشاف

سرینگر//ریاستی خزانہ عامرہ پر200کروڑ روپے کا بے سو بوجھ بڑانے کا الزام عائد کرتے ہوئے تعمیرات کاروں کے مشترکہ پلیٹ فارم سینٹرل کانٹریکٹر س کارڈی نیشن کمیٹی نے محکمہ شہری ترقی و مکانات کی طرف سے سرینگر اور اننت ناگ میں نکاس آب کے نیٹ ورک کو بچھانے اور ایس ٹی کی تنصیب کیلئے جاری کردہ ٹینڈروں کو خامیوں سے بھر پور قرار دیا۔وی او آئی کے مطابق سرینگر میں پریس کانفرنس کے دوران کارڈی نیشن کمیٹی کے جنرل سیکریٹری فاروق احمد ڈار نے حال ہی میں محکمہ مکانات و شہری ترقی کی طرف سے سرینگر میں210کلو میٹروں پر محیط نکاس آب نیٹ ورک،13 پمپ اسٹیشنوں اور ایک ایس ٹی پی کیلئے297کروڑ روپے اور ضلع اننت ناگ میں180کلو میٹروں پر مشتمل نکاس آب نیٹ ورک اور7 اسٹیشنوں کے علاوہ ایک ایس ٹی پی کیلئے287کروڑ روپے کیلئے جاری کردہ ٹینڈروں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ’’ ایسا نظر آتا ہے کہ انتظامیہ اور متعلقہ افسراں نے کسی بھی مشق کے بغیر ان ٹینڈروں کو جاری کیا ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ ٹینڈروں میں ایس ٹی پی، 15فیصد ہے اور نکاس آب کا نیٹ ورک85 فیصد پر مشتمل ہے تاہم حیران کن طور پر85 فیصد کام کو چھوڑ کر15فیصد جیسے کام کو اجاگر کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹینڈر کے شرائط میں ایس ٹی پی جیسے 80فیصد کام کو ماضی میں انجام دینے کے ساتھ مشروط رکھا گیا ہے جبکہ85 فیصد نکاس آب نیٹ ورک کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ ڈار نے کہا کہ ہونا تو یہ چاہے تھا کہ85فیصد سے ٹینڈر کو مشروط رکھا جاتا یا دونوں کاموں سے ٹینڈر کو مشروط رکھا جاتا مگر ایک سازش کے تحت ایسا نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اصل میں جموں کشمیر کے کسی بھی ٹھکیدار نے ایس ٹی پی جیاسا80فیصد کام ماضی میں نہیں کیا ہے کیونکہ ماضی میں اتنے بڑے ایس تی پی تعمیر ہیں ہوئے۔ فاروق احمد ڈار جو کہ کشمیر اکنماک الائنس کے بھی چیئرمین بھی ہے نے کہا کہ اصل میں بیرون ریاستوں کی کمپنیوں کیلئے دروازے کھولنے کیلئے یہ حربے آزمائے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر کام مقامی کمپنیاں کرتی تو اس میں مقابلہ ہوتا اور اگر مقرہ ٹینڈر سے20فیصد کم بھی بولی دی جاتی تو150کروڑ روپے کی بچت ہوتی،تاہم یہ خدشات ہے کہ بیرون ریاستوں کی تعمیراتی کمپنیاں ا ٹینڈروں سے5 فیصد زیادہ بولی لگائیں گی،جس سے مزید50کرور روپے کے نقصانات ہونے کا خدشہ ہے۔ فاروق ڈار نے کہا کہ ماضی میں یہ دیکھا گیا ہے کہ غیر ریاستی کمپنیاںکس طرح’’ ایست انڈیا کمپنیون کا روپ دھار کر‘‘ بول؛یاں لگا کر جموں کشمیر میں من مانا کام کرتی ہے اور یہ کام بھی بعد میں کمیشن لیکرمقامی ٹھکیداروں کے سپرد کیا جاتا ہے۔ڈار نے کہا کہ خزانہ عامرہ پر200 کروڑ روپے کا بوجھ کم ہونے سے ان علاقوں مین طبی سہولیات فراہم کی جاسکتی ہے جہاں کے لوگوں کو ابھی بھی معقول طبی سہولیات دستیاب نہیں ہے۔انہوں نے براہ راست لیفٹنٹ گورنر کو اس معاملے میں سنجیدہ دلچسپی لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ200کروڑ روپے کا اجافی بوجھ خزانہ عامرہ پر پرنے سے بچایا جاسکتا ہے۔ ڈار نے منتخب ممبران اسمبلی کو بھی اس معاملے میں مداخلت کرنے کی اپیل کی۔