اچھہ بل اننت ناگ میں 1954میں مڈل سکول قائم کیا گیا 1959میں اپ گریڈ ہوکر ہائی سکول بنایا گیا

1954میں جو عمارت سکول کیلئے وقف تھی آج بھی وہی عمارت ہے ، گیارہ کلاسوں کے لئے 4کمرے

سرینگر///اچھہ بل اننت ناگ میں 1954میںقائم کئے گئے سکول کی عمارت کو گزشتہ 70برسوں بھی نئے سرے سے تعمیر نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے سکولی عمارت کافی خستہ ہوچکی ہے اور سکولی بچوں اور تدریسی عملہ کیلئے خطرہ بنی ہوئی ہے ۔خستہ حال عمارت میں100بچے زیر تعلیم ہیںجبکہ مڈل سکول سے ہائی سکول کا درجہ حاصل کرنے کے باوجود بھی عمارت کو دوبارہ تعمیر نہیں کیا گیا ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق وائس آف انڈیا کے مطابق جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے اچھہ بل علاقے میں 1954میں مڈل سکول قائم کیا گیا تھا ۔ اس کے بعد 1959اپگریڈ ہوکر ہائی سکول بنایا گیا ۔ اُس وقت پانچ کمرے تھے اور ہائر سیکنڈری کا درجہ پانے کے باوجود بھی کلاس روم وہیں چاررہے جبکہ ان چار کمروںمیں11کلاسوں کو پڑھایا جاتا ہے ۔ پانچ کمروں میں سے ایک دفتری کام کاج کیلئے وقف ہے جبکہ سکول سٹاف ، پرنسپل کا کمرہ بھی یہی ہے ۔وی او آئی نمائندے امان ملک کے مطابق سکول میں قریب 100بچے زیر تعلیم ہیں اور سو بچے چار کمروں میں پڑھائے جاتے ہیں اور درس وتدریس کے دوران نہ بچے استاد کی بات سن پاتے ہیں اور ناہی بچوں کی بات استاد سن پاتا ہے ۔ مقامی لوگوںنے اس ضمن میں بتایا کہ سکول کی اپ گریڈیشن کے بعد ہم نے نئی سکولی عمارت تعمیر کرنے کیلئے بارہا متعلقہ حکام سے اپیل کی لیکن انہوںنے آج تک اس ضمن میںکوئی اقدام نہیں اُٹھایا۔