ریاسی میں یاتریوں کی بس پر مہلک حملہ

ایک ہی خاندان کے 4افراداور3خواتین سمیت 9یاتری ہلاک

3درجن سے زیادہ یاتری زخمی ، ریاسی اورجموں کے اسپتالوںمیں زیرعلاج:حکام

سری نگر//اتوارکی شام ریاسی ضلع کے کنڈہ علاقے میں یاتریوں سے بھری بس پر ہوئے مہلک دہشت گردانہ حملے میں راجستھان کے شہر جے پورسے تعلق رکھنے والے ایک ہی خاندان کے 4افراداور3خواتین سمیت 9یاتری گولیاں لگنے اور پھر بس کے گہری کھائی میں جاگرنے کے نتیجے میں ہلاک ہوگئے جبکہ ایک رپورٹ کے مطابق 41یاتری زخمی ہوئے ،جن میں سے 21مسافر ریاسی اورجموں کے اسپتالوںمیں زیرعلاج ہیں ۔اس دوران دہشت گردانہ حملے کے بعد ریاسی، راجوری اور پڑوسی اضلاع سے سیکورٹی فورسز کی کمپنیوں کو سرچ آپریشن کےلئے تعینات کیا گیا ہے جہاں بڑے پیمانہ پر تلاشی مہم جاری ہے،اوراس کےلئے ڈرون کی بھی مدد لی جا رہی ہے۔اُدھر پولیس وسیکورٹی حکام نے کہاکہ یہ انسانیت سوز حملہ انجام دینے میں 2سے4دہشت گرد شامل تھے ،جو حالیہ دنوںمیں دراندازی کرکے اس علاقے میں داخل ہوئے ہیں ۔جے کے این ایس کے مطابق اتوا ر کی شام کو تقریباً6بجکر15منٹ پر مشتبہ اسلحہ برادروںنے ضلع ریاسی کے کنڈہ علاقے میں شیو کھوری مندر سے کٹراجانے والے یاتریوںکی ایک بس پر گولیاں چلائیں ۔حکام نے بتایاکہ راجستنان ، اتر پردیش اور دہلی کے یاتریوںکو لے کر جانے والی 53سیٹوں والی ایک بس اچانک حملے کے بعد گہری کھائی میں جا گری، جس کے نتیجہ میں 3 خواتین سمیت9افراد ہلاک ہوگئے جن میں 2کمسن بچوں سمیت جے پور راجستھان سے تعلق رکھنے والے ایک ہی کنبے کے چار افرادشامل ہیں جبکہ اس حملے اور بعدازاں ہونے والے حادثے میں کل41یاتری زخمی بتائے جاتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ 2سے4دہشت گردووںنے بس پر اس وقت فائرنگ کی جب وہ پونی علاقہ کے ترایاتھ گاو ¿ں کے قریب شیو کھوری مندر سے کٹرا میں ماتا ویشنو دیوی مندر جا رہی تھی۔ بس میں سفر کرنے والے ایک متاثرہ شخص نے اسپتال میں نمائندوں کو بتایا کہ بس پر25 سے30 گولیاں چلیں اور بس کھائی میں گر گئی۔ اس نے ایک نقاب پوش حملہ آور کو دیکھا جو سرخ مفلر پہنے بس پر فائرنگ کر رہا تھا۔زخمی یاتری نے مزید کہاکہ ہمیں شام 4 بجے روانہ ہونا تھا، لیکن بس ساڑھے5 بجے روانہ ہوئی اور اچانک فائرنگ شروع ہوگئی۔ ضلع اسپتال میں داخل اتر پردیش کے سنتوش کمار نے بتایا کہ میں بس ڈرائیور کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ گھنے جنگلوں سے ایک گاڑی اتر رہی تھی، تب میں نے دیکھا کہ ایک شخص کالے کپڑے سے منہ اور سر ڈھانپے اندر داخل ہوا ہے۔ بس سامنے آئی اور اندھا دھند فائرنگ کردی۔ انہوں نے بتایا کہ فائرنگ سے ڈرائیور زخمی ہوا اور بس کھائی میں گر گئی۔ انہوں نے کہا کہاسلحہ بردار کافی دیر تک بس پر فائرنگ کرتے رہے۔ متاثرہ نے بتایا کہ ہم کھائی میں بے یار و مددگار پڑے تھے۔ جس کے بعد کچھ مقامی لوگ وہاں پہنچے اور ہماری مدد کی۔ انہوں نے بتایا کہ بعد میں کچھ پولیس اہلکار بھی وہاں پہنچ گئے۔