جگل کشور کی ہیٹ ٹرک میں رمن بھلہ بڑی رکاوٹ،20دیگر امیدوار بھی میدان میں
سرینگر/// فقید المثال سیکورٹی کے بیچ پارلیمانی نشست جموں میںآج جمعہ کو22امیدواروں کے درمیان انتخابی دنگل ہوگی،تاہم کانگریس امیدوار اور سابق ریاستی وزیر رمن بھلہ بھاجپا امیدوار جگل کشور کو ہیٹرک بنانے میں ایری چوٹی کا زور لگائے گے۔26 اپریل کو18لاکھ کے قریب رائے دہندگان امیدواروں کی سیاسی قسمت کا فیصلہ ووٹنگ مشینوں میں بند رکریں گے۔اس نشست پر ماضی میں ہوئے13انتخابات کے دوران سب سے زیادہ کانگریس نے7مرتبہ جبکہ4مرتبہ بی جے پی امیدواروں کو کامیابی حاصل ہوئی،جبکہ نیشنل کانفرنس اور ایک آزاد امیدوار صرف ایک مرتبہ اس نشست پر کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ وائس آف انڈیا کے مطابق جموں پارلیمانی نشست پر22امیدواروں کے درمیان انتخابی معراکہ آرائی ہوگی۔اصل مقابلہ جموں کشمیر کے سابق ممبر اسمبلی اور کانگریس لیڈر رمن بھلہ اور 2014سے لگاتار 2مرتبہ اس نشست پر کامیابی حاصل کرنے والے موجودہ ممبر پارلیمنٹ و بی جے پی امیدوار جگل کشور کے درمیان ہونے کی توقع ہے۔ دیگر امیدواروں میں بہوجن سماج پارٹی کے جگدیش راج،نیشنل پنتھرس پارٹی(بھیم) کے نریش کمار چب،اکم سناتھن بھارت دل کے انکر شرما،نیشنلسٹ پیپلز فرنٹ کے سوامی دیویانند،پیپلز کانفرنس کے رتن لال، نیشنل عوامی یونائٹیڈ پارٹی کی خاتون امیدوار شیکھا بندرال،آل انڈیا فاروڈ بلاک کے قاری ظہیر عباس بھٹی، ہندوستان شکتی سینا کے گنیش چودھری،آزاد امیدوار اتل رینہ،بنسی لال،پرسین سنگھ،ڈاکٹر پرنس رینا،راج کمار،ستیش پونچھی،سریندر سنگھ،شبیر احمد،پرنسپل سی ڈی شرما،کرن جیت،نریش کمار تالا اور وکی کمار ڈوگرہ شامل ہیں۔اس پارلیمانی نشست پر رائے دہندگان کی تعداد17لاکھ80ہزار738ہے جس میں مرد رائے دہندگان کی تعداد9 لاکھ21ہزار53جبکہ خواتین کی تعداد8 لاکھ59ہزار657کے علاوہ خواجہ سرائوں کی تعداد28ہے۔رائے دہندگان میں3لاکھ40ہزار کے قریب نوجوان پہلی مرتبہ اپنے ووٹ کا استعمال کریں گے،جن میں ایک لاکھ35ہزار کے قریب خواتین ووٹر بھی شامل ہے۔جسمانی طور پر معذور ووٹروں کی تعداد67ہزار400ہے۔ الیکشن کمیشن نے اس نشست پر رائے دہندگان کیلئے2416پولنگ مراکز کو قائم کیا ہیں۔2019کے پارلیمانی انتخابات میں اس نشست پر پولنگ کی شرح72.49 فیصد رہی۔جموں پارلیمانی نشست4اضلاع پر مشتمل ہے اور اس میں حد بندی کے بعد18اسمبلی نشستوں کو شامل کیا گیا ہے۔ حد بندی سے قبل اس نشست میں20 اسمبلی حلقے تھے،تاہم بعد میں ضلع پونچھ کی کالاکوٹ اسمبلی نشست کے بغیر ضلع پونچھ اور ضلع راجوری کو اس پارلیمانی نشست سے الگ کیا گیا اور ضلع ریاسی کو اس نشست میں شامل کیا گیا۔