جنوبی کشمیر کے مشہورسیاحتی مرکز ڈکسم سنتھن ٹاپ میں ترقی یافتہ دور میں بنیادی سہولیات کا زبردست فقدان پایا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں نہ صرف مقامی لوگوں میں انتظامیہ کے خلاف غم و غصہ کی لہر پائی جا رہی ہے بلکہ یہاں آنے والے سیاح کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اسی دوران مقامی لوگوں نے لیفٹنٹ گورنر انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مشہور سیاحتی مرکز کی طرف خصوصی توجہ فراہم کریں تاکہ ایسا نہ ہو کہ وادی کشمیر ایک خوبصورت سیاحتی مرکز سے مرحوم ہو سکے۔جنوبی ضلع اننت ناگ کے برنگ علاقے کی مشہور و معروف سیاحتی مرکز ڈکسم سنتھن ٹاپ میں بنیادی سہولیات کا زبردست فقدان پایا جا رہا ہے۔ اس ضمن میں وی او آئی نمائندے امان ملک سے بات کرتے ہوئے بیرون ریاست سے آنے والے سیاحوں کا کہنا تھا کہ وادی کشمیر کی مشہور و معروف سیاحتی مرکز ہونے کے باوجود علاقے میں اس ترقی یافتہ دور میں ٹیلی فون کے سہولیات سے کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈکسم پہنچے کے ساتھ ہی موبائیل ٹاور غائب ہو جاتے ہیں جس کے نتیجے میں گھر والوں سے ان کا رابطہ کٹ کر رہ جاتا ہے ، انہوں نے بتایا کہ علاقے میں موبائیل ٹاور کا کہیں نام و نشان نہیں پایا جاتا ہے تو انٹرنیٹ سہولیات دور کی بات ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جہاں علاقے میں موبائیل سروس بے کار ہیں وہیں لینڈ لائن فون کی عدم دستیابی کے نتیجے میں وہ اس مشہور و معروف سیاحتی مرکز کی سیر کرنے سے اب خوف محسوس کرتے ہیں۔ سیاحوں کا کہنا تھا کہ اتنا ہی نہیں بلکہ سیاحتی مرکز پر اے ٹی ایم بھی نصب نہیں کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں انہیں کافی مشکلاتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اسی دوران مقامی لوگوں نے بھی سیاحتی مرکز ڈکسم کی زیبہ حالی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ وادی کی معروف جگہ اب آہستہ آہستہ اپنی پہنچان کھوتی جا رہی ہے اور آنے والا وقت ایسا ہوگیا کہ اس کا کہیں نا م و نشان بھی نہیں رہے گا۔۔ انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے بتایا کہ محکمہ سیاحت محض نام کا ہے جس کے نتیجے میں ڈکسم جیسی مشہور سیاحتی مرکز کو تباہی کے دہانے پر پہنچایا گیا۔ مقامی لوگوں نے گورنر انتظامیہ سے گزارش کی ہے کہ اس سیاحت افزا مقام کی طرف خصوصی توجہ فراہم کی جائے تاکہ یہاں سیاح و تفریح کیلئے آنے والے سیاحوں کو مایوسی کا شکار نہ ہو نا پڑیں۔










