لوگ سرکاری سکولوں میں بچوں کے داخلہ سے کرتے ہیں گریز
سرینگر///خطہ پیر پنچال میں سرکاری سکولوں میں تعلیمی نظام درہم برہم رہنے اور اساتذہ کی بلا ضرورت غیر حاضری کے سبب والدین اب سرکاری سکولوںمیں بچوں کا داخلہ کرنے سے گریز کررہے ہیں اور جو طلبہ سکولوں میں داخل ہیں ان کو بھی سکولوں سے نکالنے کی سوچ رہے ہیں۔ وائس آف انڈیا کے مطابق محکمہ تعلیم کے افیسران کی کمزوری کے باعث سرحدی و پسماندہ خطہ پیر پنجال کے دونوں اضلع رجوری پونچھ میں معیاری تعلیم سے یہاں کے غریب ماں باپ بچے محرم جس کے باعث سرکاری سکولوں میں دن بدن بچوں کی تعداد کم ہونا باعث تشویش۔اگر یہی حالت رہی تو وہ دن دور نہیں کہ لوگ اپنے بچوں کو سرکاری سکولوں میں داخل کروانا ہی چھوڑ دئے یادرہے کہ بہت سارے اج بھی ایسے ہیں کہ جن میں بچے کم اور استاد زیادہ ہیں عام لوگوں کا کہنا ہے کہ خود استادوں نے اپنے بچوں کو بڑے بڑے پرائیویٹ سکولوں میں داخلے کروائے ہوئے ہیں اور غریب اور بے سہاروں ماں باپ کے بچوں کی زندگیاں برباد کرنے پر تولے ہوئے ہیں۔عوام نے وی او آئی نمائندے امان ملک کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ تعلیم خطہ کے بچوں کو معیاری تعلیم دینے میں بوری طرح ناکام ہوچکا ہے یہ صرف نام کا محکمہ ہی رہ گیا ہے خطہ کے استادوں نے اپنے تبادلے شہروں میں کروا کر اپنے بچوں کو پرائیویٹ سکولوں میں معیاری تعلیم حاصل کروا رہے ہیں اور سکولوں کی عمارتوں کا یہ حشر ہے کہ بچوں کے بیٹھنے کے لئے کہیں کہیں پر ایک کمرہ بھی دستیاب ہے جس کی مثال کلابن پرائمری سکول ہے اسطرح کی بہت ساری مثال ضلع پونچھ کے اندر موجود ہیں مگر بڑے افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑرہا ہے کہ سرکاری کی جانب سے کھربوں روپے سکولوں کی عمارتوں کو تعمیر کرنے کے لئے واگزار ہوئے مگر متعلقہ محکمہ کی ملی بھگت سے کاغذوں کی خانہ پوری کر کے ہڑپ ہو چکے جس کو آج تک کسی بھی سرکار نے پوچھ تک نہیں ہے کیونکہ انکاوری کرنے والے ملازمین بھی محمکہ تعلیم کے ہی تھے کیونکہ جب پورا محکمہ ہی ملا ہو تو فکر کس بات کی سرکاری خازنہ کو دو دو ہاتھوں سے لوٹا کر بچوں کی زندگیوں کو برباد کیا ہے انہوں نے کہ ہم نے کہی بار سرکار سے اپیل کی کہ محکمہ تعلیم کو پرائیویٹ سیکٹر میں دیا جائے تاکہ سرکاری سکولوں کا نظام درست ہوسکے اور کم از کم استاد سکولوں میں روزنہ حاضر ہونے کے پابند ہوسکیں اور سرکاری سکولوں میں ایک معیاری تعلیم دینے کا ماحول بن سکے مگر ایسا نہ کر کے سرکار نے خطہ کے مزلوم زیر تعلیم بچوں کے ساتھ بہت بڑی ناانصافی کی ہے۔










