پارلیمانی نشست اننت ناگ راجوری کیلئے کاغذات نامزدگی داخل کرنے کا سلسلہ جاری

نیشنل کانفرنس امیدوار میاں الطاف ابھی تک کے سب سے زیادہ دولت مند امیدوار بن کر ابھرے

مالی اثاثوں کے لحاظ سے محبوبہ مفتی کے پاس 45ہزار روپے نقد رقم ،بینک کھاتوں میں نمایاں ڈپازٹس 23,74,904 روپے

سرینگر // جموں و کشمیر میں لوک سبھا انتخابات 2024 کیلئے سیاسی جماعتیں اپنے اپنے امیدواروں کی جیت کو یقینی بنانے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہیں وہیں جنوبی کشمیر اور خطہ پیر پنچال کی انتخابی نشست اننت ناگ راجوری کیلئے نیشنل کانفرنس کے امیدوار میاں الطاف احمد نے کاغذات نامزدگی داخل کیے اور وہ اس نشست کے دیگر امیدواروں میں سے ابھی تک کے سب سے زیادہ دولت مند امیدوار بن کر ابھرے ہیں۔سی این آئی کے مطابق اننت ناگ راجوری لوک سبھا سیٹ کیلئے جہاں کاغذات نامزدگی داخل کرنے کا سلسلہ جاری ہے وہیں اس سیٹ پر ابھی تک جہاں پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی اور دیگر پارٹیوں کے امیدواروں نے اپنی نامزدگی داخل کی ان میں سے ابھی تک نیشنل کانفرنس کے لیڈر اور نامزد امید وار میاں الطاف سب سے زیادہ دولت مند امیدوار بن کر ابھرے ہیں۔کئی دہائیوں پر محیط ٹریک ریکارڈ کے ساتھ 66 سالہ میاں الطاف احمد نے نہ صرف سیاسی میدان میں ایک نمایاں مقام حاصل کیا ہے بلکہ گزشتہ برسوں میں انہوں نے کافی دولت بھی جمع کی ہے۔ گزشتہ پانچ مالی برسوں کے لیے ان کے اعلان کردہ انکم ٹیکس کی تفصیلات مسلسل ترقی کی رفتار کو ظاہر کرتی ہے۔ میاں الطاف نے پرچہ نامزدگی میں گزشتہ پانچ مالی برسوں میں اپنے انکم ٹیکس کے ریکارڈ کا ایک جامع بریک ڈائون پیش کیا ہے۔ ان کی اعلان کردہ آمدنی21,91,000 روپے تک ایک مستقل مالی حیثیت کو واضح کرتی ہے۔ مالی اثاثوں کے لحاظ سے میاں الطاف احمد کے پاس 1,50,000 روپے نقد ہیں۔ تاہم اس کی دولت کا بڑا حصہ بینک ڈپازٹس میں ہے، جس کی کل رقم 3,18,55,000 روپے ہے۔ اس کے علاوہ، اس کے پاس 11,25,000 روپے فکسڈ ڈپازٹ بھی ہیں۔ گاڑیوں کی بات کریں تو، تو میاں الطاف احمد کے پاس دو قابل ذکر موٹر گاڑیاں ہیں: ایک ماروتی جمنی، جس کی قیمت 13,00,000 روپے ہے اور ایک مہندرا اسکارپیو، جس کی قیمت 25,00,000 روپے ہے۔تاہم، یہ این سی امیدار کے غیر منقولہ اثاثے ہیں جو واقعی اس کے مالی قد کو نمایاں کرتے ہیں۔اس کے برعکس، انتخابات میں ایک اور نمایاں دعویدار جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی دی پی) کی صدر، محبوبہ مفتی، نے بالکل مختلف پروفائل پیش کیا ہے۔ جموں و کشمیر کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ کے طور پر خدمات انجام دینے کے علاوہ اپنے وسیع سیاسی تجربے کے باوجود، محبوبہ کے اعلان کردہ اثاثے میاں الطاف کے مقابلے میں کافی ہلکے ہیں۔نامزدگی کے عمل کے ایک حصے کے طور پر جمع کرائے گئے دستاویز کے مطابق، محبوبہ مفتی، جو میاں الطاف کی طرح کشمیر یونیورسٹی سے لاء گریجویٹ ہیں، نے گزشتہ پانچ مالی برسوں کے دوران اپنی انکم ٹیکس فائلنگ کا ایک جامع بریک ڈائون فراہم کیا ہے۔ اعداد و شمار اس کی ٹیکس فائلنگ میں قابل ذکر اضافہ کو ظاہر کرتے ہیں۔مالی اثاثوں کے لحاظ سے محبوبہ کے پاس 45,000 روپے نقد رقم ہے اور ان کے پاس مختلف بینک کھاتوں میں نمایاں ڈپازٹس ہیں، جو کل 23,74,904 روپے ہیں۔ مزید یکہ اس کے پاس 11,94,963 روپے کی انشورنس پالیسیاں بھی ہیں۔ گاڑیوں کے اثاثوں میں محبوبہ کے پاس ایک بس (اسوزو) ہے جس کی مالیت 5,00,000 روپے ہے۔منقولہ اثاثوں کے علاوہ محبوبہ کے پاس غیر منقولہ اثاثے بھی ہیں، جن میں اننت ناگ کے بجبہاڑہ میں واقع ایک رہائشی مکان بھی شامل ہے، جس کی تخمینہ قیمت 35 لاکھ روپے ہے۔ اپنے اثاثوں کے باوجود محبوبہ نے کوئی واجبات کا اعلان نہیں کیا اور اپنی آمدنی کا ذریعہ پنشن/تنخواہ کے طور پر درج کیا ہے۔ ان کے مالی انکشافات کے علاوہ، محبوبہ مفتی کی سیاسی رفتار قابل ذکر ہے۔ انہوں نے 2016 میں جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ کا کردار سنبھالنے سے پہلے لوک سبھا میں دو بار اننت ناگ کی نمائندگی کرتے ہوئے پارلیمنٹ کی رکن کے طور پر خدمات انجام ددی ہیں۔