وزیر اعظم ترقیاتی پیکیج:سڑکوں و شاہروں پر کام کی پیشرفت کی نگرانی ہوگی

18’روپے وے ‘پروجیکٹوں کی پیشرفت پر بھی نظر رکھنے کا فیصلہ

سرینگر///جموں و کشمیر میں وزیر اعظم ترقیاتی پیکیج کے تحت سڑکوںو قومی شاہراہوں کے پروجیکٹوں کے علاوہ ’پربت مالا‘(کوہستانی مالا)اسکیم کے تحت ’روپ وے‘ کی تعمیر میں پیشرفت کی نگرانی کا فیصلہ کیا ہے۔2014 کے تباہ کن سیلاب کے بعد وزیر اعظم نے 07 نومبر 2015 کو بنیادی طور پر پانچ ستونوں پر مبنی ترقیاتی پیکیج کا اعلان کیا۔وائس آف انڈیا کے مطابق اس پیکیج کے تحت جموں کشمیر میں،قومی شاہرائوں اور سڑکوں کیلئے2985کروڑ روپے مختص کئے گئے۔ان سڑکوںو شاہرائوں کے پروجیکٹوں میں سرینگر،اوڈی سڑک کی تجدید،سرینگر،جموں شاہراہ پر4 گلیاروں والی سری نگر، بانہال سیکشن،سیمی رنگ رور سرینگر،سری نگر شوپیان قاضی گنڈ روڈ،سرینگر،بارہمولہ،اوڈی سڑک ،سرینگر،سونہ مرگ ،گومری روڑ،سرینگر،جموں شاہراہ پر4 گلیاروں والی قاضی گنڈ،بانہال سیکشن،و ٹنل پروجیکٹ،کرگل کے راستے سری نگر لیہہ سڑک کو ڈبل لین کرنا،سرینگر،لیہہ سڑک کو2 گلیاروں میں تبدیل کرنا،اننت ناگ،سنتھن،بٹوت روڑ،جموں اکھنور ،پونچھ سڑک،چنانی ،سدھ مہادیو گوہا روڈ،جموںسیمی رنگ روڑ،ادھمپور،رام بن روڑ،رام بن ،بانہال سڑک،4گلیاروں والی جموں،ادھمپور سیکشن و غیر شامل ہیں۔ اگر چہ بیشتر سڑک پروجیکٹوں پر کام شدو مد سے جاری ہے تاہم سرکار نے کام کی رفتار کو تیز کرنے اور جلد از جلد ان پروجیکٹوں کو مکمل کرنے اور کام کے پیش رفت کا جائزہ لینے کیلئے ایک نگراں کمیٹی کو تشکیل دینے کو منظوری دی ہے۔جموں کشمیر میں2700کروڑ روپے کے سرسری لاگت سے 18’روپ وے‘ پروجیکٹوں کو تیار کرنے کا فیصلہ بھی لیا گیا ہے جس میںمخدوم صاحب سے ہاری پربت،پہلگام بائی سرن، پہلگام آڑو ولر،بابا شکر الدین ؒ،سونہ مرگ،تھاجوس،ستھارن سے توسہ میدان،کھادنیار سے بوسین بارہمولہ،سنتھن ٹاپ سے گلی میدان چھاتروں کشتوار ، سونہ مرگ سے کشن سر،چونٹ ولی وار سے لال مرگ ،شنکر آچاریہ،اوربالہ تل سے امرناتھ گھپا، کرور اور دبجن سے پیر کی گلی تک،کرچہال سے واسہ مرگ ،لورن سے پونچھ، رشن دیو پڈی سے شیو کھوری،بھدرواہ سے سیوج دھر، شکر مرگ سے7 لیکس راجوری،ناسری ٹنل سے سناسر ،تک پروجیکٹ بھی شامل ہی۔ ان پروجیکٹوں کو مارچ 2022میں انتظامی کونسل نے منظوری دی تھی۔ان18پروجیکٹوں میں11پروجیکٹ وادی جبکہ7جموں میں ہے۔ان پروجیکٹوں کو2زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے جن پر قریب2700کروڑ روپے کی لاگت آنے کا امکاں ہے۔ سرکار نے ان پروجیکٹوںکو منظوری دیتے ہوئے ان کی تعمیر،دیکھ ریکھ اور آپریشن کو نیشنل ہائی ویز لاجسٹکس مینجمنٹ لمیٹڈ کو سونپا ہے۔وزارت روڑ ٹرانسپورٹ و ہائیویز کو جموں اور کشمیر میں واقع نامزد’ روپ وے‘ پروجیکٹوں کی ترقی، عمل درآمد، تعمیر، آپریشن اور دیکھ بھال کی ذمہ داری سونپنے کی منظوری پہلے ہی دی گئی ہے۔حکومت نے ان تعمیراتی کاموں کی پیشرفت کیلئے ایک نگران کمیٹی کو تشکیل میں دینے کیو منظوری دی ہے۔یہ کمیٹی وزیر اعظم ترقیاتی پروجیکٹوں کے تحت سڑک شعبہ جات کے منصوبوں اور دیگر قومی شاہراہ کے منصوبوں کے نفاذ کی پیشرفت کی باقاعدگی سے نگرانی کریں گی جبکہ جموں کشمیر میںپربت مالااسکیم کے تحت روپ وے پروجیکٹوں کی ترقیکی بھی نگرانی کرے گی۔محکمہ زرعی پیدوار کے پرنسپل سیکریٹری شلیندر کمار کی سربراہی والی9رکنی کمیٹی ان منصوبوں کے نفاذ میں حائل رکاوٹوں کی نشاندہی کرے گی جن میں زمین کے حصول،استعمال میں لائے جانے والے ساز و سامان کی منتقلی، معمولی معدنیات کی دستیابی وغیرہ اور ان کے بروقت حل کے لیے اقدامات کی تجویز بھی پیش کرے گی۔نگران کمیٹی جموں و کشمیر میں متعلقہ محکموں کے ساتھ ساتھ مرکزی حکومت میں متعلقہ وزارتوںومحکموں کے ساتھ ان پروجیکتوں کو تیزی سے پٹری پر لانے کیلئے سرعت سے منظوریوں کو بھی حاسل کرے گی اور ماہانہ پیش رفت کی رپورٹ کو چیف سیکریٹری کے دفتر میں پیش کرے گی۔اس کمیٹی میں محکمہ تعمیرات عامہ کے انتطامی سیکریٹری ممبر سیکریٹری ہونگے جبکہ محکمہ سیاحت،محکمہ کان کنی،محکمہ مال،محکمہ ترقی،منصوبہ بندی و نظارت کے انتظامی سیکریٹریوں کے علاوہ محکمہ خزانہ کے نمائندے،محکمہ جنگلات و ماحولیات کے نمائندے،جو ایڈیشنل سیکریٹری کے عہدے سے کم نہ ہو،ممبران ہونگے۔کمیٹی کسی ایک اور ممبر کو بھی کمیٹی میں رکن کے طور پر نامزد کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