heart attack

وادی میں حرکت قلب بند ہونے کے باعث اموات کی شرح فیصد میں تشویشناک حد تک اضافہ

دل کا دورہ پڑنے سے بڑھتے اموات پر ماہرین میں بھی تشویش ، طرز زندگی کو تبدیل کرنے پر دیا زور

سرینگر// وادی کشمیر میں حرکت قلب بند ہونے کے باعث اموات کی شرح فیصد میں تشویشناک حد تک اضافہ ہونے کے باعث ماہرین میں تشویش کی لہر پائی جا رہی ہے ۔ رواں ماہ کے دوران بھی قریب نصب درجن افراد دل کا دورہ پڑنے سے لقمہ اجل بن گئے ہیں ۔ سی این آئی کے مطابق وادی کشمیرمیں حرکت قلب بند ہونے کے باعث اموات میں آئے روز اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے ۔ گزشتہ کئی سالوں سے اموات میں کافی اضافہ دیکھنے کو ملا ہے اورمرنے والوں میں زیادہ تر 25سال سے عمر سے لیکر 50برس تک افراد شامل ہے جو بضاہر تندرس اور توانا تو دکھائی دیتے ہیں لیکن اچانک دل کا دورہ پڑنے سے وہ موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں ۔ ادھر دل کا دورہ پڑنے سے بڑھتے اموات پر ماہرین نے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسلسل تنائو کی صورتحال کی وجہ سے بلڈ پریشر میں زیادتی سے دل کا دورہ پڑنے کا زیادہ خطرہ رہتا ہے ۔ ایک ماہر امراض قلب نے دل کے دورہ پڑنے کے واقعات میں اضافہ کی کوئی وجوہات بتائی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک عام انسان جو بضاہر صحت مند ہو لیکن اس کو دل کا کوئی مرض ہو جس کی تشخیص نہیں ہوئی ہو اس کی بھی اچانک موت واقع ہوسکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اچانک موت کی وجوہات میں ایک یہ بھی ہے کہ انسان کے دل کو اچانک آکسیجن یا خون کی فراہمی بند ہوجاتی ہے جس کے باعث ایک تندرست انسان بھی موت کا شکار ہوسکتا ہے ۔ اس کے علاوہ کووڈ بھی دل کا دورہ پڑنے کیلئے ذمہ دار ہوسکتا ہے ۔انہوںنے کہا کہ کوروناوائرس ایک ایسا وائرس سامنے آیا ہے جو اب مختلف صورتوں میں سامنے آرہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس ایسے مریض آتے ہیں جن کا ہاٹ اٹیک آیا ہو یا جو دل کا دورہ پڑنے سے فوت ہوچکے ہوں جب ان کا کووڈ ٹسٹ کیا جاتا ہے تو وہ پازیٹیو آتا ہے اس سے پہلے ان کو کوروناکی کوئی نشانی نہیں ہوتی ۔ انہوں نے کہا کہ صدر ہسپتال میں بھی گزشتہ ایک برس سے ایسے مریضو بکثرت آتے ہیں جو دل کا دورہ پڑنے کے شکارہوتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ دیگر وجوہات بھی ہوسکتی ہے لیکن جب سے یہ وائرس نمودار ہوا ہے تب سے اس طرح مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ دل کا دورہ پڑنے سے مرنے والوں میں 25برس کی عمر سے 50برس تک کے عمر والے شامل ہوتے ہیں جو کہ ایک قابل تشویش بات ہے ۔