vote

لداخ لوک سبھا انتخابی نشست سے بی جے پی کی دستبرداری کی افواہوں کے بعد

بھارتیہ جنتا پارٹی نے لداخ پارلیمانی سیٹ کیلئے ایڈوکیٹ تاشی کو نامزد کیا ہے

سرینگر///بھارتیہ جنتا پارٹی نے لوک سبھا نشست لداخ کیلئے ایڈوکیٹ تاشی گیلسن کو اپنا امیدوار نامزد کیا ہے ۔ تاہم کشمیر کی کسی بھی سیٹ کیلئے پارٹی نے کسی کا نام تجویز نہیں کیا ہے بلکہ دیگر ہم خیال جماعتوںکے امیدواروں کو تعاون دینے کا اشارہ دیا ہے ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق بی جے پی کی جانب سے لداخ نشست سے دستبر دار ہونے کی خبریں گشت کرنے کے بیچ منگل کو بی جے پی نے لداخ لوک سبھا انتخابی نشست کیلئے ایڈوکیٹ تاشی کو نامزد کیا ہے ۔ جبکہ لداخ کے موجودہ ایم پی جمیانگ سیرنگ نامگیال کا ٹکٹ پارٹی نے کاٹ دیا ہے۔بی جے پی نے منگل کو لداخ لوک سبھا سیٹ کے لیے اپنے امیدوار کا اعلان کر دیا ہے۔ اس بار بی جے پی نے تاشی گیلسن کو لداخ سیٹ کے لیے اپنا امیدوار قرار دیا ہے۔ لداخ کے موجودہ ایم پی جمیانگ سیرنگ نامگیال دوبارہ اس نشست پر انتخابات نہیں لڑیں گے بلکہ ان کے بدلے ایڈوکیٹ تاشی میدان میں اُتارے گئے ہیں ۔ ایڈوکیٹ تاشی گیلسن اس وقت لداخ ہل خود مختار ترقیاتی کونسل (LAHDC) لیہہ کے چیئرمین ہیں۔ اس بار انہیں پارلیمانی سیٹ کے لیے مضبوط دعویدار سمجھا جا رہا تھا اور آخر کار بی جے پی نے ان کے نام کو منظوری دے دی ہے۔ مارچ کے پہلے ہفتے میں لداخ پارلیمانی نشست کے لیے بلائی گئی ایک اہم میٹنگ میں اندرونی ووٹنگ کے ذریعے تین امیدواروں کے پینل کو حتمی شکل دی گئی۔اس میں موجودہ ایم پی جمیانگ سیرنگ نامگیال، ایل اے ایچ ڈی سی لیہہ کے صدر تاشی گیلسن اور چا حلقہ کے کونسلر سٹیجن لکپا کے نام شامل ہیں۔ ان میں سے تاشی کو امیدوار قرار دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پارٹی نے یہ قدم موجودہ رکن اسمبلی جمیانگ تسیرنگ نامگیال کی گرتی ہوئی مقبولیت کی وجہ سے اٹھایا ہے۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ کشمیر وادی میں کسی بھی نشست کیلئے ابھی تک پارٹی نے کسی امیدوار کو میدان میں نہیں اُتارا ہے جبکہ پارٹی کی جانب سے واضح طور پر اشارہ دیا گیا ہے کہ کشمیر میں کسی کو میدان میں نہیں اُتارا جائے گاا ور بی جے پی کسی ہم خیال جماعت کو اپنا تعاون فراہم کرے گی ۔