pulwama

گنگو پلوامہ میں قائم نرسنگ ہوم میں جواں سالہ دوشیزہ کی زیر علاج موت

نرسنگ ہوم سیل ، معاملہ کی تحقیقات کیلئے تین رکنی انکوائری کمیٹی بھی تشکیل دی گئی

سرینگر // گنگو پلوامہ میں قائم نرسنگ ہوم میں جواں سالہ دوشیزہ کی ڈاکٹروں کی مبینہ لاپروائی کے باعث موت کے بعد انتظامیہ نے نرسنگ ہوم کو سیل کرنے کے علاوہ مکمل تحقیقات کیلئے تین رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ۔ سی این آئی کے مطابق محمویہ نرسنگ ہوم گنگو پلوامہ میں ایک جواں سالہ دوشیزہ کی دوران علاج موت واقع ہوئی ۔ عین شاہدین کے مطابق صبورہ دختر ارشید احمد ساکنہ آری ہل پلوامہ نرسنگ ہوم میں زیر علاج تھیں اور علاج کے دوران اس کی حالت اچانک بگڑ گئی اور انہوں نے زندگی کی آخری سانس لی ۔ جواںسالہ دوشیزہ کی نرسنگ ہوم میں موت کے بعد لواحقین نے الزام عائد کر دیا کہ ان کے لخت جگر کی نرسنگ ہوم میںموت ڈاکٹروں کی مبینہ طور پر لاپرواہی کے نتیجے میں ہوئی جس کے بعد انہوں نے اس معاملہ میں تحقیقات کا مطالبہ کرنے کے علاوہ ملوث ڈاکٹروں کیخلاف کارورائی کا مطالبہ کیا ۔ صحافیوں سے مختصر بات کرتے ہوئے لواحقین کا کہنا تھا کہ ان کی لخت جگر لاپروائی کے نتیجے میں موت کی آغوش میں چلی گئیں اور حکام پر زور دیا کہ وہ غفلت کے ذمہ دار کسی کو بھی کٹہرے میں لائے۔انہوں نے کہا ’’ ہماری بیٹی علاج کی تلاش میں ہسپتال آئی اور وہ مردہ ہو کر واپس آگئیں ۔ ہم یہ جاننے کے مستحق ہیں کہ کیا ہوا، اور ہم مکمل تحقیقات سے کم کسی چیز کی توقع نہیں رکھتے‘‘۔ادھر دوشیزہ کے موت کے بعد ضلع انتظامیہ پلوامہ نے حرکت میں آکر نرسنگ ہوم کو سیل کر دیا جبکہ اس معاملہ میں مکمل انکوائری کا حکمنامہ جاری کیا ۔ ڈپٹی کمشنر پلوامہ ڈاکٹر بشارت قیوم نے ان حالات کی تحقیقات کی ہدایت دی ہے جن کی وجہ سے جواں سالہ دوشیزہ کی موت واقع ہوئی ۔ ادھر محکمہ صحت نے بھی ایک حکمنامہ جاری کرتے ہوئے تین رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے اور انہیں اس معاملہ میں جلد از جلد فوری رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