دودھ کی پیداوار میں پلوامہ ضلع اول مقام پر

کشمیر دودھ کی پیداوار میں خود کفیل ،ہر ماہ لاکھوں لیٹر دودھ بیرون وادی برآمد ہوتا ہے

سرینگر///وادی کشمیر دودھ کی پیدوار میں خود کفیل بن گئی ہے پہلے بیرون وادی سے دودھ درآمد کیا جاتا تھا لیکن اب وادی کشمیر میں دودھ کی پیداوار میں اضافہ کے نتیجے میں ماہانہ لاکھوں لیٹر دودھ برآمد کیا جاتا ہے۔ وائس آف انڈیا کے مطابق محکمہ انمل ہسبنڈی کی کاوشوں کے نتیجے میں وادی کشمیر دودھ کی پیداوار میں خود کفیل بن چکی ہے۔ محکمہ کی جانب سے بے روزگار نوجوانوں کو جو سرکاری سکیم کے تحت میویشی فراہم کئے جارہے ہیںاس سے دودھ کی پیدوار میں کافی اضافہ ہواہے اس کے علاوہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو روزگار بھی فراہم ہورہا ہے۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ رواں برس کے مارچ مہینے تک وادی کیلئے دودھ کی سپلائی بیرون وادی سے برآمد ہوا کرتی تھی جن میں سے زیادہ تر دودھ گرداس پور پنجاب، جموں کے مختلف اضلاع سے حاصل کیاجاتا تھا تاہم مارچ کے بعد وادی میں دودھ کی پیدوارا میں خواطر خواہ اضافہ ہوارہا ہے راوں برس۔محکمہ نے اب تک 1690 ٹن دودھ بیرون وادی سپلائی کئے ہیں جبکہ گزشتہ تین مینوں میں ہر ماہ قریب دو لاکھ لیٹر دودھ بیرون وادی بھیج دیا گیا۔ اس ضمن میں ڈاکٹر تنصیف جو کہ لور منڈا چیک پوسٹ پر تعینات ہیں نے وی او آئی نمائندے امان ملک کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ کی جانب سے ہر ماہ دو لاکھ سے زائد دودھ بیرون وادی برآمد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ انمل ہسبنڈی کی جانب سے متعدد سکیمیں رائج کی جاچکی ہیں جن سے استفادہ حاصل کرکے بے روز گار نوجوانوں نے مویشی پالن سے ایک تو اپنے لئے روزگار کا وسیلہ پیدا کیا ہے دوسرادودھ کی پیداوار میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ادھر محکمہ نے بتایا ہے کہ یہاں پر کافی بے روزگاری ہے خاص کر تعلیم یافتہ نوجوان جو سرکاری نوکریں کے چکر میں اپنا وقت ضائع کررہے ہیں بے روزگاری کی زندگی گزاررہے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ ایسے نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ سرکاری سکیموں سے استفادہ حاصل کریں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ انمل ہسبنڈی کے پاس کافی سکیمیں ہیں جن سے نوجوان ایک تو خود روزگار حاصل کرسکتے ہیںاور دوسرے لوگوں کو بھی روزگار فراہم کرسکتے ہیں۔کشمیر دودھ کی پیداوار میں خود کفیل ،ہر ماہ لاکھوں لیٹر دودھ بیرون وادی برآمد ہوتا ہے۔