traffic jaam

شہر سرینگر میں ہر طرف ٹریفک جام او ڈرائیوراپنی خود غرضی ومن مانیوںپر قائم

محکمہ ٹرانسپورٹ اور ٹریفک حکام سے تدارک کرنے کا کیا مطالبہ

سرینگر //شہر سرینگر میں ٹریفک جام اور منی بس ڈرائیور روں کی من مانیاں جاری ہیں کیونکہ ڈرائیور اور کنڈیکٹرس گاڑیوں میں سوار کرکے بھیڑ بکریوں کی طرح منزل کو بڑی مشکل سے پہنچاتے ہیں ۔اس ضمن میں مسافروں اور راہگیروں نے کشمیرپریس سروس کوبتایا کہ لوگ گھروں سے شوق کے ساتھ خریداری کرنے یا رشتہ داروں کے ہاں جانے کیلئے نکلتے ہیں لیکن اس دوران لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔محکمہ ٹریفک کو ٹریفک کیلئے ایک منصوبہ ترتیب دینا چاہئے تھا تاکہ سفر کے دوران مسافروں کومشکلات کاسامنا نہ کرنا پڑتا ۔انہوں نے کہا کہ منی بس ڈرائیور عام دنوں کی طرح آج بھی بھیڑ بکریوں کی طرح مسافروں کو سوار کرتے ہیں اورکچھوے کی چال چل کر ہر جگہ پرسٹاپ در سٹاپ کرکے مسافروں کو پریشان کردیتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جب گاڑی میں سوار مسافروں نے اعتراض جتایا کہ رفتار کے ساتھ اور اورلوڈنگ کے بغیر گاڑی چلائیں تو ڈرائیوڑوں وکنڈیٹروں نے حسب معمول ڈف اینڈ ڈم کی پالیسی اپنا کر اپنا دن اچھی طرح نکالا ۔انہوں نے کہا کہ شہر خاص اور پائین کے ہر روٹ پراوراس کے علاوہ شالٹینگ ،ایچ ایم ٹی اور دیگر حساس مقامات پر بدترین ٹریفک جام رہتا ہے جس سے لوگ گھنٹوں ہا درماندہ ہوکر رہ جاتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ان بڑے تہواروں پر ایک لوگ گھروں سے باہر آتے ہیںلیکن ناقص ٹریفک نظام سے ان کے صبرکا دامن لبریز ہوجاتا ہے تو باقی دنوں کی نسبت شرارت زیادہ غالب ہوجاتا ہے ۔اس سلسلے میں انہوں نے ٹریفک اور ٹرنسپورٹ محکمہ جات کے حکام سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ فوری طور ٹریفک جام سے لوگوں کونجات دلانے کیلئے اور منی بسوں میں مسافروں کی بدحالی کا تدارک کرنے کے لئے فوری طور ٹھوس اور موثر اقدام اٹھائے جائیں تاکہ لوگوں کے مشکلات کاازالہ ہوسکے ۔