حملے میں زخمی ہونے والے یاتریوںنے بتایاکہ جس وقت دہشت گردوں نے بس پر گولی چلا دی۔اس دوران بس کے ڈرائیور نے بڑی ہمت کا مظاہرہ کیا اور تیز رفتار سے بس کو وہاں سے بھگاتے رہے۔ تاہم اس دوران اسے بھی گولی لگی اور بس کا کنٹرول کھو دیا اور وہ کھائی میں گر گئی۔ ان کی ہمت کی وجہ سے ہی اس حملے میں کئی لوگوں کی جانیں بچ گئیں۔نجی نیو ز چینل نیوز18انڈیا کے مطابق اسکے پاس ریاسی میں دہشت گردانہ حملے سے چند منٹ پہلے کی سی سی ٹی وی ویڈیو ہے۔ اس میں سفید بس جو عقیدت مندوں کو ویشنو دیوی لے جارہی تھی صاف نظر آرہی ہے۔ اتوار کی شام 6 بجے ریکارڈ کی گئی اس ویڈیو میں بس کٹرہ کی طرف آسانی سے جاتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے، جب10 منٹ بعد دہشت گردوں نے اس پر گولی چلا دی۔اس دوران بس کے ڈرائیور نے بڑی ہمت کا مظاہرہ کیا اور تیز رفتار سے بس کو وہاں سے بھگاتے رہے۔ تاہم اس دوران اسے بھی گولی لگی اور بس کا کنٹرول کھو دیا اور وہ کھائی میں گر گئی۔ ان کی ہمت کی وجہ سے ہی اس حملے میں کئی لوگوں کی جانیں بچ گئیں۔ریاسی کی سینئر ایس پی موہتا شرما نے کہاکہ ابتدائی رپورٹ کے مطابق، دہشت گردوں نے شیو کھوڈی سے کٹرا جانے والی بس پر گھات لگا کر فائرنگ کی۔ ڈرائیور بس پر سے کنٹرول کھو بیٹھا اور بس کھائی میں گر گئی۔ شرما نے کہا کہ ریسکیو آپریشن مکمل ہو چکا ہے اور اب تک9 لوگوں کی موت ہو چکی ہے اور 33 دیگر زخمی ہو چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے۔حکام نے بتایا کہ دہشت گردانہ حملے اور بعدازاں ہوئے حادثے میں 42سالہ راجندر سینی ، ان کی 40سالہ بیوی ممتا سینی (40)، ان کی30سالہ رشتہ دار پوجا سینی (30) اور اس کا2 سالہ بیٹا ہلاک ہو گئے۔ پولیس افسر نے بتایا کہ زخمی خاتون پوجا کا شوہر32سالہ پون زخمی ہو گیا ہے۔پولیس کے مطابق راجندر سینی اور ان کی بیوی ممتا چومو شہر کے پنچیوالی دھانی علاقے کے رہنے والے تھے جبکہ پوجاجے پور کے مرلی پورہ تھانہ علاقے کے اجمیرا کی دھانی کی رہنے والی تھیں۔حکام نے مزید بتایاکہ اس حملے میں متعدد افراد زخمی ہوگئے ،جن میں سے 21زخمی یاتری، 28سالہ پون کمار ولد ہرپال سنگھ ،33سالہ دنیش کمارولد جئے پرشاد،35سالہ راجیش کمار ولد ٹھاکر پرشاد،50سالہ پریتی گپتازوجہ اجے کمار عمر ،35سالہ راجیش گپتا ولد نند گپتا،37سالہ شیو ورماولدسنتوش ورما،37سالہ دیوی پرشاد دتہ ولد سوریہ ناتھ گپتا،32سالہ وکاس ورما ولد رام نریش ،27سالہ رخسانہ ولد راجیش ،32سالہ گایتری دیوی زوجہ پریم چند ،38سالہ نیلم گپتا دختر دیوی پرشاد،55سالہ بملا دیوی زوجہ رام کمار عمر،9سالہ پالک گپتادختر دیوی پرشاد،31سالہ اتم مشرا ولد راجیش مشر،31سالہ نیا مشرادختر اتم مشرا،30سالہ شردھا دیوی زوجہ رجت رام ،24سالہ ترون کمار ولد ونود کمار،37سالہ دیپک کمار رائے ولد کیلاش ناتھ رائے،38سالہ پردیپ کمار ولد ہرپال سنگھ،35سالہ سوہانی دیوی زوجہ وجے کمار ساکنان اُترپردیش اور26سالہ شیوانی گپتا بمع سورم گپتا ساکنہ دہلی،ریاسی اور جموں کے اسپتالوںمیں زیرعلاج ہیں ۔