ڈیڈلائن میں3ماہ کے عرصے کے بیچ صرف8فیصد رقومات کا تصرف
سرینگر//سمارٹ سرینگر سینگر کے تحت شہر خاص میں پروجیکٹ پر عرصہ دراز سے کام جاری رہنے کے بیچ پروجیکٹ کو مکمل کرنے کی حتمی تاریخ میں صرف اب تین ماہ رہ گئے ہیں جبکہ اب تک پائین شہر میںمختص بجٹ میں صرف8فیصد رقومات کا ہی تصرف عمل میں لایا گیا ہے۔ وائس آف انڈیا کے مطابق گرمائی دارالحکومت میں سمارٹ سٹی پروجیکٹ کے تحت کئی علاقوں میں سست رفتاری اور کئی میں شد و مد سے جہاں کام جاری ہے،وہی شہر خاص میں بیشتر پروجیکٹ نامکمل ہے اور کام کی رفتار و آثار و قرائن سے صاف نظر آرہا ہے کہ پائین شہر میں بیشتر پرتوجیکٹوں کی ڈیڈ لائن فوت ہوگی۔ سرینگر سمارٹ سٹی کے تحت پائین شہر میں ترقیاتی وتعمیراتی پروجیکٹوں کیلئے161کروڑ69لاکھ روپے کی رقم مختص کی گئی تھی،تاہم مارچ تک اس رقم میں صرف13کروڑ47لاکھ روپے کو خرچ کیا گیا۔ سرینگر سمارٹ سٹی لمیٹیڈ کی سینٹرل پبلک انفارمیشن افسر یامنہ الماس کا تاہم کہنا ہے کہ تمام پروجیکٹوں کو مکمل کرنے کی آزمائشی ڈیڈ لائن جون2024ہے،اور ڈیڈ لائن تک کام مکمل کرنے کیلئے سرعت سے کام جاری ہے۔ان کا کہنا ہے کہ تمام زیر تعمیر پروجیکٹوں کو بروقت مکمل کرنے کے عمل کو یقینی بنانے کیلئے تمام تر کاوشوں کو بروائے کار لایا جا رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا’’ متعلقین کو اعتماد میں لیا جا رہا ہے اور میٹنگوں کا اہتمام بھی متواتر کیا جا رتا ہے تاکہ سمارٹ سٹی پروجیکٹ کے تحت مختلف کاموں پر تبادلہ خیال کیا جائے،اور ان سے انکی رائے اور تاثرات معلوم ہوسکے‘‘۔انہوں نے مزید کہا’’ جو تعمیراتی ٹھیکدار اور ادارے جو سرینگر سمارٹ سٹی پروجیکٹوں کو مکمل کرنے میں تاخیر کرئنگے،ان کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی‘‘۔ مذکورہ افسر نے بتایا کہ ان میٹنگوں کو سرینگر سمارٹ سٹی مشاورتی فورم کی میٹنگوں کا نام دیا جاتا ہے،جن میں سرینگر کے ممبر پارلیمنٹ،سرینگر کے میئر،سرینگر شہر میں مختلف محکموں کے سربرہاں،تاجر برداری بشمول،کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹرئز،پی ایچ ڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹرئز اور ’کے ٹی اے‘ شامل ہیں،جبکہ ان کے علاوہ سائنس دانوں،مشیروں،ماہرین تعلیم اور انجینئروں کو بھی اس میں شمال کیا جاتا ہے۔ یامنہ الماس نے بتایا کہ اس کے علاوہ سرینگر سمارٹ سٹی لمیٹیڈ عام شہریوں کے ساتھ بھی میٹنگوں اور ورکشاپوںکا انعقاد کرتی ہے،اور ان کے ساتھ تفصیلات کا اشتراک کرکے ان کے تاثرات کو حاصل کیا جاتا ہے۔سمارٹ سٹی لمیٹیڈ کا کہنا ہے کہ ہر پروجیکٹ کو منظور شدہ ’ڈی پی آر ‘کے مطابق عمل میں لایا گیا اور اس کے بعد وقتاً فوقتاً بورڈ آف ڈائریکٹروںکی منظوری ملی۔سمارٹ سٹی لمیٹیڈعالمگیر رسائی کے تحت منصوبوں کی منصوبہ بندی اور ان پر عمل درآمد کے دوران، رکاوٹ سے پاک ماحول اور صنفی شمولیت پر ہمیشہ زور دیا گیا ہے۔الماس کا کہنا تھا کہ مختلف طور پر معذور افراد کے لیے سہولیات کو یقینی بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات عمل میں لائے گئے ہیں جن میںبصارت سے محروم لوگوں کی نقل و حرکت کے لیے ٹیکٹائل، گراؤنڈ کور انڈیکیٹروں سمیت مکمل عوامی سہولیات جیسے بیت الخلا، بس اسٹاپ، ای بسوں کے مقامات وغیرہ پر ریمپ و غیرہ شامل ہیں۔ سرینگر سمارٹ سٹی پروجیکٹ کو31مارچ2023تک499کروڑ65 لاکھ روپے کا بجٹ موصول ہوا،جس میں سے462کروڑ29لاکھ روپے کا تصرف عمل میں لایا گیا۔یامنہ الماس کے مطابق فی الوقت تک سرینگر سمارت سٹی کے تحت137پروجیکٹوں میں سے90پروجیکٹوں کو294کروڑ37لاکھ روپے کی رقم سے مکمل کیا گیا ہے۔ مکمل شدہ پروجیکٹوں میں آئی ٹی کی بنیاد پر پارکنگ سہولیات سمیت11پارکنگ،جن میں7 سڑکوں پر پارکنگ سہولیات بھی شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ جدید سہولیات سے لیس343بس اسٹاپوں کے علاوہ33بیت الخلاء بھی تعمیر کئے جا رہے ہیں جن میں سے20کو مکمل کیا گیا ہے۔










