آرٹیکل 370 ماضی ہے اب وہ کبھی واپس نہیں آئے گا، آزادی سے ہی جموں کشمیر کو بھارت میں ضم کرنے کیلئے جدوجہد کی
سرینگر///مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جموں و کشمیر اسمبلی انتخابات کے لیے بھارتیہ جنتا پارٹی کا انتخابی منشور جاری کیا۔اس موقعے پر امت شاہ نے کہا کہ جموں کشمیر بھارت کی آزادی سے ہی بھاجپا کیلئے خاص کررہاہے اور ہماری پارٹی اس کو بھارت میں مکمل ضم کرنے کیلئے زمینی سطح پر کام کرتی رہی ۔ امت شاہ نے کہا کہ 2014تک یہ خطہ شدت پسندی کا گڑھ تھا اور اعلیٰحدگی پسندوں کا بول بالا تھا تاہم دفعہ 370کے خاتمہ کے بعد نہ صرف یہ بھارت کا اٹوٹ انگ بن گیا بلکہ ملٹنسی کے خاتمہ کے ساتھ ساتھ اعلیحدگی پسند رجحان بھی تبدیل ہوا ہے جہاں پر آج نوجوان ترنگا لیئے ریلیوں میں شامل ہورہے ہیں اور مین سٹریم جماعتوں کے ساتھ وابستگی ظاہر کررہے ہیں ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جموں و کشمیر اسمبلی انتخابات کے لیے بھارتیہ جنتا پارٹی کا انتخابی منشور جاری کیا۔ امت شاہ دو روزہ دورے پر جمعہ کی سہ پہر جموں پہنچے۔ پارٹی کا قرارداد نامہ جاری کرنے کے بعد امیت شاہ نے کہا کہ آزادی کے وقت سے ہی جموں و کشمیر کا یہ علاقہ ہماری پارٹی کے لیے بہت اہم رہا ہے اور آزادی کے وقت سے ہی ہم نے ہمیشہ اس علاقے کو ہندوستان کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ امت شاہ نے کہا کہ جموں کشمیر کو ہندوستان کے ساتھ مکمل ضم کرنے کیلئے بھاجپا نے زمینی سطح پر جدوجہد کی اور پنڈت پریم ناتھ ڈوگرہ سے لے کر شیاما پرساد مکھرجی کی قربانی تک، اس ساری جدوجہد کو پہلے بھارتیہ جن سنگھ اور پھر بھارتیہ جنتا پارٹی نے آگے بڑھایا۔ کیونکہ ہماری پارٹی کا ماننا ہے کہ جموں و کشمیر ہمیشہ سے ہندوستان کا حصہ رہا ہے اور رہے گا۔2014 تک جموں و کشمیر ہمیشہ دہشت گردی اور علیحدگی پسندی کے سائے میں تھا۔ وہ ہمیشہ جموں و کشمیر کو غیر مستحکم کرتے رہے اور تمام حکومتوں نے ایک طرح سے جموں و کشمیر کے ساتھ خوشامد کی سیاست کے ذریعے نمٹا۔2014 سے 2024 تک جموں و کشمیر کے لیے سنہری دورپہلے یہاں کی حکومتیں علیحدگی پسندوں کے سامنے جھکتی تھیں۔ پچھلے 10 سالوں میں یہاں امن اور ترقی ہوئی ہے۔ 370 اور 35A کو ختم کرنا ایک تاریخی فیصلہ تھا۔ اب یہ دونوں ماضی ہیں۔ اب وہ کبھی واپس نہیں آ سکے گا۔ 2014 سے 2024 تک جموں و کشمیر کے لیے سنہری دور تھا۔جموں و کشمیر میں ترقی کے میدان میں بہت کام ہوا ہے۔دفعہ 370 اور 35A اب ماضی بن چکے ہیں، یہ ہمارے آئین کا حصہ نہیں ہیں۔ اس کے بارے میں جان کر پورا ہندوستان اور جموں و کشمیر کے لوگ خوش ہیں۔ کیونکہ دفعہ 370 کشمیر کے نوجوانوں کو پتھر اور ہتھیار دینے والی کڑی تھی۔ آج مودی جی کی قیادت میں جموں و کشمیر میں ترقی کے میدان میں کافی کام ہوا ہے۔بی جے پی نے پنچایتی راج بحال کیا۔پہلے یہاں جمہوریت صرف تین خاندانوں تک محدود تھی۔ نہ پنچایتی انتخابات ہوئے، نہ تحصیل پنچایتیں بنیں اور نہ ہی ضلع پنچایتیں ہوئیں۔ بی جے پی حکومت نے گرام پنچایت، تحصیل پنچایت، ضلع پنچایت اور میونسپلٹی کے انتخابات کروا کر پنچایتی راج کی بحالی کا کام کیا ہے اور جمہوریت کو قائم کیا ہے۔میں راہل گاندھی جی سے کہنا چاہتا ہوں کہ وہ ملک اور جموں و کشمیر کے لوگوں کے سامنے وضاحت کریں، آپ کے خاموش رہنے سے کچھ نہیں ہوگا۔ کیا کانگریس پارٹی نیشنل کانفرنس کے ایجنڈے سے متفق ہے یا نہیں؟ آپ ہاں یا ناں میں جواب دیں۔










