ہر کوئی صحافی غیر جانبدار،غیراصولی ویڈیوز وائر ل کرنے سے سماج پرمنفی اثرات مرتب
سرینگر//سوشل میڈیا ایک آزاد پلیٹ فارم ہے جس پر ہر کوئی انسان اپنے موبائیل فون کے ذریعے آزادانہ طور چلاسکتا ہے لیکن انسان کیلئے گفتگو کرنے کیلئے اصول مقرر ہیں مزاح ،گیت گانے یادوسرے کئی عمل ظاہری طور تندرستی صحت کیلئے کافی سود مند ثابت ہوتے ہیں لیکن اس کے منفی اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں اگر اعتدال ہوتو کوئی مضائقہ نہیں ہے ۔کشمیرپریس سروس کے مشاہدات کے مطابق سوشل میڈیا کے ذریعے ہر کوئی چلانے والا صحافی بن بیٹھا ہے حالانکہ صحافت کرنے کیلئے اپنے اصول وضوابط بنے ہوئے ہیں اور اگر بحیثیت صحافی سوشل میڈیا پر ان اصولوں کی پابندی نہیں کرتا ہے بلکہ اپنے Fans بڑھانے کی تگدو میں ہی سرگرداں رہتے ہیں اس دوران وہ اپنی فالوورشپ بڑھانے کیلئے کبھی گھریلو جھگڑوں ،کبھی مذہبی ومسلکی تنازعات ،کبھی نیم پاگل افراد اور ہنگامی آرائی کوکیمرے یا موبائیل میں قید کرکے وائرل کردیتا ہے تواس سے سماج کے عام وخاص افراد کی عزت نیلام ہوجاتی ہے ۔سوشل میڈیا جہاں انسانی ہم آہنگی پیدا کرنے کیلئے ایک بہترین پلیٹ فارم ہے وہیں اس کے ذریعے ہماری عزت ووقار دانستہ طور یا نادانستہ طور دائو پر لگ جاتی ہے ۔صحافی کیلئے غیر جانبدار ہونالازمی ہے لیکن انتخابات میں نام نہاد صحافیوں میں مخصوص امیدواروں کے حق میں مہم چلائی ۔اس ضمن میں کئی سماج کے حساس افراد نے کے پی ایس کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سوشل میڈیا گلوبل سطح پراس لئے ایک بہترین پلیٹ فارم بنا ہے کہ اس کے ذریعے مسافت کی دوریاں محدود ہوچکی ہیں اورلوگ بلارنگ ونسل ،ذات پات اور مذہب وملت کے ایک دوسرے کے نزدیک آرہے ہیں اور ایک دوسرے سے متعلق معلومات بھی بہ آسانی ہورہی ہے یہ اس کا ایک مثبت رخ ہے لیکن جب اس دوسرا گھناونا رخ دیکھا جاتا ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے ایسی نازیبا ویڈیوز وائرل ہوجاتی ہیں جس سے انسانیت شرمسار ہوجاتی ہے اور یہ ویڈیوز یا سوشل میڈیا کے ذریعے وائس ریکارڈنگ سے گھروں کے گھر اجڑگئے ہیں کیونکہ طلاق کی شرح کافی حد تک بڑھ گئی ہے ۔اس سے بھائی کا بھائی،بہن بھائی کی ،والدین اپنے بچے کے اور بیوی اپنی شوہر کے نہیں رہے ہیں جبکہ سوشل میڈیا پر ایسی ہنگامہ آرائیاں دیکھنے کو ملتی ہیں کہ ہوش مند انسان دھنگ ہوکر رہ جاتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ خود کشی میں اضافہ اورگھریلو زندگی اجیرن بنے کا یہ ایک سبب بنا ہوا ہے ۔جبکہ حالیہ انتخابات میں سوشل میڈیا انفلنسرس نے مخصوص پارٹیوں کی طرفداری میں اپنے پیج چلائے اور وہ بھی اپنے آپ کو صحافی کہلاتے ہیں حالانکہ صحافی کا غٖیر جانبدار ہونا ہر حال میں لازمی ہے ۔اگر جانبداری کرتا ہے تو وہ صحافت کے اصولوں کے منافی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس طوفا ن کو روکنے کیلئے اجتماعی کوششیں لازمی ہیں جبکہ انہوں نے سرکار سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ غیر مستند سوشل میڈیا انفلنسرس کو صحافتی دائر ے میں آنے پر پابندی عائد کریں ۔اگر چہ سوشل میڈیا وہ آزادانہ طور چلانے کے مجاذ ہیں لیکن صحافت آڑ میں ان کو میڈیا چلانے کی اجازت نہ دی جائے ۔










