باپ بیٹے سمیت لاپتہ تین افراد کی لاشیں ابھی نہیں ملی ، علاقہ کا ہر گھر سوگوار
سرینگر/ /بٹوارہ گنڈ بل علاقے میں پیش آئے واقعے کا ایک ہفتہ مکمل ہوچکا ہے اور ایک ہفتہ مکمل ہونے کے بعد بھی باپ بیٹے سمیت تین افراد کی لاشیں نہیں ملی ۔ ادھر ہفتہ بھر سے گنڈ بل کا علاقہ سوگوار بنا ہوا ہے اور ہر طرف آہیں اور سسکیاں سنائی دے رہی ہیں۔ کوئی باپ اپنے بیٹے کو صدائیں دے رہا ہے تو کوئی معصوم اپنی ماں کو ڈھونڈ رہا ہے ، آج بھی لوگ صبح دریائے جہلم کے کنارے پہنچتے ہیں اور شام کو مایوس ہوکر واپس چلے جاتے ہیں ۔ جبکہ این ڈی آر ایف ، ماہر خوطہ خوروں اور پولیس و دیگر رضاکاروں کی جانب سے لاپتہ افراد کی لاشیں ڈھونڈنے کی کارروائیاں جاری رکھیں تاہم آخری اطلاع ملنے تک کسی بھی شخص کی لاش بازیاب نہیں ہوئی ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق بٹوارہ گنڈ بل سانحہ کا ایک ہفتہ مکمل ہوگیا ہے اور ایک ہفتہ بعد بھی علاقہ کا ہر گھر ماتم کناں ہے ۔دریائے جہلم سے باپ بیٹے سمیت تین افراد کی لاشیں نکالنے کے لیے سرچ آپریشن ساتویں روز بھی جاری رہا ۔ 16اپریل گزشتہ منگل کو گنڈ بل بٹوارہ میں دریائے جہلم میں تقریباً 19 افراد کو لے جانے والی کشتی ڈوبنے کے بعد شروع ہونے والا ریسکیو آپریشن ساتویں روز بھی جاری رہا ۔ اس سانحے میں چھ افراد ڈوب کر ہلاک اور دس افراد زندہ بچ گئے۔باپ بیٹے سمیت تین افراد کی لاشوں کو نکالنے کے لیے ایس ڈی آر ایف، این ڈی آر ایف، پولیس، فوج کے علاوہ دیگر افراد کی ٹیمیں جو پانی سے لاشوں کو نکالنے میں مہارت رکھتی ہیں، اس آپریشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں مصروف ہیںذرائع نے بتایا کہ ریسکیو آپریشن اس وقت دریائے جہلم کے متعدد مقامات پر جاری ہے اور مختلف مقامات کی مکمل چھان بین کی جا رہی ہے تاکہ کشتی الٹنے کے بعد لاپتہ ہونے والے افراد کی لاشیں نکالی جا سکیں۔جن افراد کی لاشیں جہلم سے برآمد ہونا باقی ہیں ان میں ایک شخص شوکت احمد شیخ ولد عبدالغنی اور دو اسکولی بچے -حاذق شوکت ولد شوکت احمد اور فرحان وسیم پرے شامل ہیں – تمام گنڈبل، سری نگر کے رہنے والے ہیں۔ واضح رہے کہ رواں ماہ 16اپریل گزشتہ منگل کو بٹواہ گنڈہ بل میں منگل کی صبح اُس وقت قیامت صغریٰ بپا ہوئی جب 20افراد پر مشتمل ایک کشتی دریائے جہلم میں ڈوب گئی جس کے نتیجے میں کشتی میں سوار سکولی بچوں سمیت 6افراد کی موت واقع ہوئی ہے جبکہ تین ہنوز لاپتہ ہے اور پانے میں بہنے والے 10افراد کو بچالیا گیا ۔ واقعے کے فورا بعد ضلع انتظامیہ اور پولیس افسران کے ساتھ ساتھ این ڈی آر ایف کی ٹیموں نے بچائو کارروائیاں شروع کیں۔ عین شاہدین کا کہنا ہے کہ کشتی میں ایک درجن کے قریب طلبا سمیت 19افراد سوار تھے جن میں سے کشتی بان، خاتون سمیت تین افراد کسی طرح دریا کے کنارے پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔عین شاہدین نے بتایا کہ صبح سات بجکر 30منٹ پر گنڈ بل کے مقام پر ایک کشتی جس میں ایک درجن کے قریب طلبا ،مزدور اور دیگر افراد شامل تھے اچانک پانی میں الٹ گئی جس کی وجہ سے کشتی میں سوار سبھی افراد ڈوب گئے۔انہوں نے بتایا کہ کشتی بان، خاتون سمیت تین افراد کسی طرح دریائے جہلم کے کنارے تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے تاہم کشتی میں سوار دیگر افراد کو پانی کے تیز بہاو نے بہا کر لیا۔عین شاہدین نے نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران بتایا کہ کشتی میں لگ بھگ 20سے 25افراد سوار تھے جن میں 8سے 12طلبا، مزدور اور خواتین بھی شامل ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ صبح ساڑھے سات بجے واقع پیش آنے کے باوجود بھی ضلعی انتظامیہ سے وابستہ آفیسران اور ایس ڈی آر ایف کی ٹیمیں دس بجے جائے موقع پر پہنچے۔سٹی رپورٹر نے بتایا کہ پانی میں غرقآب ہوئے سات افراد کو فوری طورپر صدر ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم ڈاکٹروں نے دو بھائیوں سمیت چھ کو مردہ قرار دیا۔انہوں نے بتایا کہ گیارہ بجے کے قریب دو بھائیوں کی لاشیں آبائی علاقے پہنچائی گئی تاہم ان کی ماں بھی پانی میں غرقآب ہوئی اور ابھی تک اس کا کئی پر اتہ پتہ نہیں چل سکا ہے۔ادھر متوفین کی شناخت شبیر احمد بھٹ ولد بشیر احمد بٹ سکنہ گنڈ بل، رضیہ ولد غلام محمد گوجری سکنہ گنڈ بل، گلزار احمد ڈار ولد محمد جمال ڈار سکنہ گنڈ بل، فردوسہ دختر فیاض احمد ملک ساکن گنڈ بل، تنویر فیاض ولد فیاض ملک ساکنہ شیو پورہ، مدثر فیاض ولد فیاض ملک سکنہ شیو پورہ کے طور پر ہوئی ہے۔جبکہ مسرت بیگم ولد وسیم احمد پارے سکنہ گنڈ بل، ارشادہ بلال ولد بلال احمد زرگر سکنگ گنڈبل ، غلام نبی خان سکنہ برین نشاط ح گنڈبل، معراج الدین ڈار ولد عبد الخالق سکنہ گنڈیل، نور محمد عرف بند ولد عبد الخالق سکنہ گنڈ بل، عائشہ دختر بلال احمد زرگر سکنہ گنڈ بل، انشاء بلال دختر بلال احمد زرگر ، حمر یادختر شبیر احمد شیخ سکنہ گند بل، محمد رفیق بھٹ ولد محمد یوسف بھٹ سکنہ گنڈیل اور مشتاق احمد شیخ صلوح قادر سکنہ گنڈیل کو بچالیا گیا ہے۔ فرحان و سیم پرے ولد ار تیاز بھٹ سکنہ گنڈ بل، حاذق شوکت ولد شوکت احمد سکنہ گنڈ بل اور شوکت احمد شیخ ولدعبد الغنی سکنہ گنڈ بل ہنوز لاپتہ ہیںاور تینوں لاپتہ افراد کی لاشیں ڈھونڈنے کیلئے کارروائی جاری ہے جبکہ دریائے جہلم کے مختلف علاقوں میںسوموار کو بھی لاشیں ڈھونڈنے کا کام جاری رہا ۔










