ہمیں بجلی نہیں، اندھیرے کے بل اداکرنے پڑتے ہیں

موسم میں نمایاںتبدیلی کے باوجود بھی ہرسو بجلی کٹوتی جاری

محکمہ پی ڈی ڈی کا رویہ۔۔ ؟انتظامیہ سے توجہ دینے پر زور

سرینگر / / موسم میںنمایاںبہتری آنے کے باوجود بھی شہری اور دیہی علاقوں میں بیشتر اوقات گھپ اندھیرا چھایا رہتا ہے جس کے نتیجے میں لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔کشمیر پریس سروس کو مختلف علاقوں سے شکایات موصول ہورہی ہیں کہ موسم خوشگوار ہونے کے باوجود بھی بجلی کی ترسیل کے دوران کٹوتی کا سلسلہ جاری ہے ۔اس دوران کے پی ایس کو اطلاعات موصو ل ہورہی ہیںکہ وادی کشمیر کے بیشتر دیہات میں بجلی کی آنکھ مچولی اور پسماندہ علاقوں میں گھپ اندھیرا چھایا رہتا ہے جس سے عام لوگ پریشان حال ہیں ۔بتایا جاتا ہے کہ شمال وجنوب میں بجلی کی عدم دستیابی کو لیکر لوگ سڑکوں پر آکر محکمہ پی ڈی ڈی کیخلاف زور دار احتجاج کرتے رہتے ہیں تاہم کافی یقین دہانیوں کے باجود بھی کوئی ٹھوس اور پائیدار حل تلاش نہیں کیا جارہا ہے اور لوگوں کی جانب سے شکایات موصول ہونے کا سلسلہ بدستور جاری ہے کپوارہ اور سوپور وبارہمولہ کے کئی پہاڑی علاقوں سے لوگوں نے کے پی ایس کو فون کرکے بتایا کہ برفباری کے بعد ان کے علاقوں میں بجلی کے کھمبے اور ترسیلی لائنیں زمین پر گری ہوئی ہیں ۔اگرچہ محکمہ ہذا کے اہلکاروں نے جان جوکھم میں ڈال کر ان کی مرمت عمل میں لائی تاہم وہ اتنے بوسیدہ ہوچکے ہیں کہ مرمت کے بعد بھی کنکشن کٹ جاتے ہیں جس سے وہ بجلی سے محروم ہیں ۔اس سلسلے میں انہوں نے محکمہ پی ڈی ڈی کے حکام سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بجلی نظام کو مستحکم بنانے کیلئے فوری طور ٹھوس اور موثر اقدامات اٹھانے کیلئے مرتب شدہ شیڈول کے تحت بجلی فراہمی کو یقینی بنایا جائے اوربجلی کء نظام کو بہتر بنانے میں انتظامیہ اپنا کلیدی رول ادا کریں تاکہ آئندہ عوام کو ان پیچیدگیوں کا سامنا نہ کرنے پڑے گا۔