جموں پارلیمانی نشست گلاب گڑھ،ریاسی،ماتا ویشنو دیوی،رام گڑھ،سامبا،وجے پور،بشنا،سوچت گڑھ،آر ایس پورہ،باہو،جموں ایسٹ،نگروٹہ،جموں ویسٹ،جموں نارتھ،مڑھ،اکھنور،چھمب اور کالاکوٹ وسند ربنی اسمبلی نشستوں پر مشتمل ہے۔اس پارلیمانی اسمبلی نشست پر مجموعی طور پر6 نشستوں کو شیڈول کاسٹ و شیڈول ٹرائبوں کیلئے مخصوص رکھا گیا ہے جن میں گلاب گڑھ کی شیڈل ٹرائب اسمبلی نشست بھی شامل ہے۔ ماضی کے انتخابات پر اگر نظر دوڑائی جائے تو1967سے ہوئے 13انتخابات کے دوران کانگریس نے7مرتبہ اس نشست کو اپنے نام کر لیا ہے جبکہ بی جے پی نے4مرتبہ اور نیشنل کانفرنس نے ایک مرتبہ اس نشست پر فتح کے جھنڈے گاڑ دئیے ہیں۔کانگریس کیلئے یہ نشست ماضی میں مظبوط قلعہ رہی ہے اور سالہاسال اس پر اپنا قبضہ بھی جمایا ہے۔1962سے1967تک اس نشست پر پارلیمانی انتخابات نہ ہونے کے تناظر میں مرکزی حکومت نے اندرجیت ملہوترا کو نامزد کیا۔1967کے پارلیمنٹ الیکشن میں کانگریس کے آئی جی ملوترا نے بھارتیہ جن سنگ کے عبدالرحمان کو60ہزار کے قریب ووٹوں سے شکست دی جبکہ ان انتخابات میں ملوترا نے ایک لاکھ39ہزار36ووٹ حاصل کئے اور عبدالرحمان نے80ہزار868ووٹ حاصل کئے۔1971میں بھی کانگریس نے ہی نشست پر ایک مرتبہ پھر اپنی جیت درج کی جبکہ کانگریس کے اندرجیت ملوترا نے دوسری مرتبہ اپنے مدمقابل جن سنگھ کے ہی عبدارحمان کو تقریباً83ہزار ووٹوں سے کامیابی حاصل کی۔اس انتخاب میں آئی جی ملوترا نے مجموعی طور پرایک لاکھ69ہزار9ووٹ حاصل کئے جبکہ عبدالرحمان نے84ہزار213ووٹ حاصل کئے۔آزاد امیدوار ٹھاکر بلدیو سنگھ نے جموں پونچھ نشست پر1977میں کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے نیشنل کانفرنس کے بلراج پوری کو28ہزار کے قریب ووٹوں سے شکست دی۔بلراج پوری نے ایک لاکھ25ہزار898ووٹ حاصل کئے جبکہ بلدیو سنگھ نے ایک لاکھ53ہزار837ووٹ حاصل کئے۔ کانگریس کے گرداری لال ڈوگرہ نے1980کے انتخابات میں ایک مرتبہ پھر کانگریس کو اس نشست سے سرخرو کرایا۔ انہوں نے آزاد امیدوار بلدیو سنگھ کو بھاری اکثریت سے شکست دی۔گرداری لال ڈوگرہ نے2 لاکھ49ہزار760ووٹ حاصل کئے جبکہ انکے مد مقابل ٹھاکر بلدیو سنگھ نے ایک لاکھ25ہزار898 ووٹ حاصل کئے اور اس طرح سے قریب ایک لاکھ25ہزار ووٹوں سے کامابی حاصل کی۔ کانگریس نے چوتھی مرتبہ1984میں جموں پونچھ پارلیمانی حلقے پر فتح کے جھنڈے گاڑ دئیے جبکہ ان انتخابات میں کانگریس کے جنک راج گپتا نے اپنے مدمقابل نیشنل کانفرنس کے شبیر احمد سلاریہ کوایک لاکھ20ہزار کے قریب ووٹوں سے شکست دی۔جنک راج گپتا نے2لاکھ62ہزار796ووٹ حاصل کئے جبکہ شبیر سلاریہ نے ایک لاکھ42ہزار604ووٹ حاصل کئے۔جنکراج گپتا نے دوسری مرتبہ 1989میں اس نشست پر کانگریس کو جیت دلائی۔ انہوں نے جنتا دل کے آر ایس چب کو قریب 20ہزار ووٹوں سے شکست دے دی۔ جنک راج گپتا نے 2لاکھ 39ہزار 701ووٹ حاصل کئے جبکہ آر ایس چب نے 2لاکھ18ہزار6ووٹ حاصل کئے۔ 1996میں کانگریس کے منگت رام شرما نے بی جے پی کے وید وشنو دت کو قریب 47ہزارووٹوں سے شکست دے دی اور مجموعی طور پر اایک لاکھ 94ہزار228ووٹ حاصل کئے۔ وید وشنو دت نے ایک لاکھ 47ہزار495ووٹ ان انتخابات میں حاصل کئے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے 1998میں پہلی مرتبہ جموں نشست سے کامیابی حاصل کی۔انتخابات میں ایک لاکھ 28ہزار ووٹوں سے بی جے پی کے امیدوار وید وشنو دت نے کانگریس کے جنک راج گپتا کو شکست فاش کرایا۔ وید وشنو دت نے 3لاکھ 36ہزار 472جبکہ ان کے مد مقابل جنک راج گپتا نے 2لاکھ 8ہزار 57ووٹ حاصل کئے۔ بی جے پی کے کے وید وشنو دت نے دوسری مرتبہ 1999میں اس نشست پر نیشنل کانفرنس کے آر ایس چب کو 1999میں 42ہزار ووٹوں سے شکست دی۔ ان انتخابات میں آر ایس چب نے ایک لاکھ 47ہزار 393اور وی ڈی شرما نے 2لاکھ 89ہزار 412ووٹ حاصل کئے۔ 2002کے ضمنی انتخابات میں اس نشست پر نیشنل کانفرنس کے چودھری طالب حسین نے پہلی مرتبہ نیشنل کانفرنس کو فتح سے ہم کنار کرایا اور بی جے پی کے ڈاکٹر نرمل سنگھ کو تقریباً 55ہزار ووٹوں سے ہرایا۔ ڈاکٹر نرمل سنگھ نے مجموعی طورپر ایک لاکھ 98ہزار 402ووٹ حاصل کئے جبکہ چودھری طالب حسین نے 2لاکھ 53ہزار 891ووٹ حاصل کئے۔ 2004میں ہوئے پارلیمانی انتخابات کے دوران کانگریس کے مدن لال شرما نے بی جے پی کے امیدوار ڈاکٹر نرمل سنگھ کو تقریباً 17ہزار ووٹوں سے شکست دی اور یہ کہ اس انتخاب میں مدن لال شرما نے 3لاکھ 19ہزار 994ووٹ جبکہ نرمل سنگھ نے 3لاکھ 24ہزار 426ووٹ حاصل کئے۔ 2009کے پارلیمانی انتخابات میں ایک مرتبہ پھر مدن لال شرما نے اپنے مد مقابل بی جے پی کے لیلہ کرن کو ایک لاکھ 22ہزار ووٹوں سے شکست دے دی جبکہ مدن لال شرما نے 3لاکھ 82ہزار 305اور لیلہ کرن نے 2لاکھ 60ہزار 932ووٹ حاصل کئے۔ 2014کے انتخابات میں بھاجپا کے جگل کشور نے کانگریس کی ہیٹ ٹرک پر بریک لگاتے ہوئے کانگریس امیدوار مدن لال شرما کو2لاکھ57ہزار سے زائد ووٹوں سے شکست دی۔ جگل کشور نے6لاکھ19ہزار995ووٹ ھاصل کئے جبکہ انکے نزدیکی مد مقابل کانگریس کے مدن لال شرما نے3لاکھ62ہزار715اور پی ڈی پی کے یشپال شرما نے ایک لاکھ68ہزار 554ووٹ حاصل کئے۔2019کے پارلیمانی انتخابات میں بھاجپا امیدوار جگل کشور نے دوسری مرتبہ اس نشست پر جیت درج کرکے اپنے مد مقابل کو3لاکھ2ہزارسے زائد ووٹوں سے شکست فاش کیا۔ انتخابات میں جگل کشور نے8لاکھ58ہزار66ووٹ حاصل کئے جبکہ کانگریس کے امیدوار رمن بھلہ نے5لاکھ55ہزار191ووٹ اپنے نام کرائے۔










