خرمن امن میں آگ لگانے کی ہر کوشش کوناکام بنایا جائے گا۔ وزیر اعظم
سرینگر///وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو جموں صوبے میں حفاظتی صورتحال کی جائزہ میٹنگ کی صدارت کی جس دوران انہوںنے کہا کہ جموں کشمیر میں نئے دور کی شروعات اور امن و قانون کے ساتھ ساتھ تعمیر وترقی کا جو دور شروع ہوچکا ہے وہ امن دشمن عناصر کو راس نہیں آتا اسلئے جموں کشمیر میں امن بگاڑنے کی کوششیں کی جارہی ہیں ۔ انہوںنے بتایا کہ خطے سے دہشت گردی کے مکمل خاتمہ کیلئے ہر ممکن اقدامات اُٹھائے جائیں گے اور امن میں رخنہ ڈالنے کی تمام سازشوں کو ناکام بنایا جائے گا۔ میٹنگ میں وزیر اعظم نے ریاستی حملے میں مارے گئے افراد کے لواحقین کے ساتھ یکجہتی کااظہار بھی کیا ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق جموں صوبے میں پے درپے پیش آرہے تشدد آمیز واقعات کے پیش نظر مرکزی سرکار حالات پر کڑی نگارہ رکھے ہوئے ہیں ۔ اس بیچ وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو جموں خطہ میں حالیہ دہشت گردانہ حملوں کے پس منظر میں جموں و کشمیر کی سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لیا۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے این ایس اے اجیت ڈوول اور دیگر عہدیداروں کے ساتھ جموں و کشمیر کی صورتحال کا جائزہ لیا۔اطلاعات کے مطابق پی ایم مودی کو جموں و کشمیر میں سیکورٹی سے متعلق صورتحال کا مکمل جائزہ پیش کیا گیا۔ انہیں دہشت گردی کے حملوں کے بعد خطے میں انسداد دہشت گردی کی کوششوں سے آگاہ کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ پی ایم مودی نے ان سے کہا کہ وہ انسداد دہشت گردی کی صلاحیتوں کے مکمل اسپیکٹرم کو تعینات کریں۔اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم نے وزیر داخلہ امت شاہ سے بھی بات کی اور سیکورٹی فورسز کی تعیناتی اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں پر تبادلہ خیال کیا۔انہوں نے جے اینڈ کے ایل جی منوج سنہا سے بھی بات کی اور جموں و کشمیر کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ وزیر اعظم کو مقامی انتظامیہ کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔ضلع ریاسی میں اتوار کو ان کی بس پر دہشت گردوں کے حملے میں نو یاتری ہلاک ہو گئے۔ دہشت گردوں کی جانب سے ڈرائیور پر فائرنگ کے بعد بس ڈرائیور کے قابو سے باہر ہو گئی اور گہری کھائی میں جاگری۔منگل کو ہیرا نگر کے سیدا سکھل گاؤں میں عسکریت پسندوں کی طرف سے راہگیروں پر فائرنگ کے بعد کٹھوعہ ضلع میں ایک تصادم میں ایک سی آر پی ایف اہلکار اور دو دہشت گرد مارے گئے۔بھدرواہ کے گندوہ میں کل رات ہوئے ایک اور تصادم میں ایک پولیس اہلکار زخمی ہوگیا۔واضح رہے کہ ایل جی منوج سنہا نے 11 جون کو جموں میں ایک اعلیٰ سطحی سیکورٹی جائزہ کی صدارت کی جس کے بعد سری نگر میں یونیفائیڈ ہیڈ کوارٹر کی میٹنگ ہوئی جس میں جموں میں غیر ملکی دہشت گردوں کے حملوں کے تازہ واقعات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور انسدادی حکمت عملی کو حتمی شکل دی گئی۔ اس میٹنگ میں ایل جی نے ان پر زور دیا کہ جموں صوبے میں شدت پسندی کو فروغ دینے اور عام لوگوں کی زندگیوں کیلئے خطرے بنے افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے ۔ انہوںنے بتایا کہ ریاسی حملے میںملوث شدت پسندوں کے خاتمہ کیلئے آپریشن میں تیزی لائی جائے ۔ یہاںیہ امر قابل ذکر ہے کہ گزشتہ دنوں ریاسی میں شدت پسندوں نے ایک یاترا گاڑی پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں وہ گہری کھائی میں جاگری جس میں 9یاتری ہلاک ہوئے جبکہ اس سے قبل کٹھوعہ اور پونچھ میں بھی متعدد تشددا ٓمیز واقعات رونماء ہوئے جن میں کئی فوجی اہلکار ہلاک ہوئے تھے ۔










