کچا روڑ ہونے کی وجہ سے سیاحوں کو شدید مشکلات
سرینگر/ //جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے پہلگام سے بائسرن علاقے تک پہنچنے کیلئے اگرچہ فٹ پاتھ ہے تاہم گھوڑے والے سیاحوں کو لیکر پہلگام سے بائسرن کیلئے فٹ پاتھ کو چھوڑ کر کچے راستے سے چھوٹے راستے کو چنتے ہیں جس کی وجہ سے سیاحوں کی جان کو خطرہ لاحق ہے سیاحوں اور مقامی لوگوںنے پہلگام سے بائسرن تک پکا روڑ بنانے کا مطالبہ کیا ہے ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق وادی بائسرن پہلگام سے کئی کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے جس کیلئے پختہ فٹ پاتھ بنایا گیا ہے تاہم پہلگام میں قریب تین ہزار گھوڑے بان ہے جو فٹ پاتھ کو چھوڑ کر چارٹ کٹ راستہ اختیار کرتے ہوئے بائسرن سیاحوں کو گھوڑے پر لے جاتے ہیں لیکن یہ راستہ خطرہ سے کم نہیں ہے اور اب تک درجنوں ایسے واقعات رونماء ہوئے ہیں جن میں گھوڑوں سے گر کر سیاح زخمی ہوئے ہیں ۔ا س کے ساتھ ساتھ بائسرن تک جانے والی پینے کے صاف پانی کی پائپوں کو بھی گھوڑوں کی ٹاپوں سے نقصان پہنچا ہے اور یہ جنگلاتی علاقہ کیچڑ میں تبدی ہوا ہے جو چلنے کیلئے زیادہ مشکل پیدا کرتا ہے ۔ وی او آئی نمائندے امان ملک کے ساتھ بات کرتے ہوئے کئی سیاحوں جن میں ایک سیاح گرمیت سنگھ رینا نے بتایا کہ گھوڑوں پر جنگلاتی علاقہ سے گزرنا کسی خطرے سے کم نہیں ہے ۔ ادھر مقامی لوگوںنے بھی مطالبہ کا ہے کہ بائسرن تک پکا روڑ تعمیر کیا جائے تاکہ سیاحون کو اس جگہ پہنچنے میں کوئی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔










