کسی بھی ملک کی جارحیت کو بھارت اب قبول نہیں کرے گا ۔ وزیر دفاع
سرینگر//وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے سوموار کو دنیا کے بلند ترین میدان جنگ سیاچن کا دورہ کیا اور اس علاقے میں ہندوستان کی مجموعی فوجی تیاریوں کا جائزہ لیا۔ راجناتھ سنگھ نے ایک ایسے وقت میں سیاچن کا دورہ کیا جب ایک ہفتہ قبل اس اسٹریٹجک لحاظ سے اہم علاقے میں ہندوستانی فوج کی موجودگی کو 40 سال مکمل ہو گئے۔اس موقعے پر وزیر دفاع نے ملک کی سلامتی کیلئے جن فوجیوں نے اپنی جانیں قربان کی ہیں ان کی قربانی کو فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ انہوںنے چین کا نام لئے بغیر کہا کہ بھارت کسی بھی ملک کی جارحیت کو قبول نہیں کرے گا اور ہر چلینج کا مقابلہ کرنے کی اہلیت رکھتا ہے ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے سوموار کو دنیا کے بلند ترین میدان جنگ سیاچن کا دورہ کیا اور اس علاقے میں ہندوستان کی مجموعی فوجی تیاریوں کا جائزہ لیا۔انہوںنے فوجی جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں ہولی کے موقعے پر نہیں آسکا تھا میں اب آپ کو مبارکباد دیتا ہوں ۔ انہوں نے بتایا کہ دنیا کے سب سے اونچے میدان جنگ میں بھارتی فوجیوں کا ولولہ اور ہمت کے ساتھ سرحدوں کی حفاظت کیلئے کھڑا رہنا پورے دیش کیلئے فخر کی بات ہے ۔ انہوںنے بتایا کہ آج ملک ترقی کررہا ہے اور ہر شہر ہر نکڑ آگے بڑھ رہا ہے ۔ ملک میں سکول ہوں یا کالج، ہسپتال ہوں یا کھیل کود کے میدان ، مندر مسجد ہوں یا گردوارے ہر جگہ پر لوگ معمول کی سرگرمیاں انجام دے رہے ہیں کیوں کہ آپ لوگ دیش کی حفاظت کیلئے یہاں اپنی دن اور رات گزار رہے ہیں ۔ انہوںنے بتایا کہ ہر فوجی جوان اور اس کا کنبہ ہمارے لئے خاص ہے اور جس طرح فوجی اہلکار ملک کی خدمت کرتے ہیں اسی طرح سرکار بھی فوجی جوانوں کی بہبود کیلئے پر عزم ہے ۔ راجناتھ سنگھ نے بتایا کہ بھارت کی سیاسی راجدھانی دلی ہے ۔ اقتصادی راجدھانی ممبئی ہے اسی طرح سیاچن فوجی راجدھانی ہے ۔آج ہی نہیں پانچ سال پہلے جب مجھے وزارت دفاع کا عہدہ ملا تھا کہ اسی وقت میں نے پلان کیا تھا کہ یہاں کا دورہ کریں اور اس کے ایک دن بعد ہم یہاں پر آئے تھے ۔13اپریل 1984کے دن آپریشن میگ دوت چلایا گیا جس کی چالیس سال پورے ہوئے ۔ یہ آپریشن سبھی بھارتیو ں کیلئے فخر کی بات ہے ۔ بھارت تہواروں کا دیش ہے ۔ہر تہوار اپنے پریوار میں منانے کا مزہ آتا ہے اور ہر تہوار پہلے سرحدوں پر منایا جانا چاہئے ۔ راجناتھ سنگھ نے ایک ایسے وقت میں سیاچن کا دورہ کیا جب ایک ہفتہ قبل اس اسٹریٹجک لحاظ سے اہم علاقے میں ہندوستانی فوج کی موجودگی کو 40 سال مکمل ہو گئے۔راجناتھ سنگھ نے سیاچن میں تعینات فوجیوں سے بھی بات کی۔ قراقرم پہاڑی سلسلے میں تقریباً 20,000 فٹ کی بلندی پر واقع سیاچن گلیشیئر کو دنیا کا سب سے اونچا عسکری علاقہ کہا جاتا ہے جہاں فوجیوں کو ٹھنڈ اور تیز ہواؤں سے نمٹنا پڑتا ہے۔وزیر دفاع نے آرمی چیف جنرل منوج پانڈے کے ساتھ علاقے کی مجموعی سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لیا۔حکام نے بتایا کہ وزیر دفاع نے آرمی چیف جنرل منوج پانڈے کے ساتھ علاقے کی مجموعی سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لیا۔ سنگھ نے سیاچن میں تعینات فوجیوں سے بھی بات کی۔ہندوستانی فوج نے اپریل 1984 میں ‘آپریشن میگھدوت’ کے تحت سیاچن گلیشیئر پر اپنا مکمل کنٹرول قائم کر لیا۔ بھارتی فوج نے گزشتہ چند سالوں میں سیاچن میں اپنی موجودگی کو مضبوط کیا ہے۔ گزشتہ سال جنوری میں فوج کی ‘کور آف انجینئرز’ کے کیپٹن شیوا چوہان کو سیاچن میں ایک فارورڈ پوسٹ پر تعینات کیا گیا تھا۔ اس بڑے میدان جنگ میں کسی خاتون فوجی افسر کی یہ پہلی آپریشنل تعیناتی ہے۔ایک فوجی افسر نے گزشتہ ہفتے کہا تھا، ’’سیاچن گلیشیئر پر ہندوستانی فوج کا کنٹرول نہ صرف بے مثال بہادری اور عزم کی داستان ہے، بلکہ تکنیکی ترقی اور لاجسٹک بہتری کا ایک ناقابل یقین سفر بھی ہے جس نے اسے ایک ایسے خطے سے سب سے زیادہ تبدیل کر دیا ہے جو اس پر مشتمل ہے۔ ناقابل تسخیر جذبے اور جدت کی علامت میں مضبوط خطوں کا۔










