ٹنل کے آر پارکاشتکار،جائیداد مالکان اور دیگر شہری پریشان
سرینگر // جموں و کشمیر کے میں نائب تحصیلداروں کی شدید قلت نے لوگوں کیلئے مشکلات پیدا کر دی ہیں جبکہ 86 نیابتوں کے خالی ہونے کی وجہ سے شہریوں کو محکمہ مال سے متعلق خدمات حاصل کرنے میں بے پناہ مشکلات کا سامنا ہے۔ان اہم عہدیداروں کی غیر موجودگی نے محکمے کے کام کاج کو بری طرح متاثر کیا ہے جس کے نتیجے میں لمبی قطاریں، زمین کے ریکارڈ میں تاخیر اور مجموعی طور پر بے ترتیبی پیدا ہو گئی ہے۔وائس آف انڈیا کے مطابق نیابتوں میں نائب تحصیلداروں کی عدم موجودگی سے کسانوں، جائیداد مالکان اور دیگر لوگوںکو، جو ریونیو محکمے پر مختلف خدمات کے لیے بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں، شدید مشکلات کا سامنا ہے۔وادی کے مختلف اضلاع میں51 نیابتیںجبکہ جموں میں35نیابتیں ،نائب تحصیلداروں کے بغیر ہی کام کر رہی ہیں۔مالیاتی کمشنر محکمہ مال کے دفتر میں تعینات تحصیلدار بومیکا شرما کی طرف سے حق اطلاعات قانون کے تحت دی گئی تفصیلات کے مطابق وسطی کشمیر کے سرینگر میں3 ،بٹہ مالو ،رام باغ،صفا کدل جبکہ بدگام میں4 جن میںلولی پورہ،پسکر اورپارنیوہ نیابتوں میں کوئی بھی نائب تحصیلدار نہیں ہے۔اعداد شمار کے مطابق جنوبی کشمیر کے شوپیاں میں2،جن میں بار بگ امام صاحب و شوپیاں،کولگام میں ایک کلم اور اننت ناگ میں ایک سعدی وارہ کے علاوہ پلوامہ میں ایک،پلوامہ دوم نیابتیں ،نائب تحصیلداروں کی منتظر ہے۔ شمالی کشمیر کے بانڈی پورہ میں 13،نیابتیں جن میں بانڈی پورہ، کدارا،آشٹینگو،ملنگام، کسم باغ،گلشن پورہ،محال سنگارہ،شاہ پورہ،برنائی تلیل،پرانا تلیل بو ڈوب تلیل اور ارن درد پورہ کے علاوہ بارہمولہ میں سب سے زیادہ نیابتیں جن میںبجہامہ، کھن پیٹھ،بارہمولہ کنسالڈیشن، کئی پورہ،اچھ بل وترگام،حاجی بل ٹنگمرگ، سنگھ پورہ،اوڈی،گوم احمد پورہ،کریری،کچھواہ مقام،سری وارپورہ کلنترہ اور چندوسہ کے علاوہ کپوارہ میں میں8نیابتیں جن میں سعدی وارہ،کپوارہ ائے، مقام،ویلگام،لون ہرے،پنجگام،آورہ،ترہگام اور کرالہ گنڈ شامل خالی ہیں،اور ان میں نائب تحصیلداروں کی عدم تعیناتی سے مقامی لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پر رہا ہے۔ صوبہ جموں کی حالت بھی وادی سے مختلف نہیں ہے او دستیاب دستاویزات کے مطابق جموں ضلع میں2 کھٹوعہ میں6،راجوری میں7 پونچھ میں5،ڈوڈہ میں3،کشتواڑ میں7اور رام بن میں ایک نیابتت تحصیلدار سے خالی ہیں۔نائب تحصیلداروں کی کمی نے محکمے کے روزمرہ کے کاموں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ زمین کے ریکارڈ کی رجسٹری، منتقلی، اور دیگر ضروری کاموں میں غیر معمولی تاخیر ہو رہی ہے۔ اس سے نہ صرف عوام کو مشکلات کا سامنا ہے بلکہ محکمے کی آمدنی پر بھی منفی اثر پڑ رہا ہے۔سرینگر میں رام باغ پائین کے شہری پرویز احمد نے بتایا کہ’’ہم ہفتوں سے اپنی زمین کے ریکارڈ کی کاپی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ہمیں ہر بار کہا جاتا ہے کہ عملہ کم ہے اور تاخیر ہو رہی ہے۔ یہ بہت تکلیف دہ ہے‘‘۔کریری کے گلزار احمد نے بتایا’’میں نے اپنی زمین کی رجسٹری کروانے کے لیے کئی بار محکمے کا چکر لگایا لیکن ناکام رہا۔ نائب تحصیلدار کی عدم موجودگی کی وجہ سے ہمارا کام نہیں ہو پا رہا۔‘‘










