سرحد پار بیٹھے شدت پسندوں کے آقاء معصوم لوگوں کو نشانہ بنواکر حالات کو بگاڑنے کی کوشش کرتے ہیں
سرینگر//پولیس سربراہ آر آر سوائن نے کہا ہے کہ جموں کشمیر میں شدت پسند اپنی موجودگی ظاہر کرنے کیلئے معصوم لوگوں کو نشانہ بنارہے ہیں تاہم ان کو زیادہ دن نہیں نکلیں گے اور ان کو ختم کردیاجائے گا۔ا نہوں نے کہا کہ مٹھی بھر لوگ دہشت گردی کی حمایت کر رہے ہیں اور انہیں دوسروں کے لیے مثال بنانے کے لیے ان کے خلاف سخت کارروائی شروع کی جائے گی تاکہ کوئی ان کی حمایت کرنے کا سوچ بھی نہ سکے۔”ہمیں قبول کرنا چاہیے کہ یہ ایک جنگ ہے جو ہم پر تھوپ دی گئی تھی۔ کسی بھی جنگ میں دشمن فریق مخالف کو زیادہ نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے۔ ہم ایسے ہتھکنڈے اور حکمت عملی اپنائیں گے تاکہ نہ صرف ان کو ختم کیا جا سکے بلکہ اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ ہمیں کم سے کم نقصان پہنچے۔وائس آف انڈیا کے مطابق جموں خطے میں حالیہ تشدد آمیز واقعات کے تناظر میں پولیس سربراہ آر آر سوائن نے سنیچر وار کو کہا ہے جموں کشمیر میں حالات کو بگاڑنے کی سرحد پار کی کوششوں کو کسی بھی قیمت پر ناکام بنایا جائے گا۔ حالیہ دہشت گردی کے واقعات کشمیر میں دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کو بڑے پیمانے پر دھچکے کے بعد اپنی دکانیں چلانے کے لیے سرحد کے اس پار واقع ہینڈلرز کی ایک مایوس کن کوشش تھی، پولیس کے ڈائریکٹر جنرل آر آر سوائن نے ہفتہ کو زور دے کر کہا کہ دشمن۔ قوتوں کو شکست ہو گی۔ انہوں نے لوگوں سے درخواست کی کہ وہ دہشت گردوں کی نقل و حرکت کے بارے میں معلومات کو سیکورٹی ایجنسیوں کے ساتھ شیئر کرنے سے پہلے اس کی کراس چیک کریں تاکہ ان کے خلاف بروقت کارراوئی انجام دی جاسکے ۔ انہوںنے لوگوں سے کہاکہ وہ ’’جھوٹی خبریں ‘‘ پھیلانے سے گریز کریں ۔ دہشت گردوں نے 9 سے 12 جون تک ریاسی، کٹھوعہ اور ڈوڈہ اضلاع میں یاتریوں کی بس سمیت چار مقامات پر حملہ کیا، جس میں نو افراد اور ایک سی آر پی ایف جوان ہلاک اور متعدد دیگر زخمی ہوئے۔ کٹھوعہ میں ایک انکاؤنٹر میں دو مشتبہ پاکستانی دہشت گرد بھی مارے گئے۔انہوںنے کہا کہ چیلنج سرحد پار سے آرہا ہے اور انہوں نے (دہشت گردی سے نمٹنے والوں) نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اس کے خلاف متحد رہیں گے۔پولیس سربراہ نے بتایا کہ شدت پسندوں کومحسوس ہوا ہے کہ کشمیر میں حالات دھیرے دھیرے پٹری پر آچکے ہیں جس کی وجہ سے و ہ بوکھلاہٹ کے شکار ہوگئے اور اب ایسی حرکتیں کرتے ہیں ۔ پولیس چیف نے کہاتشدد کے ٹھیکیدار (ہینڈلر) سرحد کے اس پار بیٹھے ہیں اور اپنی دکانیں چلانے کے لیے انہیں (غیر ملکی کرائے کے بندوق بردار )یہاں بھیجتے ہیں۔‘‘وہ کٹھوعہ ضلع کے ہیرا نگر سیکٹر کے سیدا سکھل گاؤں کے دورے کے موقع پر صحافیوں سے بات کر رہے تھے جہاں منگل اور بدھ کی درمیانی شب 15 گھنٹے سے زیادہ طویل آپریشن میں دو مشتبہ پاکستانی دہشت گرد اور ایک سی آر پی ایف جوان مارا گیا تھا۔سواین نے جموں زون کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس آنند جین کے ساتھ گاؤں میں جاری تلاشی مہم کے لیے تعینات پولیس اہلکاروں سے بات چیت کی۔ ڈی جی پی نے ہیرا نگر پولیس اسٹیشن کا بھی دورہ کیا اور پولیس اہلکاروں سے خطاب کرتے ہوئے حالیہ بندوق کی لڑائی میں ان کے کردار کی تعریف کی۔انہوںنے کہاکہ جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں، وہ (دہشت گرد) بڑی تعداد میں نہیں ہیں۔ وہ چوہوں کی طرح ہیں لیکن وہ موجود ہیں۔ ان کے پاس بندوقیں ہیں اور وہ ان کا استعمال معصوم لوگوں پر کر رہے ہیں،‘‘ انہوں نے لوگوں کو یقین دلاتے ہوئے کہا کہ ان سب کو ختم کر دیا جائے گا۔انہوںنے کہاکہ ہمارے پاس ولیج ڈیفنس گارڈز، پولیس فورس، سی آر پی ایف اور فوج ہے۔ وہ کب تک ان کے سامنے ٹکے رہیں گے؟انہوںنے بتایا کہ “ماضی میں، انہوں نے (جموں کے علاقے میں آٹھ سے 10 سال تک) انارکی پھیلانے کی کوشش کی لیکن وہ ناکام رہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے ہتھیاروں، نائٹ ویڑن آلات، تربیتی مہارت، گاڑیوں سمیت افرادی قوت اور آلات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ہدایات دی ہیں اور “ہم انہیں بے اثر کر دیں گے”۔ڈی جی پی نے کہا کہ پاکستان کی طرف سے ہتھیاروں اور منشیات کو گرانے کے لیے ڈرون کا استعمال ایک چیلنج ہے۔ انہوں نے کہا کہ مٹھی بھر لوگ دہشت گردی کی حمایت کر رہے ہیں اور انہیں دوسروں کے لیے مثال بنانے کے لیے ان کے خلاف سخت کارروائی شروع کی جائے گی تاکہ کوئی ان کی حمایت کرنے کا سوچ بھی نہ سکے۔”ہمیں قبول کرنا چاہیے کہ یہ ایک جنگ ہے جو ہم پر تھوپ دی گئی تھی۔ کسی بھی جنگ میں دشمن فریق مخالف کو زیادہ نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے۔ ہم ایسے ہتھکنڈے اور حکمت عملی اپنائیں گے تاکہ نہ صرف ان کو ختم کیا جا سکے بلکہ اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ ہمیں کم سے کم نقصان پہنچے۔انہوں نے لوگوں سے درخواست کی کہ وہ شدت پسندوں سے متعلق فورسز کو جانکاری فراہم کرنے سے پہلے اس کی جانچ کریں اور پولیس کے پاس صحیح اطلاع پہنچائیں۔










